Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 02:20 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

مسلم یونیورسٹی کے کردار کا تحفظ طلباء یونین کا اصل مقصد

 

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلباء یونین کے نو منتخب عہدیداران اور کیبنیٹ اراکین کی رسمِ تنصیب کی تقریب کے موقع نومنتخب صدر عبداللہ عظام کی وضاحت

فہمیدہ پروین

علی گڑھ، 14؍نومبر(ایس ٹی بیورو)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلبأ یونین کے نو منتخب عہدیداران اور کیبنیٹ اراکین کی رسمِ تنصیب کی تقریب آج کینیڈی ہال میں نہایت جوش و خروش کے ساتھ پر امن طور پر منعقد ہوئی۔طلبأ یونین کے نو منتخب صدرمسٹر عبداللہ عظام نے کہا کہ یونیورسٹی کے کردار کا تحفظ کرنا طلبأ یونین کا اصل مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامن یونیورسٹی بل کا مطالعہ کرنے کی غرض سے طلبأ یونین ایک گروپ تشکیل دے گی جس میں اساتذہ بھی شامل ہوں گے اور کامن یونیورسٹی بل کو کسی بھی حالت میں اس ادارے میں نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تاریخی کردار اور منفرد شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی داخلہ پالیسی پر نظر ثانی کی جانی چاہئے۔ ساتھ ہی ملک میں یونیورسٹی کی وقف املاک کی میپنگ کرائی جائے۔ لڑکیوں کے کیمپس میں آنے جانے کے لئے بس سروس شروع کی جائے اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی ہدایات کے مطابق اساتذہ کے چیمبرس کے دروازوں میں شیشے کا نظم کیا جائے۔طلبأ یونین کے صدر عبداللہ عظام نے کہا کہ ایک قدم آگے چلنے اور دو قدم پیچھے لوٹنے سے ہمیں کامیابی نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر مضبوطی کے ساتھ جو بھی فیصلہ کریں گے طلبأ یونین ان کا ساتھ دے گی۔انہوں نے ریزیڈنشیل کوچنگ سینٹر کو سرگرم بنانے، ڈس ایبیلٹی یونٹ کے تحت بصارت سے محروم طلبأ و طالبات کو تعلیم کی بہتر سہولیات مہیا کرانے، اقامتی ہالوں میں کھانے کے نقصان کو کم کرنے کے لئے طلبأ سے زائد رقم وصول کئے جانے، کشمیر کے سیلاب متاثرین کو مالی امداد مہیا کرانے، طبیہ کالج میں ایمرجنسی طبی خدمات مہیا کرانے، میڈیکل آڈیٹوریم کو جلد سے جلد شروع کرنے، طلبأ کو روزگار کے مواقع مہیا کرانے کے لئے ایچ آر پروفیسر کی تقرری کرنے، سابق طلبأ کا ڈاٹا بیس بنانے اور کمپنیوں کی لسٹنگ کرنے پر بھی زور دیا۔طلبأ یونین کے صدر نے دہلی سے شائع ہونے والے ایک انگریزی روزنامے کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کرائے جانے اور یونیورسٹی کیمپس میں اس پر پابندی عائد کئے جانے کا بھی مطالبہ کیا۔نو منتخب نائب صدر مسٹرسید مسعود الحسن نے کہا کہ یونیورسٹی کے وقار اور عظمتِ رفتہ کو بنائے رکھنے کے لئے طلبأ یونین کام کرے گی، سازش کرنے والوں کا پردہ فاش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ طلبأ یونین طلبأ کے مفادات کے لئے کام کرے گی۔ انہوں نے کیندریہ بھنڈار کو بند کرنے اور پلس ٹو کے گیٹ کی دیوار کو تڑوانے کے ساتھ ساتھ کمیونیکیشن میں بیچلر کورس شروع کرنے، ماس کمیونیکیشن شعبہ کو زودا ثر بنانے، اپنا ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔نائب صدر نے کہا کہ یہاں کے طلبأ اولاد کا فریضہ انجام دینا جانتے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کی ایک جماعت کے ذریعہ پھیلائی جارہی بے بنیاد خبروں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کے کردار پر حملہ کیا جا رہا ہے۔طلبأ یونین کے اعزازی سکریٹری مسٹر شاہ زیب احمد نے کہا کہ جو بھی انسان طلبأ کے خلاف ہے طلبأ یونین اس کے خلاف ہے۔ انہوں نے ویمنس کالج کی لائبریری کو اپڈیٹ کرنے اور مولانا آزاد لائبریری سے کتابیں چوبیس گھنٹہ کے ا ندر مہیا کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایم فل کے طلبأ و طالبات کو سیدھے طور پر پی ایچ ڈی میں داخلہ کی سہولت مہیا کرانے اور یونیورسٹی کورٹ کی میٹنگ طلب کئے جانے کی اپیل کی۔انہوں نے یونیورسٹی کے ا قلیتی کردار کی بحالی کے لئے مثبت کوشش کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزارت سے اقلیتی کردار کی بحالی کے لئے تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔طلبأ یونین کے سرپرست کی حیثیت سے رسمِ تنصیب کی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ ( ریٹائرڈ) نے انگریزی روزنامے میں شائع اپنے بیان کی پرز ور تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسلم کوڈ آف کنڈکٹ کی بات نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ بدلتے دور کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی طالبات کو بہتر سہولیات مہیا کرانی ہوں گی، ان کے رہن سہن میں بہتری لانی ہوگی، پندرہ سو طالبات کے لئے ایک اقامتی ہال، انڈور اسٹیڈیم اور وائی فائی کی سہولیات مہیا کرائی جا رہی ہیں۔ طالبات کے لئے دو بسوں کا بھی نظم کیاگیا ہے اور لائبریری کی سہولیات میں بہتری لائی جارہی ہے۔وائس چانسلر نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی مرکزی وزیر برائے فروغِ انسانی وسائل سے مل کر بتا دیاتھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مرکزی کامن ایکٹ اور سبھی یونیورسٹیوں کے لئے مشترکہ داخلہ امتحان کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ داخلہ کے عمل میں کسی بھی طرح کی بد عنوانی نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ طلبأ کے مفاد میں جو بھی فیصلے کئے جائیں گے ان میں طلبأ یونین سے بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کے ساتھ ہمارا رشتہ اچھا ہونا چاہئے تاکہ ہمیں ترقی کے کاموں کے لئے فنڈ مل سکے۔جنرل شاہ نے کہا کہ دسمبر2014تک 103 شعبوں میں اساتذہ کی تقرری کے لئے سلیکشن کمیٹیاں کرائی جا رہی ہیں اور ان کے دورِ وائس چانسلر شپ میں جتنی سلیکشن کمیٹیاں ہوئی ہیں وہ ایک ریکارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بد عنوانی کے سخت مخالف ہیں اور طلبأ یونین کے ساتھ مل کر بدعنوانی کو جڑ سے مٹادیں گے۔وائس چانسلر نے کہا کہ یہاں کے طلبأ ان کے بچوں کی طرح ہیں اورنہ انہیں بچوں سے ڈر ہے اور نہ بچوں کو ان سے ڈرنا چاہئے۔ انہیں اپنے طلبأ پر پورا بھروسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ا س ادارہ کا اقلیتی کردار کوئی بھی ہم سے چھین نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بچیاں ہماری عزت ہیں۔انہوں نے کہا کہ طلبأ یونین کو یونیورسٹی انتظامیہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ ہم آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ہمارے خلاف منفی تشہیر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبأ یونین کے ا س مطالبہ کی کہ انگریزی روزنامہ پر یونیورسٹی میں پابندی عائد کردی جائے وہ پوری طرح حمایت کرتے ہیں۔اس موقعہ پر ڈاکٹر شارق عقیل نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ چیف الیکشن آفیسر پروفیسر ( حکیم ) نعیم احمد خاں اور خازن پروفیسر رحیم اللہ خاں کے ساتھ ساتھ پرو وائس چانسلر برگیڈیئر ایس احمد علی اور پروکٹر پروفیسر جمشید صدیقی بھی موجود تھے۔

...


Advertisment

Advertisment