Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 01:23 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

رمن سنگھ نے نس بندی معاملے میں مزید نقصان کو روکنے میں جھونکی پوری طاقت


رائے پور، 17 نومبر (یو این آئی) چھتیس گڑھ کے بلاسپور میں نس بندی معاملہ سے ہونے والی اموات کے بعد حکومت کے چاروں طرف سے تنقید کا نشانہ بننے کے بعد وزیراعلی ڈاکٹر رمن سنگھ نے اس واقعہ سے ہونے والے مزید نقصان روکنے میں اپنی پوری طاقت لگا دی ہے۔وزیراعلی ڈاکٹر رمن سنگھ نے بلاسپور کے پینڈاری میں نس بندی آپریشن سے ہونے والی اموات کے بعد حکومت کی تنقید اور وزیر صحت امر اگروال کے استعفی نہیں دینے پر بضد رہنے کے بعد نقصان کی بھرپائی کے لئے تیزی سے دوسرے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ وہ مسلسل میٹنگ کررہے ہیں اور ہر دن کوئی نہ کوئی فیصلہ کرکے عوامی غصہ کو کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔بہرحال وزیراعلی کی پہل اور کارروائی ڈاکٹروں، متاثر ہ کنبوں اور دوا بنانے والی کمپنی کے خلاف تک کی محدود رہی ہے۔ انہوں نے اب تک اس واقعہ کے لئے ذمہ دار اس وقت صحت خدمات کو چلانے والے، بلاسپور کے ڈویزنل کمشنر اور کلکٹر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ وزیر صحت کو نہ ہٹانے اور آئی اے ایس افسروں کو بچانے کی وجہ سے اپوزیشن ہی نہیں عام لوگ بھی ان پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔فی الحال کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کے بلاسپور کے دورے اور کانگریس کے لیڈروں کے ذریعہ متاثرہ بچوں کو گود لینے کی پہلی کے درمیان وزیراعلی نے کل یہاں ایک اعلی سطحی میٹنگ کرکے مرنے والی خواتین کے بچوں کو گود لینے کا فیصلہ کیا۔ ریاستی حکومت ان بچوں کے بالغ ہونے تک انہیں گود لے گی۔ریاستی حکومت متاثرہ بچوں کے نام پر دو لاکھ روپے کا فکس ڈپازٹ کرائے گی، بالغ ہونے کے تک ان کی تعلیم کا خرچ برداشت کرے گی اور ان کا سرکاری اسپتالوں کے ساتھ ساتھ بلاسپور کے اپولو اسپتال میں 18 برس تک مفت علاج ہوگا جس کے لئے ان کا ہیلتھ کارڈ بنایا جائے گا۔ڈاکٹر سنگھ کی ہدایت پر کل ہی دوا کمپنی مہاور فارما کو مبینہ طورپر تحفظ دینے کے الزام میں ڈپٹی ڈرگ کنٹرولر ہیمنت سریواستو کو معطل کردیا گیا۔ بلاسپور کے جوائنٹ ڈائرکٹر امر سنگھ ٹھاکر کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔ نس بندی آپریشن کرنے والے ڈاکٹروں کو پہلے ہی برخاست کیا جاچکا ہے۔وزیراعلی نے واقعہ کے بعد دو بار بلاسپور خود جاکر اسپتالوں میں داخل خواتین کی عیادت کرچکے ہیں اور ان کے چیف سکریٹری امن سنگھ باقاعدگی کے ساتھ ان کی صحت اور علاج کے بارے میں معلوم کررہے ہیں ۔ اس سے قبل وزیراعلی نے آنکھوں کی روشنی جانے کے واقعہ سمیت ان تمام معاملات کی جانچ میں ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات طلب کی ہیں جسے اپوزیشن خاص طورپر اٹھا رہا ہے۔وزیراعلی کی نقصان کو کنٹرول میں کرنے کی ان کوششوں کے درمیان پہلی بار انہیں پارٹی کا مضبوط ساتھ ملتا نظر نہیں آرہا ہے ۔ محلوں تک کے مسئلوں پر بیان دینی کے لئے آسانی سے الیکٹرونک چینلوں میں نظر آنے والے ریاستی بی جے پی کے عہدیداروں اور لیڈروں نے خاموشی اختیار کرلی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر دھرم کوشک جو خود ضلع بلاسپور سے تعلق ہے وہ بھی اپوزیشن کے حملے کے بعد خاموش ہوگئے ہیں۔ وہیں دوسری طرف اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس پوری طرح متحد ہوکر سرکار کو کٹھہرے میں کھڑا کرنے میں مصروف ہے۔ کانگریس کی سرگرمی سے یہ قومی معاملہ بن گیا ہے۔ کانگریس کینائب صدر مسٹر گاندھی خود متاثرین سے ملاقات کرچکے ہیں ۔ مہیلا کانگریس کی قومی صدر شو بھا اوجھا بھی متاثرین کی عیادت کرچکی ہے۔ریاستی کانگریس کی صدر بھوپیش بگھیل حکومت کے اقدامات پر مسلسل سوال اٹھا رہے ہیں ۔ کانگریس اس معاملے میں بلاسپور سے راجدھانی رائے پور تک پدیاترا بھی نکالنے والی ہے۔ کانگر یس کے ان اقدامات کے سبب گیارہ برسوں میں پہلی بار عام لوگ وزیراعلی ڈاکٹر رامن سنگھ کی طریقہ کار پر سوال اٹھاتے سنے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلی کی سخاوت اور چھوٹ سے نوکر شاہی بے لگام اور غیر ذمہ دار ہوچکی ہے جس کے نتیجہ میں اس طرح کے واقعات ہورہے ہیں۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment