Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 03:22 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

علامہ اقبال کی شاعری میں پوری انسانی آبادی کی ہمہ جہت ترقی کا فارمولا

 

عالمی شہرت یافتہ شاعر علامہ اقبال کی یوم پیدائش پران کی حیات و خدمات پر منعقدہ نشست میں آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانا محمداعجاز عرفی قاسمی کا خطاب

نئی دہلی، 8 نومبر(پریس ریلیز)عالمی شہرت یافتہ شاعر علامہ اقبال کے یوم پیدائش ۹؍ نومبر کو ان کی حیات و خدمات پر منعقد نشست میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانا محمداعجاز عرفی قاسمی نے کہا کہ علامہ اقبال کی آفاقیت و عالم گیریت کا راز صرف یہ نہیں کہ وہ آج بھی ہمارے شعر وادب کی دنیا کا مستند اور معتبر حوالہ شمار کیے جاتے ہیں، بلکہ ان کی شعری کائنات اتنی وسیع ہے کہ ان کے الفاظ و تراکیب اور ان کی تشبیہات و استعارات اور ان کی لفظیات آج بھی ترو تازہ اور اپ ڈیٹ معلوم ہوتی ہیں۔ انھوں نے علامہ اقبال کے اردو اورفارسی اشعار کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کی فکر و فلسفہ اور ان کے پیغام و پیام کو زمان و مکان کے ساتھ محدودکرنا ان کی شعری کائنات کو تنگ نائے میں بند کرنے کے مترادف ہوگا۔ انھوں نے علامہ اقبال کے فلسفۂ خودی پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب کہ ہر طرف انسانی زندگی پر جموداور تعطل کی کیفیت طاری تھی، علامہ اقبال نے انسان کی خودی کوبیدار کرنے اور اس کو قوی اور مستحکم کرنے کا عظیم فریضہ انجام دیا ہے، جو برطانوی سامراج سے دو بدو جنگ لڑنے والے ملک کے افراد کے لیے بہت ضروری تھا۔ انھوں نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری ہو یا نثر وہ ہر جگہ ایک محب وطن کے طور پر نظر آتے ہیں۔ان کی وطنیت کا تصور محدود تو نہیں تھا، لیکن انھوں نے نیا شوالہ، ترانہ ہندی وغیرہ میں جن الفاظ و تراکیب کے توسط سے اپنی حب الوطنی اور وطن دوستی کا اظہار کیا ہے، اس کی مثال اس وقت کے دوسرے شعرا کے یہاں عنقا ہے۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ ’خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے‘ کا نعرہ بلند کرنے والے شاعر کو مولانا نے علامہ اقبال کے فلسفۂ جدو جہد، ان کی انسانیت نوازی اور حرکت و عمل کو موجودہ دنیا کے لیے کامیابی کی شاہ کلید بتاتے ہوئے کہا کہ اگر انسان اپنے مقدرات پر اعتماد کرکے جد و جہد اور حرکت و عمل سے دست بردار ہوجائے تو پوری کائنات کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور یہ دنیا انسانوں کی نہیں بلکہ حیوانوں اور نا آشنائے انسانیت جسم و جثہ کا ایک ڈھانچہ بن کر رہ جائے گی۔ مولانا نے اقبال فراموشی کے مرض پر بند باندھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آج علامہ اقبال صرف کتابوں اور تحقیقات تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں جب کہ ان کی شاعری میں پوری انسانی آبادی کی ہمہ جہت ترقی کا جو فارمولا ہے اس پر عمل کرکے ہم اس دنیا کو انسانیت اور ہمدردی کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ انھوں نے علامہ اقبال کے یوم پیدائش کو یوم اردو کے طور پر منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو جلد از جلد اس سلسلے میں پیش رفت کرنی چاہیے اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اس دن کو یوم اردو کے طور پر منانے کا سرکاری اعلان کرنا چاہیے۔ انھوں نے اردو دوستوں ، اردو تنظیموں اور اردو کے اداروں سے بھی یہ اپیل کی کہ وہ اس دن کو یوم اردو کے طور پر منائیں اور اس دن مختلف ثقافتی اور تعلیمی پروگرام کا انعقاد کریں تاکہ علامہ اقبال کا عظیم انسانی اور اسلامی پیغام مشرق و مغرب پوری دنیا میں اپنی اہمیت کا ثبوت دے سکے۔

...


Advertisment

Advertisment