Today: Thursday, November, 22, 2018 Last Update: 01:55 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اناج کے ذخیرے کے معاملہ پر ہند اور امریکہ کے درمیان اتفاق رائے: سیتارمن

 

نئی دہلی، 13 نومبر (یو این ائی) ہندستان اور امریکہ نے غذائی سلامتی کے لئے اناج کے ذخیرہ کے تعلق سے اپنے اختلافات دور کرلئے ہیں جس سے عالمی تجارتی‘ تنظیم (ڈبلیو ٹی او) میں تعطل ختم ہوگیا ہے اور اہم 147کثیر قومی تجارتی سہولت معاہدہ 148 کے نفاذ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔تجارت و صنعت کی وزیر نرملا سیتارمن نے آج یہاں کہا ہے 147ہمیں انتہائی خوشی ہے کہ ہندستان اور امریکہ نے ڈبلیو ٹی او میں غذائی سلامتی کے لئے اناج کے ذخیرے کے حوالے سے اپنے اختلافات اس طرح دور کرلئے ہیں جس سے ہماری تشویش دور ہوگئی ہے۔ اب تجارتی سہولت معاہدہ کی راہ ہموار ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ٹی او میں ہندستان کے موقف پر کافی بحث ہوئی اور تشویشات ظاہر کی گئیں۔ ساری دنیا میں اس کی گونج سنائی گئی جو مطالبہ ہم کررہے ہیں اسے کئی ممالک نے پسند کیا اور سراہا۔ ہندستان تنہا اور الگ تھلگ نہیں پڑا۔اس طرح تجارت و صنعت کی وزیر نے دونوں ملکوں کے درمیان ہوئے سمجھوتے کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم نہیں کیں مگر کہا کہ ڈبلیو ٹی او کی جنرل کونسل کی دسمبر میں ہونے والی میٹنگ میں ہندستان کی تجویز پر غور کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے امریکہ کے ساتھ اختلافات دور کرنے کا اعلان اس وقت کیا ہے جب وزیراعظم نریندر مودی کئی اہم بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کررہے ہیں اور گروپ 20 چوٹی کانفرنس کے لئے آسٹریلیا جارہے ہیں۔ہندستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جائے گا جو ڈبلیو ٹی او کے کثیر قومی ادارے میں یقین رکھتا ہے مگر ساتھ ہی انہوں نے بالی پیکج میں اپنے موقف سے سب کو واقف کرایا۔ محترمہ سیتا رمن نے کہا ابتداء میں ہندستان نے بالی معاہدے کی حمایت کی تھی مگر اس کے بعد کے واقعات سے وہ امید ختم ہونے لگی اور ہندستان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ اس کاراستہ درست کرنے کا مطالبہ کرے۔ا س کے بعد ہندستان نے یہ موقف اختیار کیا کہ جب تک ہماری تشویشات کو دور کرنے کی یقین دہانی نہیں کرادی جاتی تو ہم تجارتی سہولت معاہدہ (TFA)میں ترمیم پر راضی نہیں ہوں گے۔ٹی ایف اے دنیا بھر کی بندرگاہوں اور کسٹم کے ضابطوں کو سہل بنانا چاہتی ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ اس سے سینکڑوں ارب ڈالر کی بین الاقوامی تجارت ہوسکے گی۔ بہرحال ہندستان نے کہہ دیا تھا کہ اگر ڈبلو ایچ او حکومت ہند کی غریبوں کو سستی غذا فراہم کرنے کی اسکیم کی اجازت نہیں دے گی تو پھر وہ تجارتی سہولت معاہدہ (TFA) کے لئے راضی نہیں ہوگا۔ دریں اثنا ہندستان میں حکومت بدل گئی اور نئی این ڈی اے حکومت نے اپنا موقف سخت کردیا۔ اس دوران ڈبلو ٹی او کے اہم ممبران خصوصاً امریکہ کے ساتھ متواتر رابطہ رکھا گیا۔تجارت و صنعت کی وزیر نے کہا کہ ہندستان بالی پیکج اور دوحہ ترقیاتی ایجنڈے کے نفاذ کے لئے کام کرتا رہے گا۔ مسز سیتا رمن نے کہا کہ گو ڈبلیو ٹی او کے ضابطہ غذائی سلامتی کی فکر مندیوں کا اعتراف کرتا ہے مگر ان کی خاص توجہ غذائی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے بجائے زرعی تجارت کو آزاد بنانے پر ہے۔147بہرحال حیثیت یہ ہے کہ ان میں سے کچھ ضابطے غذائی سلامتی کی کوشوں کی راہ میں رکاوت پیدا کررہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ ڈبلیو ٹی او کو مختلف ممالک کی اپنے عوام کو سستا اناج فراہم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہئے نہ کہ ایسے ضابطوں پر عمل کرنا چاہئے جس سے ان میں خلل پڑے۔ جیسے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے 147غذا کے حق148 کے موضوع پر کِیا تھا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment