Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 12:34 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

موددی کو ’گنگوتیلی‘ کہنے والااب بی جے پی میں

 

بی جے پی کے لیڈر لال سنگھ نے لوک سبھا میں انتخاب میں مودی پر جم کر کی تھی طعنے بازی ، اپوزیشن لیڈر کے طور پر مودی پر کیا تھا حملہ : لا ل سنگھ

جموں،23نومبر( ایجنسیاں) جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کا آغاز 25 نومبر سے ہونے والا ہے، لیکن بسولی اسمبلی حلقہ سے بی جے پی امیدوار لال سنگھ کے 7 منٹ کے ویڈیوکلپ سے طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔لوک سبھا انتخابات کے دوران لال سنگھ مودی پر لال پیلے ہوتے ہوئے ٹی وی کیمروں میں قید ہو گئے تھے۔ لال سنگھ تب مودی پر اس قدر سرخ ہوئے تھے کہ آج ان کو صفائی دینے میں پسینے چھوٹ رہے ہیں۔
اس اسمبلی انتخابات میں لال سنگھ بسولی سے بی جے پی امیدوار ہیں۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران وہ جموں میں کانگریس کے بڑے لیڈروں میں شمار تھے۔ اسی دوران انہوں نے مودی کو بے حد قابل اعتراض زبان میں کھری کھوٹی سنائی تھی۔ اسی سال اگست میں سنگھ بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ اب جب وہ بی جے پی میں ہیں تب کے ویڈیو ان کیلئے اور بی جے پی کیلئے شرمندگیکا سامان لیکر آیا ہے ۔ سنگھ کے ویڈیو میں مودی کیلئے بے حد قابل اعتراض زبان استعمال کیاگیا ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ راہل گاندھی سے مودی کے مقابلے نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بی جے پی رہنماؤں کے بیک گراؤنڈ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ہم تو کتا اور بیل بھی خریدتے ہیں تو ان کی نسل دیکھتے ہیں۔
لال سنگھ اس ویڈیو میں کہہ رہے ہیں،’کہاں راجا بھوج کہاں گنگو تیلی ‘ کہاں مودی کو ملا رہے ہو راہل گاندھی کے ساتھ؟ ہم تو کتا بھی رکھتے ہیں تو اس کی نسل دیکھتے ہیں بھائی۔ جانور رکھتے ہیں نا؟ 
لال سنگھ 18 سے 20 سال تک کانگریس میں رہے۔ اس ویڈیو میں لال سنگھ اب جس کے نام پر رکن اسمبلی بننا چاہتے ہیں اس پر حملہ بولنے میں عزت کی ساری حدیں توڑ دی تھیں۔ سنگھ نے اس ویڈیو میں کہا ہے،’مجھے تب عجیب لگتا ہے جب مودی کچھ بھی کہتا ہے اور پبلک بھروسہ کر لیتی ہے۔ میں حیران رہا ہوں کہ وہ شخص خود کو خدا کی طرح پیش کر رہا ہے۔ مجھے بڑا افسوس ہے کہ یہ مودی اب کچھ بھی کہتا ہے۔ پہلے رام بنے تھے۔ آپ کو یاد نہیں، پہلے اڈوانی نے رتھ یاترا نکالی، رام بننے چلے ... اب جو لیڈر خدا بنے گا، وہ کبھی پرائم منسٹر بنے گا؟ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ کوئی نہیں بن پائے گا۔ اب آ گئے مودی صاحب۔ میں دیکھ رہا تھا، سر پر تاج رکھا ہوا، ایک ہاتھ میں سدرشن سائیکل۔ شکل دیکھی اس کی، خدا کرشن بن رہا ہے۔ ہمارے ہندوؤں کو بھی بات سمجھ مں نہیں آ رہی ... ہمارے لوگوں کی شرافت ہے کہ اپنے خدا کو ان کے آگے ...‘
اب لال سنگھ مکمل طور پر بیک فٹ پر ہیں۔ جب ان سے مودی پر قابل اعتراض تبصرے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں مودی جی کی مذمت تب حزب اختلاف کے رہنما کے طور پر کر رہا تھا۔ الیکشن کے دوران ہم اپوزیشن رہنماؤں پر کئی باتیں کہتے ہیں۔ مجھے الیکشن جیتنا تھا اس لئے ایسا کہا، لیکن اب اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment