Today: Tuesday, November, 13, 2018 Last Update: 09:04 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

دتیانہ میں انتہا پسندوں کے ذریعہ مسلم نوجوان کے قتل کا معاملہ

 

انتظامیہ سے قاتلوں پرسخت کاروائی کرنے کا مطالبہ

جمعیۃ علماء مظفرنگر کی متاثرہ گاؤں کا دورہ کرکے حالات کا جائز ہ لے کرضلع مجسٹریٹ سے تادیبی کارروائی کی اپیل
مظفرنگر، 13؍نومبر(ایس ٹی بیورو) فرقہ پرستی کی نذر ایک اور مسلم بے گناہ نوجوان ہوگیا ، ضلع انتظامیہ کی لاپروائی اور عدم سنجیدگی کی وجہ سے روزبروز مظفرنگر کے حالات مزید خراب ہوتے جارہے ہیں ، تازہ ترین واقعہ تھانہ چھپار کے گاؤں دتیانہ کا ہے ،جوگذشتہ کل ہی پیش آیا جہاں ایک دبنگ جاٹ لڑکے نے بے گناہ نوجوان سید منیر احمد کو صرف اس وجہ سے قتل کردیا کہ اس نے غریب مزدور ،ٹھیلے والے کو ستانے کی مخالفت کی تھی،جس پر سنجیو چوٹانے غیر قانونی پستول سے دن دھاڑے گولی مارکر اس کو قتل کردیا ، جس سے اقلیتی طبقہ میں خوف وہراس کا ماحول اور ضلع انتظامیہ کے تئیں عدم اعتماد کی صورت پیدا ہوگئی ہے ۔اس بابت آج جمعیۃ علماء مظفرنگر کے عہدیداران نے ایک اعلی سطحی وفد کے ساتھ گاؤں دتیانہ کا دورہ کرکے پورے حالات کا جائزہ لیا،اور متأثرہ خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اس پورے واقعہ کو بدترین سانحہ قراردیتے ہوئے ضلع انتظامیہ کی ناکامی اور بڑھتی فرقہ پرستی پر شدید ردعمل عمل کا اظہار کیا۔معلوم ہوکہ سنجیو چوٹا ایک دبنگ قسم کا بدمعاش ہے ، دتیانہ گاؤں میں اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے پھیری کرنے اور مزدوری کرنے والوں کے ساتھ وہ زیادتی کرتا تھا یہاں ان کو مرغا بناکر ان کا استحصال کرتاتھا جس کی سید منیر نے مخالفت کی اور غریب لوگوں پر زیادتی نہیں کرنے کی بات کہی تھی جس پر سنجیو چوٹا نے منیر عالم کو موقع پر تین گولی مارکر قتل کردیا۔جمعیۃ کے وفدمیں مولانا محمد ذاکر شاہی امام، مولانا جمال الدین قاسمی صوبائی نائب صدر ، حافظ محمد فرقان اسعدی، حاجی اجمل الرحمان ایڈوکیٹ،مولانا گلزار قاسمی ، مولانا محمدموسیٰ قاسمی، مولانا اکرم ندوی، حاجی اسلم ضلع پنچایت ممبر،مولانا صابر نظام قاسمی، مولانا دین محمد، حافظ اکبر ، ماسٹر یامین ،ڈاکٹرسید عادل وغیرہ شامل تھے ۔ذمہ داران نے سب سے پہلے مقتول کے اہل خانہ کو دلاسہ دیتے ہوئے اس کو بڑا حادثہ قراردیا اور کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی مکمل ہمدردی اور تعاون ان کے ساتھ ہے ، ۔اخبار نویسیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے حافظ محمد فرقان اسعدی ،اور مولانا جمال الدین قاسمی نے کہا کہ ضلع انتظامیہ فرقہ پرستی پر قابو پانے پر بالکل ناکام ہے ، مظفرنگر فساد کے بعد سے ضلع کے امن پسند لوگ حالات کو پرامن بنانے کی کوششیں لگاتار جاری رکھے ہوئے ہیں ، مگر انتظامیہ کی سست روی کی وجہ سے فرقہ پرستوں کے حو صلہ بڑھے ہوئے ہیں ، انہوں نے کہاکہ یکے بعد دیگرے اقلیتی طبقہ کے کئی لوگ فرقہ پرستی کی نذر ہوچکے ہیں، انتظامیہ کے ذریعہ سخت اقدام نہ اٹھائے جانے کی وجہ سے شرپسند عناصر کے حوصلہ بلند ہیں، دنگائی لگاتار بلاخوف وخطر قتل وگارت گری کو انجام دے رہے ہیں ۔مولانا محمد ذاکر شاہی امام ، اجمل الرحمان ایڈوکیٹ نے کہاکہ انتظامیہ اگر اس مسئلہ پر سنجیدہ نہیں ہوتاتو خامو ش نہیں بیٹھا جائیگا اور اگلے اقدام پر غور وفکر کیا جایئگا، انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خون کی ارباب اقتدار، انتظامیہ کے ذمہ داران کی نظر میں قدروقیمت بالکل ہی ختم ہوگئی ہے ۔ اس سے قبل تگری کے ڈاکٹر غیور عالم قتل کیس میں خاطر خواہ کاروائی نہ ہونے اور انتظامیہ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بھی جمعیۃ کے ذمہ دارن نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔جمعیۃ علماء مظفرنگر میڈیا انچارج مولانا محمد موسیٰ قاسمی نے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ قاتلوں پر کاروائی ہی نہیں بلکہ این ایس اے لگائی جائے ۔ اس بابت بہت جلد ارباب اقتدار سے ملکر بات کی جائیگی ،اس موقع پر مولانا جمال الدین قاسمی، حافظ محمد فرقان اسعدی، مولانا محمد ذاکر شاہی امام، اجمل الرحمان، مولانا محمد موسیٰ قاسمی، مولانا محمد اکرم ندوی، مولانا محمد گلزار قاسمی، سید محمد مزمل، سید محمد مدثر، ڈاکٹر سید محمد عادل،ماسٹر یامین، حافظ محمد اکبر، سید نوید عالم، سید محمد مشرف، محمد دانش، حاجی محمد اسلم ضلع پنچایت ممبر،وغیرہ موجود رہے ۔

 

...


Advertisment

Advertisment