Today: Monday, November, 19, 2018 Last Update: 10:46 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

ہندوستان میں ادویات کے خلاف مزاحم ٹی بی کے بڑھتے اثر کا حل تلاش کرنا ضروری

 

آگرہ کے جے پی پلیس ہوٹل میں این سی سی پی اورآئی سی ایس کی16ویں مشترکہ قومی کانفرنس ’نیپکان2014‘کی افتتاحی تقریب میں مہمانِ خصوصی وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کا اظہار خیال،جان لیوا امراض کیلئے کم قیمت علاج کی سہولیات مہیا کرائے جانے کی ضرروت: پروفیسر محمد مزمل

فہمیدہ پروین

علی گڑھ، 21؍نومبر(ایس ٹی بیورو) نیشنل کالج آف چیسٹ فزیشینس( این سی سی پی) اور انڈین چیسٹ سوسائٹی(آئی سی ایس) کی16ویں مشترکہ قومی کانفرنس ’’نیپکان۔2014‘‘ کا افتتاح مہمانِ خصوصی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ ( ریٹائرڈ) نے آگرہ کے جے پی پلیس ہوٹل میں کیا۔ اس کانفرنس کا انعقادعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے ٹی بی اینڈ ریسپائریٹری ڈسیز شعبہ اورآگرہ کے ایس این میڈیکل کالج کے مشترکہ تعاون سے عمل میں آیا۔کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے جنرل ضمیر الدین شاہ نے کہا کہ ہندوستان میں ادویات کے خلاف مزاحم ٹی بی( ڈرگ ریزسٹینس ٹی بی ) کا اثر بڑھ رہا ہے جس کا جلد سے جلد حل تلاش کیاجانا ضروری ہے۔ انہوں نے جے این میڈیکل کالج کے ذریعہ ملک کے مختلف علاقوں میں کئے جا رہے کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کالج مختلف امراض کے تدارک میں پیش پیش رہا ہے۔ جنرل شاہ نے کہا کہ صوبے میں پولیو کے تدارک میں جے این میڈیکل کالج کا اہم رول رہا ہے۔ انہوں نے اے ایم یو میں نینو ٹیکنالوجی کے میدان میں کئے جا رہے تحقیقی عمل پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں دوسرا سبز انقلاب لانے میں یہ تحقیقی عمل معاون ثابت ہوں گے۔ڈاکٹر بی آر امبیڈکر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد مزمل نے کہا کہ ہندوستان میں غریبی کے سبب لوگ مہنگا علاج کرانے سے معذور ہیں۔ انہوں نے جان لیوا امراض کے علاج کے لئے کم قیمت علاج کی سہولیات مہیا کرائے جانے کی ضرروت پرزور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غریبوں کو بہتر علاج مہیا ہوسکے گا۔ پروفیسر مزمل نے ملک میں میڈیکل کی تعلیم اور میڈیکل خدمات میں آپسی روابط پربھی زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ سائنس کو انسانی سرمایہ کے تناظر میں پیش کیاگیا ہے جس کا مطلب ہے کہ سائنس کو انسانیت کی خدمت کرنی ہے۔جے این میڈیکل کالج کے پرنسپل اور سی ا یم ایس پروفیسرطارق منصور نے کہا کہ ٹی بی ایک قومی چیلنج ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تنفس سے متعلق امراض کے علاج میں سرجنس اور مائیکرو بایولوجسٹس بھی اہم ادا کرسکتے ہیں۔کانفرنس کے آرگنائزنگ سدر ڈاکٹر اے ایس سچان نے کہا کہ اس اہم کانفرنس میں ایسے اہم موضوعات پر گفت و شنید ہوگی جو نوجوان معالجین کے لئے کافی معاون ثابت ہوں گے۔این سی سی پی کے سکریٹری پروفیسر ایس این گوڑ نے بتایا کہ این سی سی پی کے 1588اراکین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این سی سی پی نے نئے شرکاء کے لئے پانچ ہزار روپیہ کی رقم منظور کی ہے اور یہ اراکین کو سفری سہولیات مہیا کرانے پر بھی سنجیدگی کے ساتھ غور کر رہی ہے۔آئی سی ایس کے سکریٹری ڈاکٹر جے کے سمادھیا نے بتایا کہ آئی سی ایس تنفس کے امراض کے تعلق سے معلومات جمع کرنے اور ان کو پھیلانے کے لئے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے تربیتی سرگرمیوں کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوسائٹی نئے شرکاء کے لئے ہفتہ وارانہ شورٹ ٹرم کورس شروع کر چکی ہے۔کانفرنس کے آرگنائزنگ سکریٹری پروفیسر راکیش بھارگو نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض یونیورسٹی ہیلتھ سروس میں سی ایم ایس ڈاکٹر شارق عقیل نے انجام دئے۔اس موقعہ پر ڈاکٹر سنتوش کمار، پروفیسر اجے اگروال، ڈاکٹر محمد صابر، پروفیسر راجندر پرساد، پروفیسر ایس کے کٹیار، ڈاکٹر ایس کے لوہیابھی موجود تھے۔افتتاحی تقریب میں معالجین کو مختلف میدانوں میں قابلِ ذکر تعاون پر سرفراز بھی کیاگیا۔ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پروفیسر پی اے شنکر کو دیا گیا۔ پروگرام میں میڈیکل سائنس کی دو کتابوں اور یادگاری مجلہ کا اجراء بھی عمل میں آیا۔

...


Advertisment

Advertisment