Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 05:19 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

ماچھل فرضی تصادم مسانحہ

 

سات فوجیوں کو عمر قید

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے خوش آئند قرار دیا

سرینگر13نومبر(آئی این ایس انڈیا)فوج نے ماچھل فرضی تصادم معاملے میں دو افسران سمیت اپنے سات اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے یہ معلومات دی ہے۔جموں و کشمیر کے ماچھل میں 2010میں ہوئے اس فرضی تصادم میں تین نوجوان ہلاک ہوئے تھے۔عمر نے آج ایک ٹوئٹ میں کہا کہ فوج نے 2010میں ماچھل میں ہوئے فرضی تصادم کے معاملے میں کمانڈنگ افسر سمیت سات فوجیوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔یہ واقعی ایک بہت ہی خوش آئند قدم ہے۔عمر نے جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے ٹوئٹر پر کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔کشمیر میں کبھی بھی کسی نے نہیں سوچا تھا کہ اس طرح کے معاملات میں انصاف ہو گا ۔ لوگوں کا ان اداروں سے اعتماد اٹھ گیا تھا۔عمر نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ اب ہمیں پھر کبھی ماچھل جیسے واقعات دیکھنے کو نہیں ملیں گے اور یہ ان لوگوں کیلئے انتباہ ہے جو اس طرح کی کوشش کرتے ہیں تاہم نئی دہلی میں فوج کے ذرائع نے کہا کہ صرف پانچ اہلکاروں کو سزا سنائی گئی ہے اور تصدیق کا عمل جاری ہے۔کورٹ مارشل کی کارروائی اس سال جنوری میں شروع ہوئی تھی اور یہ ستمبر میں مکمل ہوئی تھی۔اپریل 2010میں فوج نے کہا تھا کہ اس نے ماچھل سیکٹر میں تین در اندازوں کو مار ڈالا جو پاکستانی دہشت گرد تھے۔ان لوگوں کی شناخت بعد میں شہزاد احمد خان، ریاض احمد لون اور محمد شفیع لون کے طور پر ہوئی تھی۔یہ تینوں بارہ مولہ ضلع کے رہائشی تھے۔ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ نے دعوی کیا تھا کہ فوج تینوں نوجوانوں کو نوکری اور پیسے کا لالچ دے کر سرحدی علاقے میں لے گئی تھی اور بعد میں انہیں دہشت گرد بتاکر مار ڈالا۔واقعہ کے سبب وادی کشمیر میں وسیع مظاہرے ہوئے تھے جو 2010میں اکتوبر کے وسط تک چلے تھے۔ماچھل واقعہ کے بعد کے پانچ ماہ میں فوج کی کارروائی میں تقریبا 120افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment