Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 03:20 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

گاندربل ہمیشہ میرے دل کے قریب رہے گا : عمر عبداللہ

 

سری نگر ، 15 نومبر (یو این آئی) ریاست جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس پارٹی کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے آج گاندربل میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گاندربل ہمیشہ سے میرے دل میں رہا ہے اور مستقبل میں بھی یہاں کے لوگ میرے دل کے قریب رہیں گے۔ عمر عبداللہ نے گاندربل کے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقعہ ہے جب میں اپنے خاندان سے باہر کسی شخص کیلئے آپ سے آپ کے قیمتی ووٹ مانگنے آیا ہوں، میں آج آپ کے اشتراک ، جوش و خروش اور جس انداز سے یہاں کے نوجوانوں نے میرا خیر مقدم کیا ہے، بہت متاثر ہوا ہوں۔ میں یہاں کے نوجوانوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ گاندربل کے ساتھ میرے رشتے میں آخری دم تک کوئی کمی نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ 6سال تک آپ کی خدمت کرنے کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو ایک مقامی لیڈر دیا جائے تاکہ یہاں کی مقامی لیڈرشپ کو پنپنے کا موقع فراہم ہو اور آپ کے جوش و خروش سے مجھے اس بات کا یقین ہوگیا ہے کہ شیخ اشفاق جبار کو آپ بھر پور انداز میں ساتھ دیں گے۔انہوں نے کہاکہ اشفاق جبار تعلیم یافتہ اور نوجوان لیڈر ہیں اور وہ گاندربل کی تعمیر و ترقی، خوشحالی اور نوجوانوں کی خودمختار بنانے کیلئے میرے گذشتہ6سالہ کاموں کو آگے بڑھائیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران عمر عبداللہ کے دادا شیخ محمد عبداللہ، والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور انہوں نے خود حلقہ انتخاب گاندربل کے لوگوں کی نمائندگی کی تاہم اس بار عمر عبداللہ نے گاندربل کے بجائے ضلع سری نگر کے سونہ وار اور ضلع بڈگام کے بیروہ اسمبلی حلقوں سے قسمت آزمائی کا فیصلہ لیا۔ عمر عبداللہ نے یکم نومبر کو گاندربل سے انتخابی میدان میں نہ اترنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ گاندربل حلقہ انتخاب سے انتخابی میدان میں نہ اترنے کا فیصلہ بہت پہلے کرچکے تھے۔ انہوں نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ میں نے دو سال قبل حلقہ انتخاب گاندربل سے انتخابی میدان میں نہ اترنے کا فیصلہ کرلیا تھا‘‘۔ اس بار پارٹی نے مذکورہ حلقہ انتخاب سے ایک نئے چہرے شیخ اشفاق جبار کو میدان میں اتارا ہے۔ عمر عبداللہ نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کی لیڈرشپ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ یہ حضرات مخلوط حکومت کے دوران ہوئی تعمیر و ترقی اور تاریخی و انقلابی اقدامات اپنے کھاتے میں ڈالتے پھرتے ہیں اور اگر کوئی کوتاہی ہوئی تو اسے نیشنل کانفرنس کے سر تھوپنے کی مذموم کوششیں کررہے ہیں، جبکہ حقیقت میں ان سب کوتاہیوں کے ذمہ دار کانگریس ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بخوبی معلوم ہے کہ نیشنل کانفرنس نے مخلوط سرکار میں رہ کر تمام عوام دوست اقدامات اٹھائے جبکہ کانگریس نے عوام دوست ہر اقدام میں اڑچنیں پیدا کیں، جس کی زندہ مثال نئی انتظامی اکائیوں کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے جب 2002میں حکومت بنائی تو مفتی سعید نے سب سے پہلے گاندربل میں جلسہ کیا اور یہاں جنگجوؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اب آپ کی اپنی جماعت برسراقتدار آئی ہے، آپ بندوقیں چھوڑ دو ‘ لیکن اس کے بعد مفتی دور میں جو ہوا وہ عوام کو بخوبی معلوم ہے۔ عوام کو یہ بھی معلوم ہے کہ کسی طرح سے مفتی دور میں ایک منصوبہ بند سازش کے تحت اْن 5حزب کمانڈروں کو موت کے گھاٹ اْتارا گیا، جو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے کیلئے راضی ہوگئے تھے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیری قوم کو معلوم ہے کہ مفتی سعید نے ہی جموں و کشمیر کو شورش زدہ علاقہ‘ قرار دیکر افسپا جیسے کالے قوانین کے ذریعے فوج کو لاتعداد اختیارات تفویض کئے تھے۔ اْسی مفتی کی جماعت والے آج یہاں تبدیلی کی باتیں کرتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ہم نے تبدیلی لائی ۔ میرے دورِ حکومت میں تشدد آمیز واقعات میں 70فیصد کمی آئی،امن کی فضاء قائم ہوئی۔نیشنل کانفرنس حکومت میں ہی مژھل جیسے واقعہ کی پہلے پولیس کے ذریعے چھان بین کرائی اور اس میں ملوث فوجیوں کیخلاف کیس درج کرایا اور ہماری کوششوں کی بدولت ہی اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ممکن ہو پائی جس کے بعد خاطیوں کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ ہم نے پاسپورٹ کے حصول کو آسان بنایا اور جنگجوؤں کے رشتہ داروں کو بھی پاسپورٹ دلوائے جن کے نام مفتی سعید حکومت نے بلیک لسٹ کئے تھے۔ میری حکومت میں بمئی جیسے کیمپوں کو آبادی والے علاقوں سے منتقل کیا گیا، ہر ایک ضلع میں درجنوں بنکروں کو ہٹوایا گیا۔ میں نے سرحد پار سے نوجوانوں کی باعزت واپسی ممکن بنائی جبکہ پی ڈی پی اور فوج انہیں سرینڈر ملی ٹینٹوں کی بطور یہاں واپس لانے کے حق میں تھے، جس کی میں نے تن تنہا مخالفت کی اور ایسا نہیں ہونے دیا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment