Today: Wednesday, September, 19, 2018 Last Update: 10:55 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

تو کیااب نرم ہندوتوا پر چلے گی عام آدمی پارٹی؟

 

پارٹی میں سیکولر لیڈران حاشیے پر،اقتدار کیلئے پارٹی کے بیشتر لیڈران نرم ہندوتوا کی راہ اپنانے کے حق میں!

کجریوال کی پالیسی غیرواضح: نعیم انصاری

'آپ' سیکولرازم سے سمجھوتہ نہیں کرے گی : عرفان اللہ خان

مسلمانوں کو فٹبال سمجھتے ہیں اروندکجریوال :ایڈوکیٹ شاہد علی

نثاراحمدخان

نئی دہلی، 8نومبر (ایس ٹی بیورو) عام آدمی پارٹی کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر ’’مودی فار پی ایم، اروند فار سی ایم‘‘ کا متنازعہ پوسٹرسامنے آنے کے بعدجہاں سیکولر حلقوں میں مایوسی چھائی ہوئی ہے وہیں اب عام آدمی پارٹی کے وجود پر بھی سوالیہ نشان لگ گیاہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی بی جے پی اور نریندر مودی مخالف ہونے کادعویٰ کررہی تھی اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو پارٹی سے جوڑنے کیلئے ایک منظم حکمت عملی کے تحت ممبرسازی چلائی جارہی تھی، مگر نریندر مودی کی حمایت سے پارٹی دو حصوں میں منقسم ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق عام آدمی پارٹی اب دوخیموں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ ایک طبقہ مودی حامی پوسٹرسامنے آنے کے بعد مایوس ہے۔ یہی نہیں مسلمانوں کی بات کرنے والے لیڈران کو حاشیے پر ڈال دیاگیاہے اور اب پارٹی کی ’پالیسی میکنگ‘میں بھی تقریباً ان کی جگہ ختم ہوگئی ہے جبکہ دوسرا طبقہ نرم ہندوتوا کے ذریعہ اقتدار حاصل کرناچاہتا ہے۔اسی پالیسی کے تحت نرم ہندوتوا والی ٹیم نے مسلمانوں کی خوش آمد کرنے سے گریز کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ پارٹی کے اندر خانہ چلنے والی اس چپقلش پر کوئی بھی کھل کربولنے کوتیار نہیں ہے، مگر اتنی بات تو ثابت ہوگئی ہے کہ لوک سبھاانتخابات میں نریندر مودی کیخلاف میدان میں آنے والے اروند کجریوال آخر اس پورے معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں نے بھی عام آدمی پارٹی کے وجود پر سوال کھڑا کردیاہے۔ کانگریس کاکہناہے کہ میری پارٹی پہلے بھی کہتی رہی ہے کہ اروندکجریوال کی قیادت والی ’آپ‘ بی جے پی کی بی ٹیم ہے اور وہ اسی کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے۔پارٹی کے ایک سینئرلیڈر نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر کہاکہ اروندکجریوال کی سیکولرازم میں ہمیں کوئی شک نہیں ہے، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ پارٹی میں پہلی جیسی صورتحال نہیں ہے۔ پارٹی کا موقف پہلے بالکل واضح تھا کہ وہ سیکولرازم سے سمجھوتہ نہیں کرے گی، مگر اب ضرور یہ بات دیکھنے کو مل رہی ہے کہ پارٹی کہیں نہ کہیں اپنی راہ سے بھٹک رہی ہے۔’آپ‘ کے لیڈر نے یہ بھی کہاکہ مودی کی حمایت کرنا پارٹی کی پالیسی نہیں ہے، مگر ہم سب بیٹھ کراس پر ضرور غور کریں گے کہ پارٹی کس سمت میں جارہی ہے۔ اس سلسلے میں گفتگو کرنے کیلئے عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو ان سے رابطہ نہیں ہوپایا جبکہ پارٹی کے سینئر لیڈر منیش سسودیا بھی رابطہ نہیں ہوسکا۔
دوسری جانب نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے اقلیتی شعبہ کے جنرل سکریٹری نعیم انصاری نے کہاہے کہ مسلمانوں کے تئیں اروند کجریوال کی پارٹی کی پالیسی غیر واضح ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کی پالیسی اور کارکردگی سے کہیں نہ کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی سے ان کی ملی بھگت ہے۔ نعیم انصاری نے یہ بھی کہاکہ راجدھانی کے ترلوک پوری علاقہ میں جب فرقہ وارانہ ماحول خراب ہوا اور فساد ہوا، جس میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی، اس پر بھی اروند کجریوال اور ان کی ٹیم کے سینئرلیڈران نے کچھ نہیں کیا جبکہ ترلوک پوری سے عام آدمی پارٹی کا ہی ممبراسمبلی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ترلوک پوری میں مسلمانوں کا استحصال کیاگیا اور ان پر ظلم کیاگیا جس پر اروند کجریوال کا سامنے نہ آنا انتہائی مایوس کن ہے۔ مسٹرانصاری نے کہاکہ ہمیں غور کرناہوگا کہ ’آپ‘ کا نظریہ اور پالیسی کس بنیاد پر مبنی ہے۔
ادھر ’’مودی فارپی ایم، اروند فار سی ایم‘‘ کا پوسٹرسامنے آنے کے بعد پیداہوئے تنازعہ پرعام آدمی پارٹی کے اقلیتی مورچہ کے سربراہ عرفان اللہ خان نے کہاکہ پارٹی سیکولرازم سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی، مگر جو پوسٹر سامنے آیا ہے اس میں کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے، جسے پارٹی دور کرے گی اور پارٹی اپنے موقف سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ مسٹرکجریوال کے ذریعہ وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کرنے کے سوال پر انہوں نے کہاکہ مسٹرکجریوال نے جو بات کہی ہے وہ صرف ملک کے وزیراعظم کے طور پر جائزہ لیتے ہوئے کہی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسٹرکجریوال مودی کے مرید ہوگئے ہیں یا ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی آگئی ہے۔ عرفان اللہ خان نے کہاکہ اگر ہماری پارٹی کے عملی اقدامات کو بغوردیکھاجائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ ہم بی جے پی کے حامی نہیں بلکہ اس کیخلاف ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت تک بی جے پی سے ہماری کوئی بات نہیں ہوسکتی ہے جب تک کہ وہ فرقہ پرستی اور ہندوتوواد کو نہیں چھوڑ دیتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ عام آدمی پارٹی کسی ایک مذہب یا طبقے کی بات نہیں کرتی ہے بلکہ پورے ملک کی بات کرتے ہیں۔ پارٹی میں اس ایشو کو اٹھائے جانے کے سوال پر عرفان اللہ نے کہاکہ پارٹی نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ یہ غلطی سے ہوا ہے اور پارٹی کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اس لئے اس ایشو پر بات کرنے کی نوبت نہیں آئی۔
دریں اثنا عام آدمی پارٹی کی ویب سائٹ پر مودی حامی پوسٹر اور سابق وزیراعلیٰ وعام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال کے ذریعہ وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کرنے پر سماجی تنظیموں کے ذمہ داران کو بھی شدید تکلیف ہوئی ہے۔یونائیٹڈ مسلم فرنٹ کے سربراہ اور مسلم مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھانے والے ایڈوکیٹ شاہد علی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ اب اروند کجریوال کا اصلی چہرہ سامنے آگیاہے۔انہوں نے کہاکہ بنیادی طور پرآپ‘ بی جے پی کا حصہ ہے، اس لئے وہ بی جے پی کی مدح سرائی میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب مسٹرکجریوال ہندوتوادی طاقتوں کو مضبوط کرنے کیلئے اور کرسی حاصل کرنے کیلئے ہی وہ اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے شدید ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ عام آدمی پارٹی نے ’’مودی فار پی ایم، اروند فار سی ایم‘‘سے واضح کردیا ہے کہ مسلمانوں تم فٹبال ہو، جس طرح چاہیں گے اسی طرح لات مارکر کھیلیں گے۔ انہوں نے کہاکہ لوک سبھاانتخابات کے دوران دہلی میں مسلمانوں نے ’آپ‘ کی زبردست حمایت کی تھی، مگر اب وہ ہندوتوادی طاقتوں کو مضبوط کرنے اور ان کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے مسلمانوں کے تعلق سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کجریوال کی پارٹی کی آئیڈیالوجی غیر واضح ہے اوران کی پارٹی کی پالیسی بھی مسلمانوں کیلئے قابل قدر نہیں ہے کیونکہ وہ مسلم مسائل پر کھل کر بولنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔

 

...


Advertisment

Advertisment