Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 04:57 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

تلنگانہ کا پہلا بجٹ پیش

اقلیتی بہبود کیلئے 1030 کروڑ روپئے مختص

تلنگانہ کے پہلے بجٹ کو حزب اختلاف کی جماعتوں نے مایوس کن قرار دیا

حیدرآباد5نومبر(یو این آئی) تلنگانہ کا پہلا بجٹ وزیر فائنانس ای راجندر نے اسمبلی میں پیش کردیا ۔ سال (201415) کا مجموعی بجٹ ایک لاکھ (63796 )کروڑ روپئے کا رہا ۔ منصوبہ جاتی بجٹ (48647) کروڑ روپئے اور غیر منصوبہ جاتی بجٹ (5198949 ) کروڑ روپئے کا رہا۔فاضل آمدنی کا تخمینہ تین سو ایک کروڑمالیاتی خسارہ کا تخمینہ (7139872) کروڑ روپئے رکھا گیا ہے ۔ واٹر گرڈ کیلئے دو ہزار کروڑ روپئے ‘ اقلیتی بہبود کیلئے (1030) کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے پیش کردہ پہلے بجٹ میں پسماندہ طبقات کی ترقی کیلئے (2022) کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ آج کے سیشن کے آغاز کے ساتھ ہی وزیر فائنانس ای راجندر نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ اس ایوان میں تلنگانہ کے رہنماوں کی متحدہ آندھراپردیش کے موقع پر بے عزتی کی گئی تھی لیکن آج ہم تلنگانہ ریاست کا بجٹ پیش کررہے ہیں ۔ ہمارا مقصد تلنگانہ ریاست کا سنہری مستقبل بنانا اور اس کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ سماج منقسم ہے ‘ ہمیں عوام کو متحد کرنے کی ضرورت ہے ۔ تلنگانہ کو کئی چیزوں سے محروم رکھا گیا ۔ ہم تمام شعبوں کی تعمیر نو کریں گے جنہیں قبل ازیں حکومتوں کی جانب سے نظر انداز کیا گیا ہے ۔ یہ بجٹ صرف دس ماہ کا ہوگا ۔ بجٹ کا آغاز حزب اختلاف کی جماعتوں کے شورو غل کے درمیان ہوا ۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان نے ایوان میں پلے کارڈس کے ساتھ مظاہرہ کیا ۔ اس بجٹ میں تالابوں اور آبپاشی کے احیا کیلئے دو ہزار کروڑ روپئے ‘ باغبانی کو فروغ دینے کیلئے دو سو پچاس کروڑ روپئے ‘ پولٹری فارمس میں کسانوں کو سبسڈی کیلئے بیس کروڑ روپئے ‘ ڈیری شعبہ کیلئے 1630 کروڑ روپئے ‘ قبائلی بہبود کیلئے 4461 کروڑ روپئے ‘ ایس ٹی طبقہ کی ترقی کیلئے 7579 ‘ ایس سی طبقہ کی ترقی کیلئے 4559 کروڑ روپئے ‘ کلیانا لکشمی اسکیم کے تحت ایس ٹی طبقہ کی لڑکیوں کی شادی کیلئے 150 کروڑ روپئے ‘ ایس سی طبقہ کی لڑکیوں کی شادی کیلئے 80 کروڑ روپئے ‘ اقلیتی طبقہ کی لڑکیوں کی شادی کیلئے شروع کردہ اسکیم شادی مبارک کیلئے 100 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔بجٹ میں خواتین سے چھیڑ چھاڑ کو روکنے کیلئے 10 کروڑ روپئے ‘ دیہی مقامات پر غریب خاندانوں کو پکوان گیس کیلئے 100 کروڑ روپئے ‘ پیرانہ سالیبیواؤں کے وظائف کے طور پر 1317 کروڑ روپئے ‘ معذورین کے وظیفہ کیلئے 367 کروڑ روپئے ‘ کے جی تا پی جی تعلیم کیلئے 25 کروڑ روپئے ‘ ریاست میں مرکزی امداد کے ساتھ ماڈل اسکولوں کیلئے 940 کروڑ روپئے ‘ راشٹریہ مادھیامک شکشا ابھیان کیلئے 906 کروڑ روپئے ‘ فنی تعلیم کیلئے 212 کروڑ روپئے ‘ ٹریپل آئی ٹی کیلئے 119 کروڑ روپئے ‘ سرکاری اسپتالوں کو مستحکم کرنے کیلئے 2286 کروڑ روپئے ‘ عثمانیہ اور گاندھی اسپتال کی ترقی کیلئے 100 کروڑ روپئےپیٹلہ برج سرکاری اسپتال کی ترقی کیلئے 50 کروڑ روپئے ‘ نیلوفر اسپتال کی ترقی کیلئے 30 کروڑ روپئے ‘ کنگ کوٹھی اسپتال کی ترقی کیلئے 25 کروڑ روپئےعلاقائی اسپتالوں کو فروغ دینے کیلئے ہر اسپتال کیلئے ایک کروڑ روپئےحیدرآباد کو سلم سے پاک بنانے کیلئے 250 کروڑ روپئے اور آبی سربراہی کیلئے 150 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ بجٹ پیش کرنے کے بعد کارروائی کو جمعہ تک ملتوی کردیا گیا ۔ کانگریس ‘ تلگودیشم اور بی جے پی کے ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا ۔ قانون ساز کونسل میں نائب وزیر اعلی ٹی راجیہ نے بجٹ پیش کیا ۔ اس موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان نے ہنگامہ آرائی کی اور پوڈیم کے قریب پہنچ کر احتجاج کیا ۔ قبل ازیں دس بجے دن ریاستی کابینہ کی میٹنگ ہوئی جس میں اس بجٹ کو منظوری دینے کے بعد ایوان میں پیش کیا گیا ۔ اْدھر کونسل میں نائب وزیر اعلی ٹی راجیہ نے بجٹ پیش کیا ۔اسمبلی اجلاس سے قبل ریاستی وزرا ‘ ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی و کونسل نے گن پارک میں تلنگانہ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے کہا کہ14سال کی جدوجہد کے بعد تلنگانہ کو ریاست کا درجہ حاصل ہوا ۔ اس کے لئے کئی نوجوانوں نے اپنی جان کی قربانی پیش کی ۔ ان نوجوانوں کی قربانی ‘ ٹی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ کی بھوک ہڑتال اور تلنگانہ کو ریاست کا درجہ دینے کیلئے بڑے پیمانہ پر چلائی گئی تحریک کے سبب تلنگانہ کو ریاست کا درجہ حاصل ہوا ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اس تحریک میں طلبہ ‘ ڈاکٹرس ‘ وکلا اور سرکاری ملازمین کے ساتھ ساتھ تمام طبقات کے افراد نے حصہ لیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ اب تلنگانہ کو سنہرے تلنگانہ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں ۔ اس بجٹ میں فلاحی اسکیمات کو ترجیح دی گئی ہے ۔ حکومت کی جانب سے ترقیاتی کاموں پر بھی توجہ مرکوز کی جارہی ہے ۔ بجٹ اجلاس کے پہلے دن تلگودیشم کے ارکان اسمبلی این ٹی آر گھاٹ پہنچے اور پارٹی کے بانی و سابق وزیر اعلی این ٹی راما راؤ کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ بعد ازاں تلگودیشم کے ارکان اپنی حلیف جماعت بی جے پی کے ارکان کے ساتھ گن پارک پہنچے جہاں تلنگانہ کیلئے جان کی قربانی دینے والے نوجوانوں کو خراج عقیدت کے بعد ریلی کی شکل میں اسمبلی پہنچے ۔ ان ارکان نے ریاست میں برقی بحران کو قابو پانے میں حکومت کی ناکامی کے خلاف نعرے لگائے ۔ تلنگانہ کے کانگریسی ارکان اسمبلی بھی یادگار شہیداں گن پارک پہنچے جہاں انہوں نے تلنگانہ کیلئے جان کی قربانی دینے والوں کو خراج پیش کیا ۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی سیاہ کھنڈوے پہنے ہوئے تھے ۔ یہ ارکان اسمبلی مختلف شعبوں میں ٹی آر ایس حکومت کی ناکامی کے خلاف بطور احتجاج سیاہ کھنڈوے پہن کر اسمبلی پہنچے ۔ اسمبلی کے بجٹ سیشن کے سلسلہ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ۔ دو ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے ۔ ڈی ایس پی ‘ ایس آئی ‘ کانسٹبلس اور ہوم گارڈس کے علاوہ نیم فوجی دستوں کی کمپنیوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے ۔ اسمبلی جانے والے راستوں پر لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعہ سکیورٹی پر نگاہ رکھی جارہی ہے اور اسمبلی کے داخلہ پوائنٹس پر بھی سکیورٹی سخت کردی گئی ہے ۔
دوسری جانب تلنگانہ کے وزیرفائنانس ای راجندر کی جانب سے پیش کردہ پہلے بجٹ کو حزب اختلاف کی جماعتوں نے مایوس کن قرار دیا۔کانگریس کے رہنما اتم کمار ریڈی نے کہا کہ اس بجٹ میں اس بات کا تذکرہ نہیں کیا گیا کہ حکومت کسانوں کی خودکشی کے واقعات کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں کی ترقی کے لیے مناسب رقومات الاٹ نہیں کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں بجلی کا بحران ہے اور اس بجٹ میں اس بحران پر قابو پانے کے لیے کوئی اقدامات کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ، کانگریس کی پیشرو حکومت کی جانب سے پیش کردہ اقدامات اور کارناموں کو اپنے کارنامے ظاہر کر رہی ہے اور اس کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی رہنما کے لکشمن نے کہا کہ یہ بجٹ دراصل اعداد و شمار کا کھیل ہے۔ کانگریس کے رکن کونسل ڈی سرینواس نے کہا کہ یہ بجٹ عوام کی توقعات کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔

...


Advertisment

Advertisment