Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 01:34 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سامنے آیا جماعت اسلامی ہند کا حقیقی چہرہ

 

غیر جمہوری طریقے سے مجتبیٰ فاروق کو ہٹانے کیلئے جاری ہوا تھا جماعت کا تغلقی فرمان ، استعفیٰ کیلئے قاسم رسول الیاس کے ذریعہ صدر مجتبیٰ فاروق پر دباؤ بنانے کا الزام ، جماعت اسلامی کررہی تھی قاسم رسول الیاس کی پشت پناہی ، جماعت نے الزامات کو کیامسترد ، مجتبیٰ فاروق کا الزامات کی تصدیق اور تکذیب سے انکار ، مسلمانوں کے ساتھ ایک اور دھوکہ ، قوم کیلئے پارٹی کی سوچ اور طور طریقہ لمحہ فکریہ ، تسلیم رحمانی نے پارٹی سے دیا استعفیٰ

محمداحمد

نئی دہلی،10اگست ( ایس ٹی بیورو)ویلفیئر پارٹی سے لوگوں کے استعفیٰ کا سلسلہ جاری ہے ۔ صدرمجتبیٰ فاروق اور جنرل سکریٹری ڈاکٹر ظفرالاسلام کیساتھ ساتھ اب تک معروف مسلم رہنما اور پارٹی کے بانی نائب صدر الیاس اعظمی ، دلت رہنما و پارٹی کی جنرل سکریٹری رما پنچال ، بانی سکریٹری و مشاورت کے رکن اختر حسین اختر کے بعد اب پارٹی کے سکریٹر ی و مسلم پولیٹیکل کاؤنسل آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے بھی پارٹی سے استعفیٰ دے دیاہے ۔
اپنے استعفیٰ کے بعد سیاسی تقدیر سے خصوصی بات چیت میں ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے کہا کہ ’ مجھے اس وقت بڑا افسوس ہوا جب غیر جمہوری طریقے سے پارٹی کے صدر ڈاکٹر مجتبیٰ فاروق کو ہٹایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ جماعت کے لوگ ہی ویلفیئر پارٹی سے جڑے ہیں اس لئے جماعت نے امراء حلقہ کو یہ تغلقی فرمان جاری کیا کہ ’ آپ جنرل کاؤنسل کے ارکان کو ڈاکٹر مجتبیٰ فاروق کا استعفیٰ منظور کرنے کیلئے کہیں ۔ اور ڈاکٹر قاسم رسول الیاس کو صدر منتخب کریں ‘۔ مسٹر رحمانی نے بتایا کہ جماعت کے تغلقی فرمان کے باوجود اللہ کا ایسا کرم ہوا کہ 36کے مقابلہ 40ووٹوں سے ڈاکٹر مجتبیٰ فاروق کا استعفیٰ نا منظور ہوگیا ، تب قاسم رسول الیاس مجتبیٰ فاروق کے پاس آئے او ر بولے کہ آپ اپنا استعفیٰ واپس نہ لیں ورنہ میں اور میرے کچھ حامی استعفیٰ دے دیں گے ۔ اور جن لوگوں نے مجتبیٰ فاروق کے حق میں ووٹ کیا تھا ان سے قاسم رسول الیاس نے کہا کہ آپ ہمیں صدر منتخب کریں ورنہ جماعت سے ہم آپ کیخلاف کارروائی کرنے کیلئے کہیں گے ‘ ۔ مسٹر رحمانی نے مزید کہا کہ جن ارکان نے اس میٹنگ میں جماعت اسلامی کیخلاف کچھ بولنے کی کوشش کی ان سے مائک تک چھین لئے گئے اور ان کیساتھ دھکا مکی ہوئی ، ایسا ہم نے تہذیب و تمدن کے دعویداروں کی محفل میں کبھی نہیں دیکھاتھا ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہاں! ایسے الزامات تو قاسم رسول الیا س صاحب پر لگتے رہے ہیں ، مگر ان کو منتخب کرنے کے پیچھے کسی سودے بازے کے بجائے میری یہ ذاتی رائے ہیکہ جماعت سہمی ہوئی ہے اور کسی نا دیدہ اندیشے کی شکار ہوگئی ہے ، جسکے سبب وہ خود کو ضرورت سے زیادہ سیکولر ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے ۔ اند یشوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت پر چونکہ ہمیشہ شدت پسندی کا الزام لگتا رہا ہے اور اب آر ایس ایس اور بی جے پی مرکز میں ہیں اس لئے جماعت یہ سوچتی ہے کہ کہیں اس کیخلاف کوئی کارروائی نہ ہو اسلئے وہ خود کو ضرورت سے زیادہ سیکولر ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔
تاہم اس تعلق سے جب سیاسی تقدیر نے مسٹر قاسم رسول الیا س سے رابطہ کر کے ان سے کچھ سوالات کئے توگھبرائے ہوئے لہجہ میں انہوں نے کہا کہ ’ آپ کے پاس اس طرح کی خبریں زیادہ ہوتی ہیں ۔ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے ۔ اس سے آپ کو کیا سروکار ؟ فائنل رزلٹ ہم نے پریس ریلیز کے ذریعہ آپ کو بتا دیا ہے ۔
تاہم میڈیا نے جب بھی جماعت اسلامی سے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کی اس سے وابستگی سے متعلق سوال کیا تب تب جماعت اسلامی ہند نے اس کی تر دید کی ، لیکن آج جماعت کے امیر مولانا سید جلال الدین عمری نے اس بات کا اعتراف کر لیا کہ جماعت ہی کے لوگ ویلفیئر پارٹی سے جڑے ہوئے ہیں ۔ پہلے جماعت نے ڈاکٹر مجتبیٰ فاروق کو بھیجا اور اب اس نے ڈاکٹر قاسم رسول الیا س کو بھیجا ہے ۔اور صدر پارٹی کے لوگوں نے منتخب کیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہچونکہ جماعت کے لوگوں کو کسی دوسر ی پارٹی میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہے ، مگر انہیں ویلفیئر پارٹی میں شامل ہونے کی آزادی ہے ‘ ۔ جماعت پر لگنے والے الزامات سے متعلق خبروں کو انہو ں نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہیہ نئی نئی باتیں ہیں ۔ مجتبیٰ فاروق نے جماعت سے کہا کہ وہ جس کام کیلئے بھیجے گئے تھے وہ اسے نہیں کرپارہے ہیں ۔ اس لئے انہیں جماعت میں دوبارہ واپس بلا لیا جائے ۔
تاہم ڈاکٹر مجتبیٰ فاروق نے سیاسی تقدیر کو بتایا کہ ’ آپ کے اپنے ذرائع ہیں ، میں ان کی تصدیق اور تکذیب نہیں کرسکتا۔ مگر جو لو گ مسلم ہونے کے باوجود خود کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے لوگوں پر مجھے شرم ضرور آتی ہے، کیونکہ اسلا م سے بڑا سیکولر مذہب تو قیامت تک کوئی آنے والا ہی نہیں ہے ۔ پارٹی کو بنانے کی ضرورت کے سوال پر انہوں نے کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا ۔ قارئیں کو بتادیں کہ دوران گفتگو مسٹر مجتبیٰ فاروق کی آواز بھرائی ہوئی تھی اور وہ نامہ نگار سے اپنے دل کی باتیں شیئر کرنا بھی چاہ رہے تھے ، لیکن شاید ان پر جماعت کا خوف طار ی ہے اس سے وہ کھل کر کچھ کہنے سے گریز کررہے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر جماعت اسلامی صالح قیادت کو ختم کرکے ان لوگوں کے ہاتھوں میں قیادت کو کیوں سونپ رہی ہے جنکی اہلیت پر ہمیشہ سوالات اٹھتے رہے ہیں ۔ ملک جماعت سے یہ جاننا چاہ رہی ہے کہ آخر پارٹی بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ کیوں جماعت اسلامی پارٹی کو ڈھال بنانا چاہتی ہے ؟ جب پارٹی کو مسلمانوں سے نہیں جوڑنا تھا تو پھر پارٹی بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا سیکولرازم کی فہرست سے مسلمان خارج ہیں اس لئے جماعت پارٹی کو سیکولر بنانا چاہتی ہے ؟۔

...


Advertisment

Advertisment