Today: Tuesday, September, 25, 2018 Last Update: 06:24 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

مسلم سائنس دانوں کے کارناموں کو اجاگر کرنے کی ضرورت

 

دہلی کے پہلے مسلم ڈاکٹرس کے کنونشن میں مقررین کا اظہار خیال

نئی دہلی، 17 نومبر (یوا ین آئی) مسلم سائنس دانوں کی تحقیقات اور ان کے کارنا موں کو آگے بڑھایا گیا ہوتا تو مسلمانوں کی حالت طب و سائنس کے میدان میں اتنی ابتر نہ ہوتی۔ ان خیالات کا اظہار دہلی میں منعقدہ مسلم ڈاکٹرس کانفرنس میں مقررین نے کیا۔مشہور ڈاکٹر اور صدر جمہوریہ کے معالج محسن والی نے اس موقع پر اسلام اور میڈیسن پر اپنا خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے ہر چیز میں شفا رکھی ہے اور مختلف چیزوں کو بیماری کے لئے کارآمدبنائی ہے اور ہمارے حکمانے اس سلسلے میں بہت کام کیا ہے لیکن بدقسمتی سے اس سلسلے کو آگے نہیں بڑھایا گیا جس کی وجہ سے اس میں انجماد کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ڈاکٹر مشرف حسین نے طبی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور خاص طور پر مسلم معاشرے میں ڈاکٹروں کی بے حد کمی ہے ۔ مسلمانوں نے اس سلسلے میں زیادہ توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے ہمیں صحت کے لئے دوسروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے بس صرف عزم کی ضرورت ہے۔پٹنہ کے حئی اسپتال کے بانی ڈاکٹر عبدالحئی نے جو ایسوسی ایشن آف مسلم ڈاکٹرس کے بانی بھی ہیں، نے کہا کہ اسلام میں صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے لیکن مسلم علاقوں میں ہی آپ کو سب سے زیادہ گندگی نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں اس سب سے زیادہ زور صفائی اور صحت دینا چاہئے کیوں کہ یہ بہتر زندگی کے بہت ہی اہم ہے۔ایسوسی ایشن آف مسلم ڈاکٹرس کے دہلی این سی آر چیپٹر کے آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر محمد حسن نے کہا کہ مسلمانوں میں طب کے سلسلے میں زمینی سطح پر کام نہیں ہورہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ زمینی سطح پر کام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تنظیم کے تحت جامعہ نگر میں بہت جلد بلنڈ بینک اور سپرلیپ قائم کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ اس سپر لیب میں تمام بیماریوں کی تشخیص کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مسلم علاقے میں گندگی کی وجہ سے ڈینگو اور دیگر بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ مسلم ڈاکٹرس اس سلسلے میں خود پہل کرتے ہوئے سماج کو بیدار کریں گے ۔ انہوں نے اس موقع پر ایک میڈیکل طالبہ کو بھی گود لیا جو طبی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر تھی۔انہوں نے کہاکہ مادہ پرستی کے اس دور میں کنونشن میں مسلم ڈاکٹرس کو مسلم سماج کے تئیں ان کیا رول ہونا چاہئے اور زندگی اور صفائی کے تئیں ان کے فرائض کی یاد دہانی کرائی گئی۔ انہوں نے کہاکہ اس کنونشن میں اسپتال اور میڈیکل کالج کھو لنے پر بھی غور و خوض کیا گیا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹروں کو اس بات پر آمادہ کیا گیا کہ وہ اپنے علاقے میں مفت طبی کیمپ لگائیں اور ہفتہ میں ایک دن غریبوں کے لئے وقف کریں تاکہ ان غریبوں کا علاج ہوسکے جو پیسے کی قلت کی وجہ سے اپنا علاج نہیں کراپارہے ہیں۔اس موقع پر مسلم ڈاکٹر س کے ممبران نے تنظیم کو دہلی میں مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلم علاقے میں طبی خدمات فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں جن میں مفت طبی کیمپ بھی شامل ہے۔ اس موقع پر کئی ڈاکٹروں نے مقالے بھی پیش کئے۔ جس میں مسلمانوں کی سائنس اور طب کے میدان خدمات کا ذکر کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ مسلمانوں طب اور سائنس کے میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں جس کی روشنی میں اہل یوروپ نے کافی ترقی کی اور ہم نے اسے ترک کردیا جس کی وجہ سے ہم کافی پیچھے رہ گئے۔ مسلم ڈاکٹرس کے علاوہ اس کے اہم شرکا میں ڈاکٹر اے آر قدوائی، جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر ڈاکٹر غلام نبی قاضی، جسٹس فخر الدین، راجیہ سبھا کے ایم پی علی انور، کمال فاروقی، ڈاکٹر عبدالخلیق، ڈاکٹر محمد یونس، ڈاکٹر محمد انظار اور ڈاکٹر جمیل وغیرہ نے شرکت کی۔ اس ایسوسی ایشن کا دہلی میں پہلاکنونشن میں تھا جو جامعہ ہمدرد میں منعقد ہوا۔ ڈاکٹر محمد حسن نے حاضرین اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment