Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 10:40 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اردو زبان کے فروغ کیلئے خدمت اورقربانی کے جذبے کی ضرورت

 

جامعہ اردو علی گڑھ کے زیرِ اہتمام ’’ اردو زبان کی مقبولیت اور عالمی درجہ‘‘ موضوع پر ماریشس کی اردو اسپیکنگ یونین کے صدر شہزاد عبد اللہ احمد کا اظہار خیال، اردو اسپیکنگ یونین کے صدر سکریٹری دست محمد '' فروغِ اردو ایوارڈ '' سے سرفراز

علی گڑھ،03؍نومبر(ایس ٹی بیورو) زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اردو زبان کے فروغ دینے کیلئے خدمت اورقربانی کے جذبے کی ضرورت ہے اور ہم اردو کے فروغ کے لئے اپنی ساری طاقت صرف کردیں گے۔ان خیالات کا اظہار ماریشس کی اردو اسپیکنگ یونین کے صدر مسٹر شہزاد عبداللہ احمد نے جامعہ اردو علی گڑھ کے زیرِ اہتمام ’’ اردو زبان کی مقبولیت اور عالمی درجہ‘‘ موضوع پر منعقدہ سیمینار سے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگ جامعہ اردو علی گڑھ کے مرکز کے تحت ماریشس میں تیرہ ہزار لوگوں کو اردو کی تعلیم دے چکے ہیں اوروقت کے ساتھ وہاں اردو کی تعلیم اور فروغ کا سلسلہ مزید دراز ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ اردو علی گڑھ نے ماریشس میں اپنے مرکز کے توسط سے ہندوستان کی نمائندگی کا بہترین فریضہ انجام دیا ہے جس کے لئے ماریشس کی عوام جامعہ اردو علی گڑھ کی رہینِ منت ہے۔سیمینار کے ا عزازی مہمان اور مارشیس کی ا ردو اسپیکنگ یونین کے سکریٹری انور دست محمد نے کہا کہ دنیا بھر میں اردو کو فروغ دینے کے لئے تحریک چلائے جانے کی ضرورت ہے اور کسی بھی زبان کو مذہب سے نہ جوڑا جائے کیونکہ زبان پر ہر مذہب کا مساوی حق ہوتا ہے کسی ایک مذہب کا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اردو کو زندہ رکھنے ا ور اس کو فروغ دینے میں جامعہ اردو نے جو لازوال خدمات انجام دی ہیں وہ اردو زبان کی تاریخ کا سنہرا باب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ اردو علی گڑھ اردو کی ترقی کے وقف ہے اور اب اس کو دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اردو کے کارواں کو آگے بڑھانا چاہئے۔اس سے قبل مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے جامعہ اردو علی گڑھ کے ا و ایس ڈی فر حت علی خاں نے کہا کہ شہزاد عبداللہ احمد اور انور دست محمد جس طرح ماریشس میں اردو زبان کی خدمت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں وہ قابلِ ذکر اور قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ اردو زبان عرب اور یوروپین ممالک میں پھیل چکی ہے۔جامعہ اردو علی گڑھ کے ڈائرکٹر جسیم محمد نے کہا کہ جامعہ اردو علی گڑھ1939سے اردو زبان اور اردو داں طبقہ کی خدمت کا فریضہ انجام دے رہا ہے اور اب وقت آگیا ہے جب مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو جامعہ اردو علی گڑھ کی خدمات کو تسلیم کرنا چاہئے اور اس ادارہ کو پارلیامنٹ اور اسمبلی میں ایک بل پاس کراکے فاصلاتی یونیورسٹی کا درجہ دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ اردو کو فاصلاتی یونیورسٹی کا درجہ دئے جانے سے سماج میں حاشیہ پر کھڑے افراد کو ملک کے قومی دھارے میں جوڑا جاسکے گا جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو طبقہ میں بھی صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور جامعہ اردو ان صلاحیتوں کو صیقل کر رہا ہے اس لئے جامعہ اردو کوسرکاری سطح پر اس کا جائز مقام ملنا چاہئے۔سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر ایمریٹس پروفیسر فرحت اللہ خاں نے کہا کہ اردو زبان نے جس طرح ہماری تحریکِ آزادی میں مثبت رول انجام دیا اور ملک میں قومی اتحاد کے فروغ میں جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ڈرامے، فلمیں اور ناٹک اردو کے بغیر نا مکمل ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ زیادہ سے زیادہ افراد اپنے بچوں کو اردو زبان کی بنیادی تعلیم ضرور دلائیں تاکہ اپنے ثقافتی ورثہ کا تحفظ کیا جا سکے۔پروفیسر ہمایوں مراد نے کہا کہ اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی حکومت نے اردو زبان کوصوبہ کی دوسری سرکاری زبان قرار دیا ہے لہٰذا اسے چاہئے کہ صوبے میں اردو میڈیم ا سکولوں کے قیام کی اجازت دے اور ملک کے ا ولین فاصلاتی تعلیم کے ادارے جامعہ اردو علی گڑھ کو فاصلاتی یونیورسٹی کا درجہ دلائے۔جامعہ اردو علی گڑھ کے رجسٹرار مسٹر شمعون رضا نقوی نے کہا کہ اردو اور ہندی دونوں زبانیں ہندوستان میں پیداہوئیں اور جو لوگ اردو اور ہندی کو عالمی سطح پر مقبولیت دلا رہے ہیں حکومت ہند کو چاہئے کہ وہ ان کی حوصلہ ا فزائی کے لئے انہیں سرفراز کرے۔سیمینار میں دیگر مقررین نے بھی صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جامعہ اردو علی گڑھ کو فاصلاتی یونیورسٹی کا درجہ دلائے اور صوبہ میں اردو میڈیم اسکولوں کو تسلیم کرے اور نئے اردو میڈیم اسکولوں کے قیام کی اجازت دے۔اس موقعہ پر ماریشس کی اردو اسپیکنگ یونین کے صدر شہزاد عبداللہ احمد اور سکریٹری دست محمد کو ’’ فروغِ اردو ایوارڈ ‘‘ سے سرفراز کیاگیا۔ پروگرام کا آغاز معراج صدیقی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔نظامت کے فرائض مصائد قدوائی نے انجام دئے ۔ اس موقعہ پر محمد گلزار ایڈووکیٹ، قدیر ملک، رضوان علی خاں، ناصر اقبال، نثار، عرفان، شعیب، عبدالباسط، رگھوراج سنگھ، فرید خاں، یومن اسرار، کلثوم، ظہیر، نسرین، ذیشان خاں خصوصی طور پر موجود تھے۔

...


Advertisment

Advertisment