Today: Tuesday, November, 20, 2018 Last Update: 09:23 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

علی گڑھ کا بال دفتر و ضلع انتظامیہ بچہ مزدور ی خاتمہ میں ناکام ثابت

 

علی گڑھ کی تالا صنعت میں بچہ مزدور کی حیثیت سے اب بھی کارخانوں میں ہزاروں بچے مزدوری کر رہے ہیں

فہمیدہ پروین

علی گڑھ، 12؍نومبر(ایس ٹی بیورو)سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود علی گڑھ کی تالا صنعت میں بچہ مزدور کی حیثیت سے اب بھی کارخانوں میں ہزاروں بچے مزدوری کر رہے ہیں اور علی گڑھ کا بال دفتر و ضلع انتظامیہ اس عمل کے خاتمہ میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔علی گڑھ میں تالے کی چھوٹی بڑی 5000فیکٹریاں اور کارخانے ہیں جن میں تقریباً ایک لاکھ مزدور کام کرتا ہے ان میں تقریباً بیس ہزار بچہ مزدور شامل ہیں۔ایک سروے سے علم ہوا کہ علی گڑھ میں تقریباً بیس ہزار بچہ مزدور تالا صنعت میں کام کرتے ہیں جن میں پندرہ سو بچے فلیٹ کٹنگ میں، دو ہزار بچے باڈی بنانے میں، تین ہزار بچے تالے کی فیکٹریوں میں، چھ ہزار بچے پالش کی مشینوں پر کام کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ تقریباً پچاس ہزار بچے پیکنگ کے کام پر لگے ہوئے ہیں۔اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان بچوں کی زندگی اندھیرے میں ہے کیونکہ یہ لوگ زیادہ تر ایک بند کمرے میں بغیر منھ پر ڈھاٹا باندھے کام کرتے ہیں جس کے سبب خطرناک زہریلے دھوئیں سے ان کی جان اور صحت کو خطرہ لاحق رہتاہے۔ ان بچوں میں زیادہ تر ٹی بی اور تنفس جیسی خطرناک بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہی نہیں اگر یہ بچے پڑھنا بھی چاہیں تو ان کو تعلیم نصیب نہیں ہوتی۔ ان کا بچپن تالا فیکٹری کے دھوئیں اور وہاں کے شور میں دب کر ختم ہوجاتا ہے۔حکومت نے تقریباً 18کروڑ روپیہ سے ان بچہ مزدوروں کے لئے ا سکول کھولے ہیں لیکن یہ اسکول سرکاری دفاتر کے کاغذوں کی ہی زینت بن کر رہ گئے ہیں۔ یہ اسکول نہ تو بہتر طور پر کھولے گئے، سرکار کی جانب سے آنے والی کتابیں سرکاری دفاتر میں ہی پڑی رہتی ہیں یا کچھ دفاتر میں کام کرنے والے ان کتب کو پرائیویٹ اسکولوں کو فروخت کردیتے ہیں۔ ان بچہ مزدوروں کے لئے اسکول میں بیٹھنے کے لئے فرش نہیں ہیں، پینے کے لئے پانی نہیں ہے، بیت الخلاء نہیں ہیں، لکھنے پڑھنے کے لئے نہ پنسل ہے نہ کاپی اور نہ ہی بلیک بورڈ پر چلانے کے لئے چاک تو دوسری جانب اساتذہ کے بیٹھنے کے لئے نہ کرسی ہے، نہ میز اور نہ ہی صاف ستھری جگہ۔ یہاں تک کہ ا ساتذہ کو ان کا مشاہرہ بھی وقت پر نہیں ملتا جبکہ حکومت اتر پردیش کی جانب سے18کروڑوپیہ اساتذہ کے مشاہرہ اور بچوں کی پڑھائی کے لئے بھیج دیا گیا ہے مگر افسوس کہ دفاتر والے اس روپیہ کو وقت پر تقسیم نہیں کرتے اور دس سے گیارہ ماہ تک کی تنخواہ روک لیتے ہیں اور بعد میں ادائیگی کے وقت کچھ ماہ کی کم بھی کر لی جاتی ہے جس کے سبب اساتذہ کی بچوں کی پڑھائی اور اسکول آمد میں دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔ دفاتر کے لوگ ان بچوں کو کتابیں، کاپیاں اور دیگر درسی اشیاء بھی پوری تقسیم نہیں کرتے۔ ان بچوں کے گھر والے جب دیکھتے ہیں کہ ا سکولوں میں بھی ان کے بچوں کی زندگی تاریکی میں گم ہو رہی ہے تو وہ ان کو پیسہ کمانے کی غرض سے فیکٹریوں ارو کارخانوں میں بھیج دیتے ہیں جس کے سبب ان اسکولوں میں بچوں کی تعداد ہر روز کم ہوتی جا رہی ہے۔

...


Advertisment

Advertisment