Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 10:17 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

طالب علم کو پولس حراست میں لئے جانے پر ماحول کشیدہ

 

شعبہ حفظ کے15سالہ طالبعلم کوبی جے پی لیڈران کے ذریعہ موبائل چوری کے الزام میں زدوکوب کرنے کے بعد پولس کے حوالہ کرنے پر قصبہ جانسٹھ کے اقلیتی طبقہ میں غم وغصہ کا ماحول

یاسرعثمانی

دیوبند،7نومبر (ایس ٹی بیورو)قصبہ کا مشہور ادارہ تعلیم القرآن جانسٹھ مظفرنگر کے درجۂ حفظ کے ۱۵؍سالہ طالب علم زود وکوب کرکے پولیس حراست میں لئے جانے سے دو نوں فرقوں کے درمیان کشید گی کا ماحول قائم ہے اور فرقہ پرست کارکنان پوری طرح سرگرم ہو گئے ہیں ۔جس کو لیکر فرقہ وارانہ کشیدگی پائی جا رہی ہے ۔موصولہ اطلاع کے مطابق مدرسہ تعلیم القرآن جانسٹھ کا درجۂ حفظ کا ۱۵؍سالہ طالب علم ناظم عرف مزمل ولدریاض الدین محلہ لداوالہ مظفرنگر مدرسہ ہذا میں رہ کر تعلیم حاصل کرتا ہے تحریر کے مطابق گذشتہ شب تقریباً ۱۰؍بجے پیٹ میں درد کی شکایت ہونے پر مقامی ڈاکٹر سے دوائی لینے جارہا تھا کہ الزام ہے کہ راستہ میں محلہ گنج کے تراہے پرمحلہ کے ہی بھاجپا لیڈرمہیش چند شرماولدشوبھارام ،بچی سنگھ، نتن ولد مہیش چند نے طالب علم کو پکڑا اور خوفزدہ کرتے ہوئے اپنی آٹاچکی میں لے گئے یہاں پر مذکورہ تینوں نے طالب علم کو خوب زدود وکوب کیا بقو ل مولانا نعمان بچہ ڈرگیا اوراس نے اس وقت ان کے کہنے کے مطابق موبائل کی چوری قبول کرلی، خبر پاکر شب میں تقریباً ۱۲؍بجے مقامی پولیس طالب علم کو اپنے ساتھ لے گئی اور تھانہ میں بٹھادیا ،صبح ہوتے ہی یہ خبر جنگل میںآگ کی طرح پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔ طالب علم کی پٹائی کو لیکر اقلیتی طبقہ میں سخت غم غصہ پایا جار ہا ہے ۔وہیں دوسری جانب بی جے پی والے پولیس پر رنگے ہاتھوں چوری کا الزام بتاکر جانب دارانہ کاروائی کا الزام لگارہے ہیں۔اس سلسلے میں انسپکٹر جانسٹھ چرن سنگھ یادو نے کہا کہ دونوں جانب سے درخواستیں موصول ہوئی ہے ۔باریکی جانچ کرکے غیر جانب دارانہ کاروائی کی جائیگی۔ ادھر موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے انسپکٹر نے مدرسہ کے طالب علم کو مہتمم مولانا نذیر احمد قاسمی کے بڑے صاحبزداے مولانا لقمان مظاہری کے سپرد کردیا اور تحریر لیکر جانچ کاروائی شروع کردی ہے ۔بی جے پی کے مقامی لیڈران کا الزام ہے کہ مذکورہ طالب علم نے موبائل کی چوری کی ہے اور وہ بوقت چوری رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ انہوں نے پولیس پر سپا سرکار کے دباؤ میں کام کرنے کا بھی الزام لگایا ۔قابل غور امر یہ ہے کہ شدت پسندوں کے ذریعے آئے دن طلباء مدارس اور اقلیتوں کے خلاف زہر افشانی کے باؤجود پولیس کا شدت پسندو ں کے تئیں نرم گوشہ کی بنا پر حوصلے بلند ہیں ۔

...


Advertisment

Advertisment