Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 02:30 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

تلنگانہ اسمبلی میں سفید راشن کارڈ پر گرما گرم مباحثہ

 

حکومت کے جواب سے عدم مطمئن حزب اختلاف کی جماعتوں کا واک آوٹ

حیدرآباد13نومبر (یو این آئی) تلنگانہ اسمبلی میں آج سفید راشن کارڈ جاری کرنے کے مسئلہ پر گرما گرم بحث ہوئی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں بی جے پی اور تلگودیشم کے ارکان نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا وہ نئے قواعد کے تحت راشن کارڈس میں کٹوتی کرنا چاہتی ہے ۔ حکومت کیا سفید راشن کارڈس کے ذریعہ غریب عوام کو کارپوریٹ اسپتالوں میں دی جانے والی مفت علاج کی سہولت والی اسکیم آروگیہ شری مہیا کرے گی جس پر وزیر سیول سپلائیز ای راجندر نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں جھوٹے پروپگنڈہ کے ذریعہ عوام کو غیر ضروری طور پر گمراہ کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر مستحق فرد کو نئے قواعد کے تحت راشن کارڈس مہیا کرے گی ۔ سفید راشن کارڈ سے طلبہ کی تعلیمی فیس کی ادائیگی اور آروگیہ شری اسکیم کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔مسٹر راجندر نے کہا کہ حکومت غریب عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولت مہیاکروانے کی پابند ہے ۔ ای راجندر کے جواب سے عدم مطمئن کانگریس ‘ تلگودیشم اور بی جے پی کے ارکان نے واک آؤٹ کردیا ۔ قبل ازیں آج کی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی مائیکرو اریگیشن کے مسئلہ پر اٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر زراعت پوچارم سرینواس ریڈی نے کہا کہ حکومت ایک لاکھ تیس ہزار ایکر پر مائیکرو اریگیشن سہولتوں کو فروغ دے گی جس کیلئے ایس سی اور ایس ٹی طبقات کو صد فیصد سبسیڈی دی جائے گی ۔ بعد ازاں آندھراپردیش میں تعمیر کئے جانے والے پولاورم پروجیکٹ کی زد میں آنے والے تلنگانہ کے ضلع کھمم کے سات منڈلوں کو آندھراپردیش میں ضم کرنے کے بعد وہاں کے عوام کو مختلف سہولتوں اور ملازمتوں کیلئے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات پر سوال اٹھایا گیا جس کا جواب د یتے ہوئے نائب وزیر اعلی محمد محمود علی نے کہا کہ حکومت وہاں کے عوام کا خیال رکھے گی۔ایوان سے حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان کے واک آؤٹ پر طنز کرتے ہوئے وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت کے بہتر پروگراموں کے سبب حزب اختلاف کی جماعتوں کو سیاسی بقاء کی فکر نظر آرہی ہے ۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان حکومت کے بہتر پروگراموں کو ہضم نہیں کرپا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش حکومت کی قیادت میں کام کرنے والے تلگودیشم کے ارکان اسمبلی کو چاہئے کہ وہ اپنی حکومت کو تلنگانہ حکومت کے بہتر کاموں سے واقف کرواتے ہوئے ایسے کاموں کے آندھراپردیش میں آغاز پر زور دیں ۔ بعد ازاں وقفہ صفر کا آغاز ہوا ۔ بی جے پی کے رکن پربھاکر نے ایپا مالا ڈالنے والے ملازمین پولیس کو ڈریس پہننے محکمہ پولیس کے اعلی افسروں کی ہدایت پر اعتراض کیا اور کہا کہ بعض اسکولس میں بھی ایپا مالا ڈالنے سے بچوں کو روکا جارہا ہے جس پر وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے کہا کہ اس معاملہ کی تحقیقات کی جائے گی ۔ بی جے پی کے رکن کشن ریڈی نے کہا کہ حکومت کی تشکیل کے پانچ ماہ ہوچکے ہیں لیکن اب تک کسی بھی سرکاری اسکیم سے ارکان اسمبلی کو واقف نہیں کروایا گیا ہے ۔ ایسا نہ کرنے سے ارکان عوام کے سوالات کے جوابات دینے سے قاصر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریلیف فنڈ کیلئے داخل کی جانے والی درخواستوں پر بھی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ ان کے اس سوال پر وزیر خزانہ ای راجندر نے کہا کہ چیف منسٹر ریلیف فنڈ جاری کیا جارہا ہے اور حکومت کی جانب سے جو بھی جی او جاری کیا جائے گا اس سے ارکان کو واقف کرایا جائے گا ۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی سی رام چندر نے اسمبلی سے واک آؤٹ کے بعد میڈیا پوائنٹ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی حکومت نے فلاحی اسکیمات کی تشہیر کا پلیٹ فارم اسمبلی کو بنا دیا ہے ۔مسٹر ریڈی نے کہا کہ سفید راشن کارڈس کو آروگیہ شری سے مربوط کرنے کے سوال کا جواب دینے کے بجائے حکومت کی جانب سے چاول دینے کی بات کی جارہی ہے ۔ تلگودیشم کے ارکان نے بھی کہا کہ حکومت اس طرح کا جواب دیتے ہوئے وظائف اور راشن کارڈس میں کٹوتی کا پروگرام بنار ہی ہے ۔ کانگریس کی رکن اسمبلی ڈی کے ارونا نے کہا کہ پیشرو حکومتوں کی جانب سے سفید راشن کارڈس سے فلاحی اسکیمات کو مربوط کیا گیا تھا لیکن موجودہ حکومت سفید راشن کارڈس پر صرف چاول فراہم کررہی ہے ۔ ایوان سے واک آؤٹ کے بعد میڈیا پوائنٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ہر فرد کو سفید راشن کارڈ پر حکومت کی جانب سے چھ کلو چاول دینے کے اعلان پر کہا کہ حکومت عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment