Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 11:51 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

مودی سرکار کے چھ ماہ

 

وزیر اعظم پھر سے سارک سربراہان کی مصاحبت میں کھڑے ہونے کو تیار

نئی دہلی، 23 نومبر (یو این آئی) یہ ایک اتفاق ضرور ہے ، لیکن دلچسپ بات ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنی حکومت کے چھ ماہ مکمل ہونے کی خوشی 26 نومبر کو انہی سارک سربراہان مملکت کے ساتھ منائیں گے جنہوں نے26 مئی کو راشٹر پتی بھون کے سبزہ زار پر ان کی حلف برداری کی تقریب کا مشاہدہ کیا تھا۔ گزشتہ 26 مئی کو پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سمیت سات سارک سربراہان مملکت کو مسٹر مودی کی زیر قیادت قومی جمہوری محاذ (این ڈی اے) حکومت کی حلف برداری تقریب میں مدعو کیا گیا تھا جو مودی سرکار کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی کا آغاز ثابت ہوئی تھی۔ ملک کی قیادت کا منصب سنبھالنے کے چھ ماہ بعد مسٹر نریندر مودی ایک بار پھر سارک سربراہان کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے، مگر اس بار مقام تبدیل ہوکر کاٹھمنڈو ہوگا۔چھ ما ہ قبل حلف برداری تقریب کی اہم جھلک پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی موجودگی تھی جس سے ہندو پاک کے درمیان رشتوں میں نئی زندگی پیدا ہوگئی تھی۔ مگر اس بار دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی کوششیں برعکس سمتوں میں گامزن ہیں اور لگتا ہے دونوں ملکوں کے وزراء اعظم کی ملاقات پر بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔بین الاقوامی سرحد کی دونوں جانب اور ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات نیز دونوں طرف سے جاری ہونے والے بیانات کے نتیجے میں آپسی تعلقات اس حد تک ناگوار ہوچکے ہیں دونوں لیڈران کے ہاتھ ملانے کا امکان تو دور کی بات، نظر سے نظر ملانے کا امکان بھی کم ہی ہے۔ نئی حکومت کے پہلے چھ ماہ مسٹر نریندر مودی کے لئے بہت مصروف عرصہ ثابت ہوا ہے جو ہر تیسرے روز اوسطا کم سے کم ایک عالمی لیڈر سے ملاقات کرتے رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ وزیر اعظم نے اب تک 60 سے زیادہ سربراہان مملکت یا سرکارے نمائندوں سے ملاقات کرچکے ہیں۔وزیر اعظم خود متعدد غیر ملکی دورے پر جا چکے ہیں ، جن میں برکس چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لئے برازیل کا دورہ اہم ہے۔ مسٹر نریندر مودی امریکہ کا بھی دورہ کرچکے ہیں جہاں وہ صدر بارک اوبامہ کے خصوصی مہمان بنے تھے اور انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ وہ حال ہی میں میانمار ، آسٹریلیا اور فیجی کے سہ ملکی دس روزہ دورہ سے واپس لوٹے ہیں۔ میانمار میں مسٹر مودی نے چین کے وزیر اعظم لی کیپئنگ سمیت کم سے کم 10 ملکوں کے لیڈروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ انہو ں ہندآسیان کانفرنس اور مشرق بعید کانفرنس سے علاحدہ طورپر متعدد غیر رسمی ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ اپنے آسٹریلیا دورہ کے دوران بھی مسٹر مودی نے متعدد عالمی لیڈروں کیساتھ ایک درج سے زیادہ ملاقاتیں کی ہیں اور اس کے بعد فیجی کی راجدھانی سووا میں اسپیسفک کے 12 جزائر کے لیڈروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ مسٹر نریندر مودی چھ ماہ کے مختصر عرصہ میں دوسری بار نیپال کا دورہ کررہے ہیں ، اس سے پہلے وہ اگست کے پہلے ہفتے میں اس کوہ ہمالیہ کے دامن میں بسے ملک کا پہلا دورہ کرچکے ہیں۔ دلچسپ طورپر، این ڈی اے حکومت کے پہلے وزیر اعظم مسٹر اٹل بہاری واجپئی نے بھی اپنی چھ سال کی مدت کار میں 34 ملکوں کو دورہ کیا تھا، جبکہ یوپی اے حکومت کے وزیر ا عظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپنی ایک دہائی طویل مدت کار میں تقریبا 71 ممالک کا دورہ کیا ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment