Today: Tuesday, September, 25, 2018 Last Update: 06:57 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

کانگریس کے اقتدار میں کم رہتا ہے ہندو-مسلم فسادات کا خطرہ

 

اسمبلی انتخابات کے نتائج کے تناظر میں ییل یونیورسٹی کے ریسرچ پیپر سے سامنے آئی بات، کانگریس کمیونل ٹینشن کامرکز: سرکار ، موجودہ سرکار فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیخلاف: کانگریس

محمداحمد

نئی دہلی ،22نومبر( ایس ٹی بیورو) ییل یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اسمبلی انتخابات میں کانگریس ممبران اسمبلی کے منتخب ہونے سے ہندو- مسلم فسادات کا خدشہ کم ہے۔ یونیورسٹی نے اپنے ریسرچ پیپر ’کیا فسادات کیلئے پارٹیوں سے فرق پڑتا ہے؟ ہندوستان سے ثبوت‘میں یہ دعوی کیا گیا ہے۔ ییل یونیورسٹی نے اپنی ریسرچ میں 1962 سے 2000 تک کے اعداد و شمار کا مطالعہ کیا ہے۔ اس ریسرچ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان 40 سالوں میں اگر کانگریس نہ جیتتی تو ہندوستان میں ہندو -مسلم فسادات 10 فیصد زیادہ ہوتے۔
گیرتھ نیلسے، میکیل ویورج اورا سٹیون روجینسویگ نے اس رپورٹ میں لکھا ہے،’ہمارے اندازہ کے مطابق کانگریس ممبر اسمبلی کے منتخب ہونے سے پہلے کے مقابلے میں ایک ضلع میں فسادات کا خدشہ 32 فیصد کم ہے‘۔ اگرچہ ریسرچرز نے واضح کیا ہے کہ ان کا اندازہ صرف اسمبلی انتخابات پر مبنی ہے اور وہ نہیں کہہ سکتے کہ دوسرے انتخابات میں بھی یہی تجزیہ صحیح ہوگا۔
اس ریسرچ کے مطابق ان 40 سالوں میں کانگریس اگر کسی انتخابات میں شکست کھا جاتی تو بھارت میں 10 فیصد زیادہ ہندو مسلم فسادات (998 کے مقابلے میں 1118) ہوتے۔ اس کے ساتھ ہی 46 فیصد زیادہ جانیں (30 ہزار کی جگہ 43 ہزار) بھی جاتیں ۔ییل یونیورسٹی کے ریسرچرس نے اس نتیجے تک پہنچنے کیلئے 1962 سے 2000 تک کے ہندو -مسلم فسادات کے اعداد و شمار، اسمبلی انتخابات کے نتائج اور ضلع کی آبادی کی صورت حال کا مطالعہ کیاہے ۔ اس کیلئے کانگریس کی حکمرانی والے ہندوستان کے 17 ریاستوں کے 315 اضلاع میں ہندو- مسلم فسادات کا مطالعہ بھی کیا گیا۔خیال رہے کہ یہ ریسرچ پیپر کل 20صفحات پر مشتمل ہے ۔
اِدھر سرکار نے کانگریس پارٹی کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’کمیونل ٹینشن کا مرکز ہمیشہ سے کانگریس پارٹی ہی رہی ہے‘ ۔ اقلیتی معاملوں کے مرکزی وزیرمملکت مختار عباس نقوی نے سیاسی تقدیر سے بات چیت میں کہا کہ ’ یہ لوگوں کا اپنا اپنا سروے ہے اس پر ہم کیا کمنٹ کیا کریں ، لیکن کمیونل ٹینشن کا مرکز کانگریس پارٹی ہی رہی ہے‘۔
تاہم کانگریس پارٹی کے مرکزی ترجمان اور دہلی سمیت دیگر ریاستوں کے انتخابی معاملوں کے انچارج ڈاکٹر شکیل احمد نے کہا کہ’ سروے نے بھی کانگریس پارٹی کی ملک دوست پالیسیوں پر مہر لگائی یہ بڑی خوشی کی بات ہے ۔ کانگریس پارٹی کی یہ پالیسی رہی ہے کہ سب کو ساتھ لیکر چلا جائے اور یارانہ ماحول برقرار رکھا جائے ۔ ملک کی سالمیت سے کو ئی سمجھوتہ نہ کیا جائے ، کیونکہ فرقہ وارانہ کشید کی وجہ سے ہی ایک بار ملک تقسیم ہو چکا ہے ۔ آزادی کی لڑائی سے قبل اور بعد ہمیشہ کانگریس کی یہ پالیسی رہی ہے کہ جمہوریت اور آزادی کے ماحول میں لوگوں کو جینے کا موقع فراہم کرایا جائے ‘۔ ڈاکٹر شکیل احمد نے مزید کہا کہ ’ آج جو حکمراں ہیں وہ اس فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیخلاف ہیں ۔ جسکا ملک کے لوگوں کو احسا س ہوگیا ہے کہ انہیں بہلا کر ملک کے مفاد کیخلاف ووٹ لے لیا گیا ۔ انتظار کی گھڑی ختم ہو رہی ہے ۔ لوگ دوبارہ کانگریس پارٹی کیطرف لوٹ رہے ہیں'۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment