Today: Tuesday, November, 13, 2018 Last Update: 09:49 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

تلنگانہ اسمبلی کے بجٹ سیشن کے نویں دن بھی ہنگامہ آرائی


کانگریس کے ارکان نے حال ہی میں حکمراں جماعت ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے اس کے بعض ارکان کو نااہل قرار دینے کیلئے پارٹی کی جانب سے دی گئی درخواست پر فوری کارروائی کرنے کے مطالبہ پر کارروائی منگل تک ملتوی
حیدرآباد،17نومبر(یو این آئی)تلنگانہ اسمبلی کے بجٹ سیشن کے (9) ویں دن بھی ہنگامہ آرائی اور گڑ بڑ دیکھی گئی ۔ آج صبح کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی اسپیکر مدھو سدن چاری نے وقفہ سوالات شروع کرنے کا اعلان کیا تاہم کانگریس کے ارکان نے حال ہی میں حکمراں جماعت ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے اس کے بعض ارکان کو نااہل قرار دینے کیلئے پارٹی کی جانب سے دی گئی درخواست پر فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا اور ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ کانگریس ارکان کی گڑ بڑ کے سبب کارروائی میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور وقفہ سوالات شروع نہ ہوسکا ۔ اسی دوران وزیرپارلیمانی امور ہریش راؤ نے کہا کہ ایوان کی کارروائی کو طے کرنے والی بزنس اڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں یہ کہا گیا تھا کہ وقفہ سوالات کے بعد کسی بھی مسئلہ کو ایوان میں اٹھایا جائے گا لیکن کانگریس اس مسئلہ پر ہنگامہ آرائی کررہی ہے جو مناسب بات نہیں ہے ۔ اسی دوران وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے ایوان میں کانگریس ارکان کے رویہ پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کانگریس ارکان کا رویہ اس طرح ہے جس طرح سو چوہے کھاکر بلی حج کو چلی۔ انہوں نے کہا کہ جب سال دو ہزار چار اور دو ہزار نو میں ٹی آر ایس کے ارکان کو اس وقت کی حکمراں جماعت کانگریس نے اپنی پارٹی میں شامل کیا تھا تو اس وقت کیوں یہ پارٹی خاموش تھی ۔ ایوان میں کانگریس ارکان کی مسلسل گڑ بڑ اور ہنگامہ آرائی جاری رہی جس کو دیکھتے ہوئے اسپیکر نے دس منٹ کیلئے کارروائی کو ملتوی کردیا ۔ ایوان کی کارروائی جب دوبارہ شروع ہوئی تو کانگریس ارکان نے اپنا شور و غل جاری رکھا جس پر ہریش راؤ نے کہا کہ ایوان میں گڑ بڑ کرنا مناسب نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اندرا گاندھی سے لے کر منموہن سنگھ تک کانگریس نے کئی پارٹیوں کو توڑا ہے ۔ اندرا گاندھی نے تلگودیشم میں دراڑ پیدا کرکے این بھاسکر راؤ کو وزیراعلی بننے میں مدد کی تھی ۔ اسی دوران منموہن سنگھ نے امریکہ سے نیو کلیئر معاہدہ کی تائید میں کئی جماعتوں کو اپنی طرف کیا تھا اور اس مسئلہ پر کئی جماعتوں کو توڑا بھی گیا تھا ۔ ایوان میں کانگریس ارکان نے اپنا شور و غل جاری رکھا ‘ اسپیکر نے ان ارکان کو خاموش کرانے کی کوشش کی جو ناکام رہی جس کے بعد ایوان کی کارروائی کو دوسری مرتبہ آدھے گھنٹے کیلئے ملتوی کیا گیا ۔ایوان کی کاروائی جب تیسری مرتبہ شروع ہوئی تو اسپیکر نے مختلف جماعتوں کی جانب سے پیش کر دہ تحریک التواکو نامنظور کر دیاجس پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان نے ان تحریکات التوا پر مباحث کروانے کامطالبہ کیااور احتجاج کرنے لگے۔اسپیکر نے ایوان میں گڑبڑکوروکنے اور ایوان کی کاروائی چلانے میں تعاون کرنے کی ان احتجاجی ارکان سے اپیل کی تاہم ان ارکان نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنا احتجاج جاری رکھا جس کے بعد اسپیکر نے کاروائی کو کل تک کے لیے ملتوی کر دیا۔ اسی دوران کانگریس کے رکن اسمبلی جیون ریڈی نے کہا ہے کہ وزیراعلی کے چندرشیکھر راو جمہوریت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔انہوں نے میڈیا پوائنٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کی کارروائی جاری رہنے کے دوران کسی بھی جماعت کے رکن اسمبلی کو پارٹی میں شامل کرنا اور پارٹی کو تبدیل کرنے کے لیے راغب کرنا شرم کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ میں کبھی ایسا وزیراعلی نہیں رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کے طور پر کے چندرشیکھر راو نے دستور کی خلاف ورزی کی ہے اور بہ حیثیت ٹی آ رایس سربراہ انہوں نے الیکشن کمیشن کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس اس مسئلہ پر گورنر ای ایس ایل نرسمہن سے شکایت کرے گی اور ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے کانگریس ارکان کو ایوان سے نااہل قرار دینے تک ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر اس مسئلہ پر سپریم کورٹ میں بھی عرضی داخل کی جائے گی۔دوسری طرف بی جے پی کے فلور لیڈر لکشمن نے کہا ہے کہ پارٹی تبدیل کرنا غیر جمہوری عمل ہے۔انہوں نے میڈیا پوائنٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی تبدیل کرنے والے پہلے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی وزرا کی یہ دلیل مناسب نہیں ہے کہ جو وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے کیا تھا وہ کام حکمران جماعت کر رہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکمران جماعت ایوان پر حاوی ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ سی پی آئی کے رکن اسمبلی رویندر نے بھی کہا کہ دوسری جماعتوں کے ارکان کو کانگریس میں شامل کرنے کے لیے اس وقت کے وزیراعلی راج شیکھر ریڈی نے جو بھی کیا تھا اس کو دیگر جماعتیں اپنا رہی ہیں۔ انہوں نے میڈیا پوائنٹ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ راج شیکھر ریڈی نے جو بیج بویا تھا دوسری جماعتیں اس کو فروغ دے رہی ہیں ۔ انہوں نے پارٹی تبدیل کرنے کا عمل غیر جمہوری ہے اس پر روک لگانی چاہئے ۔ جو ارکان بھی پارٹی تبدیل کرنا چاہتے ہیں وہ پہلے اپنی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیں ۔ اسی دوران حکمران جماعت ٹی آ رایس نے حال ہی میں کانگریس سے حکمران جماعت ٹی آ ر ایس میں کانگریس ارکان کی شمولیت کو حق بجانب قرار دیا۔ٹی آ رایس کے رکن اسمبلی رمیش نے کہا ہے کہ ایوان میں کانگریس ارکان کی جانب سے شور وغل کرنا مناسب بات نہیں ہے۔ انہوں نے میڈیا پوائنٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جماعتوں کے ارکان کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے آپریشن آکرش نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے جب اپنے دور میں ٹی آرایس کے ارکان کو راغب کیا تھا اور ان کو اپنی پارٹی میں شامل کیا تھا اس وقت حکمران جماعت کانگریس کے ارکان نے ایوان میں میزیں تھپتھپاکر اس کا خیرمقدم کیا تھا۔اس وقت یہ کام ٹی آر ایس کو کمزور کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ آج جب کانگریس کے ارکان اسمبلی ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں تو یہ ہنگامہ آرائی کیوں کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے فلاحی کاموں کو دیکھتے ہوئے ہی کانگریس کے ارکان ٹی آ رایس میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔

 

...


Advertisment

Advertisment