Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 04:53 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

جنوبی کشمیر میں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے مابین جھڑپ


حالات کشیدہ ، سیکورٹی فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ، نوجوان جاں بحق
سری نگر ، 14 نومبر (یو این آئی) جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے ژنہ گام گاؤں میں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے مابین گذشتہ شام شروع ہونے والی جھڑپ میں دو جنگجو مارے گئے ہیں۔ سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے مابین جھڑپ ختم ہونے کے ساتھ ہی ژنہ گام فرصل اور اس سے ملحقہ علاقوں میں جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف مقامی لوگوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے۔ احتجاجی مظاہرین جو آزادی حامی نعرے لگارہے تھے نے سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا۔ سیکورٹی فورسز نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے مشتعل مظاہرین پر فائرنگ بھی کردی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے۔ سیکورٹی فورسز کی فائرنگ میں جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت طارق احمد بٹ ساکنہ ناو بل کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں ۔ ایک پولیس ترجمان نے جھڑپ میں دو جنگجوؤں کے مارے جانے کی تصدیق کردی۔ ذرائع نے بتایا کہ مارے جانے والے دونوں جنگجو مقامی ہیں جن کی شناخت محمد عباس ملک ساکنہ نوپورہ اور منظور احمد ملہ ساکنہ ژنہ گام کے طور پر کی گئی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے رہائشی مکانوں میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کیلئے قریب چار رہائشی مکانوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ دو جنگجوؤں کی لاشیں دھماکے سے اڑائے گئے مکانوں کے ملبے کے نیچے سے برآمد ہوئیں۔ پولیس ترجمان نے مزید بتایا کہ جھڑپ کے مقام سے کچھ ااسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کرلیا گیا۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ کولگام کے ژنہ گام میں لشکر طیبہ کے جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملنے پر راشٹریہ رائفلس، جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور سینٹرل ریزروپولیس فورس نے گذشتہ شام مذکورہ گاؤں میں مشترکہ تلاشی کاروائی شروع کی۔ تلاشی کاروائی کے دوران جب سیکورٹی فورس اہلکار ایک مخصوص علاقے کی جانب پیش قدمی کررہے تھے تو مکانوں میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے سیکورٹی فورس اہلکاروں پر خودکار ہتھیاروں سے گولیاں چلائیں جس کے بعد طرفین کے مابین باضابطہ جھڑپ چھڑ گئی۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ اندھیرے کی وجہ سے آپریشن اگلے روز تک روک دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جمعہ کی صبح جنگجوؤں کے خلاف آپریشن بحال کردیا گیا جس میں دو جنگجو مارے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ جھڑپ میں متعدد سیکورٹی فورس اہلکار بھی زخمی ہوگئے ہیں۔ سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے مابین جھڑپ ختم ہونے کے ساتھ ہی ژنہ گام فرصل اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے قریب چار مکانوں کو زمین بوس کرنے اور جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ مظاہرین جو آزادی حامی نعرے لگارہے تھے نے سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا۔ سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔ ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ بھی کردی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے ۔ ذرائع نے بتایا کہ فرصل کے پورے علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہے۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment