Today: Thursday, September, 20, 2018 Last Update: 02:19 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اردودل کے جذبات کو اداکرتی ہے، اس لئے وہ کبھی ختم نہیں ہوسکتی:پروفیسرابن کنول

 

اعتدال وتوازن کے ساتھ جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال کرناچاہیے:پروفیسراخترالواسع*کریسنٹ اسکول کے زیراہتمام ’ گیارہواں انٹراسکول اردومباحثہ برائے کریسنٹ غالب رننگ ٹرافی‘کا انعقاد

نئی دہلی، 19نومبر (ایس ٹی بیورو)اردودل کے جذبات کو اداکرتی ہے، اس لئے وہ کبھی ختم نہیں ہوسکتی ہے اور جس زبان کو سیکھنے والے اتنی بڑی تعدادمیں موجود ہوں،اس کے بارے یہ کہناکہ یہ زبان ختم ہورہی ہے،کسی طرح صحیح نہیں،اردودل کے جذبات کو اداکرتی ہے اس لیے وہ کبھی ختم نہیں ہوسکتی ہے۔ ان خیالات کااظہار شعبۂ اردودہلی یونیورسٹی کے صدر پروفیسر ابن کنول نے ایوان غالب میں کریسنٹ اسکول کے زیراہتمام منعقدہ گیارہواں انٹراسکول اردومباحثہ برائے کریسنٹ غالب رننگ ٹرافی کے انعقاد کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہاکہ آزادی کے بعد کچھ دہائیوں تک اس زبان کی طرف لوگوں کی توجہ کم تھی،لیکن آج اکیسویں صدی میں اردوکی حالت بہت بہترہے،بڑی تعداد میں طلبہ وطالبات دہلی یونیورسٹی کے شعبہائے اردومیں داخلہ لے رہے ہیں۔پروفیسر ابن کنول نے مزیدکہاکہ اردوکے طلباء کبھی احساس کمتری کا شکار نہ ہوں،ہر زبان کا حال یہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ اگر آپ اپنی ماں سے محبت کرتے ہیں،تو اپنے مادری زبان کی حفاظت بھی کرنی ہوگی اور آپ کی مادری زبان اردوہے اوریادرکھیں کہ اردوزبان میں وہ طاقت ہے جو دنیاکی تمام زبانوں کے لہجے اداکرسکتی ہے۔اس موقع پر پروفیسر کنول نے طلبہ وطالبات کومباحثہ کے آداب اورالفاظ کی اصلاح وتلفظ کی تصحیح پر خاص تاکید کی۔کمشنربرائے لسانی اقلیات حکومت پروفیسراخترالواسع نے جدید ذرائع ابلاغ سے کوئی راہ فرار نہیں ہے بلکہ ہمیں اعتدال اورتوازن کے ساتھ اس کا استعمال کرناچاہیے۔آج کے چیلنجزکا سچائی اورحوصلہ کے ساتھ مقابلہ کرناچاہیے اورمثبت نظریہ فکر کے ساتھ اس کا استعمال کرناچاہیے۔انھوں نے کہاکہ منتخبہ دونوں موضوعات کا ہماری عصری اورعملی زندگی پر بڑاگہرااثرہے اورآج یہ پوری دنیامیں موضوع بحث بھی ہے۔واضح رہے کہ مباحثہ دوزمروں پر مشتمل تھا۔سنیئرزمرہ نویں تابارہویں کا موضوع’ذرائع اطلاعات نے ذہنوں کو کندکیاہے اورجونیئرزمرہ چھٹے تاآٹھویں کاموضوع ’اشتہارات کی چکاچوند نے ضروری اورغیرضروری کے فرق کو مٹادیاہے‘تھا۔ان دونوں موضوعات پر مباحثہ میں تقریباً12اسکولوں کے سنیئراورجونیئرطلبہ وطالبات نے حصہ لیا۔نظامت کے فرائض کریسنٹ اسکول دریاگنج شعبۂ اردوکی صدر ڈاکٹرنکہت پروین نے انجام دیاجبکہ فیصل کے فرائض شعبہ اردودہلی یونیورسٹی کے استادداکٹرارشاد نیازی،ڈاکٹراحمدامتیاز اورسینٹ اسٹیفن کالج کے استاد ڈاکٹرشمیم احمدنے انجام دیا۔مباحثہ کے بعد ڈاکٹرشمیم احمدنے نتائج کا اعلان کیا۔جس میں جونیئرزمرے میں پہلاانعام زیداحمدکریسنٹ اسکول دریاگنج،دوسراطہورا کریسنٹ اسکول دریاگنج اورتیسراانعام رمشہ ناز کریسنٹ اسکول مومپور نے حاصل کیا۔سینئرزمرے میں پہلاانعام اینگلوعربک اسکول کے طالب محمدصائم،دوسراکریسنٹ اسکول دریاگنج کی طالبہ زینب فاطمہ اورتیسراانعام جامعہ ملیہ اسلامیہ اسکول کی طالبہ زینب ناہید نے حاصل کیا۔دونوں زمرے میں دوحوصلہ افزائی انعامات رکھے گئے تھے ،جس میں سے جونیئرزمرے میں پہلاحوصلہ افزائی انعام اینگلوعربک اسکول کے طالب محمدارسلان احمد اوردوسراانعام محمدشعیب کریسنٹ اسکول موجپورنے اورسنیئرزمرے میں پہلاحوصلہ افزائی انعام حسان ناصر کریسنٹ اسکول دریاگنج اوردوسراانعام مہویش معراج اینگلوعربک اسکول نے حاصل کیاجبکہ غالب رننگ ٹرافی بھی اینگلوعربک اسکول کے حصے میںآئی۔اخیرمیں دریاگنج کریسنٹ اسکول کی پرنسپل سنبلہ نقوی نے تمام حاضرین اور مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔اس موقع پر اسکولوں کے اساتذہ کے علاوہ عبدالحنان چاندنہ،محمدیوسف،سبط منورعباسی اورشعیب اکرم خاص طور سے موجود تھے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment