Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 05:06 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

جموں وکشمیر اسمبلی انتخابات


سردی کے باوجود سیاسی گہماگہمی اور جوڑ توڑ کا سلسلہ عروج پر
سری نگر ، 16 نومبر (یو این آئی) ریاست جموں وکشمیر جہاں آئندہ ہونے والے پانچ مرحلوں پر مبنی اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں پہلے مرحلے کی پولنگ میں اب محض 9 دن باقی ہیں ، ٹھٹھرتی سردی کے باوجود سیاسی گہماگہمی اور جوڑ توڑ کا سلسلہ اپنے عروج پر ہے۔ ریاست کی سب سے بڑی سیاسی جماعتوں بشمول نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور قومی سطح کی سیاسی جماعتوں جیسے کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست میں اپنی بنیادیں مضبوط کرنے اور رائے دہندگان کو تعمیر وترقی اور بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے نام پر لبھانے کی کوششوں میں لگ گئی ہیں۔ بعض سیاسی جماعتیں ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کیلئے مکاں و زماں کی نذاکت کو ملحوظ خاطر رکھ کر مختلف ہتھکنڈے اپنارہی ہیں۔ جیسے وادی کشمیر میں مسئلہ کشمیر، دفعہ 370 ، مبینہ کالے قوانین کی منسوخی، سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری ، جموں خطے میں جموں واسیوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافیوں، اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کا راگ الاپنے اور خطہ لداخ میں تعمیر و ترقی کا جال بچھانے، کرگل اسکردو روڑ کھولنے کے نام پر ووٹ حاصل کرنے میں مصروف ہو گئی ہیں۔ سیاسی جماعتیں تعمیر وترقی کے ایجنڈوں کو رائے دہندگان تک پہنچانے کیلئے انتخابی جلسوں کا انعقاد کررہی ہیں، انتخابی ریلیوں کے دوران بجنے والے نغموں کا سہارا لیا جارہا ہے اور اخبارات و الیکٹرانک و سوشل میڈیا کے ذریعے رائے دہندگان کو لبھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اگرچہ نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی، بی جے پی اور کانگریس نے اسمبلی انتخابات کیلئے اپنے امیدواروں کے ناموں کے اعلانات کا سلسلہ قریب قریب اختتام کو پہنچایا تاہم دوسری چھوٹی سیاسی جماعتوں کی جانب سے امیدواروں کے ناموں کے اعلانات کا سلسلہ جاری ہے۔ ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے تعلق سے ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اب چونکہ پہلی مرحلے کی پولنگ میں اب محض 9 دن بچے ہیں تاہم ابھی تک کسی بھی سیاسی جماعت نے اپنے انتخابی منشور کو جاری نہیں کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست میں قریب قریب سبھی جماعتوں کے انتخابی منشور تیار ہیں تاہم نامعلوم وجوہات کی بناء پر سیاسی جماعتیں اِن کی اجرائی عمل میں نہیں لارہی ہیں۔بہر کیف جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ریاست میں سیاسی جوڑ توڑ اور حمایت حاصل کرنے کا سلسلہ اپنے عروج پر ہے۔ جہاں سیاسی لیڈران کا انتخابات لڑنے کا ٹکٹ نہ ملنے پر ناراضگی کے اظہار کے طور پر ایک سیاسی جماعت کو خیر آباد کہہ کر دوسری سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے وہیں ریاست کی چھوٹی چھوٹی سیاسی جماعتوں اور اقلیتی طبقوں کا ریاست و قومی سطح کی بڑی جماعتوں کے ساتھ ضم ہونے اور مکمل حمایت دینے کے اعلانات سامنے آرہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیری پنڈتوں کی مدد سے وادی کشمیر میں اپنی جیت کا کھاتہ کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق 13 نومبر کو کشمیری پنڈتوں کی تنظیم پنن کشمیر‘کی طرف سے جاری کیا گیا بیان اِس بات کا عکاس ہے۔ پنن کشمیر نے اپنے بیان میں ریاست جموں وکشمیر میں آنے والے اسمبلی انتخابات کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں حمایت کی پنڈت برادری سے اپیل کی تھی ۔ پنن کشمیر تنظیم کے صدر اشونی کمار چرنگو نے بیان میں کہا کہ پنن کشمیر بی جے پی کی طرف سے کھڑے کئے گئے امیدواروں کی مکمل حمایت کرتی ہے اور لوگوں سے بالعموم اور کشمیری پنڈتوں سے بالخصوص اِن امیدواروں کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتی ہے‘‘۔ وادی کشمیر میں بی جے پی کی نظریں جن اسمبلی حلقوں پر ٹکی ہوئی ہیں اْن میں حبہ کدل، ترال، امیرا کدل، سوپور اور خانیار شامل ہیں۔
جہاں 1990 سے قبل پنڈتوں کی اچھی خاصی تعداد رہائش پزیر تھی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اِن اسمبلی حلقوں میں الیکشن بائیکاٹ کا خاصا اثر رہا تو یہ سیٹیں بی جے پی کی جھولی میں جاسکتی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ بی جے پی پہلے ہی پنڈت تنظیموں کی مکمل حمایت حاصل کرچکی ہے اور اب پنڈت تنظیمیں رائے دہندگان کو اپنا ووٹ بی جے پی کیلئے استعمال کرنے کیلئے کہہ رہی ہیں۔دوسری جانب وادی کشمیر میں سکھ طبقہ نے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ساتھ سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کے حق میں حمایت کا کھلم کھلا اعلان کردیا۔ کل یہاں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کْل جماعتی سکھ کوآرڈنیشن کمیٹی نے دعویٰ کیا کہ سکھ برادری کے اراکین ریاست میں آنے والے اسمبلی انتخابات میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے امیدواروں کے حق میں اپنے ووٹوں کا استعمال کریں گے۔ جموں خطے میں بھارتیہ جنتا پارٹی مشن 44 پلس کی حصولی کیلئے دوسری سیاسی جماعتوں میں الیکشن لڑنے کا ٹکٹ نہ ملنے والے لیڈروں کو اپنے ساتھ ملانے، چھوٹی سیاسی جماعتوں کی حمایت سے لیکر پارٹی میں ضم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ کل ہی جموں وکشمیر ڈیموکریٹک فرنٹ نامی علاقائی جماعت نے بی جے پی میں ضم ہونے کا اعلان کیا جبکہ وادی کشمیر میں سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی کی بانی درخشاں اندرابی نے گذشتہ ہفتے اپنی جماعت کو بی جے پی میں ضم کردیا۔ جہاں تک سیاسی لیڈران کا انتخابات لڑنے کا ٹکٹ نہ ملنے پر ناراضگی کے اظہار کے طور پر ایک سیاسی جماعت کو خیر آباد کہہ کر دوسری سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا تعلق ہے تو اس معاملے میں سیاسی مبصرین کے مطابق نہ کسی سیاسی جماعت کو بڑے نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے اور نہ کسی سیاسی جماعت کو زیادہ فائدہ حاصل ہوا ہے۔ وادی کشمیر میں ناراضگی کے عالم میں گاندربل سے سابق چیف سکریٹری و نیشنل کانفرنس ایم ایل سی شیخ غلام رسول نے پی ڈی پی ، گاندربل سے ہی نیشنل کانفرنس لیڈر محمد یوسف بٹ نے پی ڈی پی اور کانگریس کے ضلع صدر بارہمولہ میر مشتاق نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی جبکہ جموں خطے میں بڑے پیمانے پر سیاسی جوڑ توڑ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

 

 

 

...


Advertisment

Advertisment