Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 12:54 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

غیر زرعی شعبو ں میں روزگار کے کثیر مواقع پیدا کیے جائیں :پرنب مکھرجی

 

نئی دہلی،3 ؍نومبر(آئی این ایس انڈیا )صدر جمہو رہ ہند پرنب مکھرجی نے آج کہا کہ غریبی کے خا تمے کے لیے زراعت کے علاوہ دوسرے شعبو ں میں روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔صدر نے روزگار کو غربت سے نمٹنے کا سب سے کارگر ہتھیا ر بتایا۔ررز گار کے تحفظ کے موضوع پر آج دارالحکومت میں منعقد ایک کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ صنعتی دنیا کو بھی اپنی سماجی ذمہ داری (سی ایس آر )کے تحت لوگوں کے لئے آمدنی کے مواقع پیدا کرنے اور صلاحیت کے فروغ کے انتظامات پر توجہ دینا چاہئے۔غریبوں کے لئے ذریعہ معاش کا تحفظ فراہم کرنے اور ہندوستان کی نوجوان نسل کے خواب کو شر مندہ تعبیر کرنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ہی کام کا فی زیا دہ چیلنج سے بھر ے ہیں۔اسی چیلنج کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ ہندوستا ن کی آبادی دنیا کا 17فیصد ہے جبکہ ملک کا رقبہ دنیا کا صرف 2.4فیصد ہی ہے۔ایسوچیم کی طرف سے منعقد اس تقریب میں مکھرجی نے کہا کہ ہندوستان میں چھ دہائی پہلے 60فیصد آبادی غربت میں زندگی گذار رہی تھی۔اب غربت کی سطح گھٹ کر 30فیصد پر آ گئی ہے۔اس کے باوجود بھی 2011.12میں 27کروڑ لوگوں کی ایک بڑی تعداد خط افلاس سے نیچے رہ رہی تھی۔اس لئے اب ہمارا مقصد غربت کم کرنا نہیں بلکہ غربت ختم کرنا ہے۔صدر نے کہا کہ سال 2020تک ہندوستانیو ں کی اوسط عمر 29سال ہوگی۔ایسے میں ملک کو نوجوانو ں کے کا م کی صلاحیت کیلئے نہ صرف بہتر روزگار کے مواقع تلاش کرنے ہوں گے بلکہ انہیں صلاحیت اور مہارت سے بھی لیس کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملک سے غربت کی لعنت کو مٹانے کے لیے روزگار کے مو اقع پیدا کرنا ہی سب سے مؤثر ہتھیا ر ثابت ہو سکتا ہے ۔صدر نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں اب نئے روزگار کے امکانات ٹھپ ہیں ۔کیونکہ اس میدان میں روزگار پر لوگوں کا انحصار پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ایسے میں کھیتی باڑی سے کے علاوہ دوسرے شعبو ں میں فو ری روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ زرعی شعبے آبادی کا دباؤ کم کرنے کے لئے غیر زرعی شعبے میں زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے بنیادی زراعت سے ثانوی زرعت ،جنگلات ، ماہی پروری ، پولٹری اور دودھ کی پیداوار وغیرہ کے شعبوں کی طرف پیش قدمی کی جانی چاہیے۔پرنب نے کہا کہ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں غذائی پروسیسنگ صنعت ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔لیکن اس علاقے کو مزید سر گرم بنا نے کے لئے کو لڈ اسٹوریج ، سامان کے رکھ رکھا ؤ ، پیکیجنگ اور نقل و حمل کے شعبو ں میں کافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔صدر نے اگرچہ، زراعت کو بھی صحت مند اور بہترین پیشہ بنانے کو کہا۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جانا چاہیے۔پرنب نے کہا کہ اگلی ایک دہائی میں ہندوستان دنیا میں نوجوان کا م کی صلا حیت والا سب سے بڑا سپلائر ہو گا۔اس لئے اس اعدادو شمار کی صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے لیے نوجوانوں کے ہنر کی ترقی اور صلاحیت کی تعمیر کی سمت میں قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ سال 2020تک اوسطا ہندوستانیو ں کی عمر 29سال ہو گی۔یہ عمر اوسطا امریکی اور چینی عمر کے مقابلے آٹھ سال کم ہوگی۔ہمیں نہ صرف اس بڑھتے نو جوان کا م کی صلاحیت کیلئے بہتر روزگار کے مو اقع تلا ش کرنا ہوگا بلکہ ہمیں اس اعدا وشمار کے فائدہ کو منافع بخش بنانے کے لئے انہیں صلاحیت اور مہارت سے بھی لیس کرنا ہوگا۔دنیا کی طرح بہتر مہارت والی کاروباری آبادی ہمیں دوسرے ممالک کے مقابلے میں کافی زیا دہ فا ئدہ دے سکتی ہے۔صدر نے یہ بھی کہا کہ ذریعہ معاش کی حفاظت سماجی تحفظ کے بغیر ادھوری ہے۔انہوں نے اس کے لیے مشورہ دیا کہ غیر منظم شعبے کو پنشن کی سہولت دینے والیسواولمبن ‘جیسی اسکیموں کو پورے غیر منظم شعبو ں کے مزدوروں پر نا فذ کیا جانا چاہئے ۔ہندوستان میں کاروباری آبادی کا 85فیصد یعنی تقریبا 40کروڑ لوگ غیر منظم شعبے میں کام کرتے ہیں۔صدر نے روزگار پیدا کرنے کے لئے کثیر رخی حکمت عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مضبوط بنایا جانا چاہیے کیونکہ بڑی تعداد میں روزگار کے مو اقع پیداکرنے کے معاملے میں اس علاقے میں کافی امکا نا ت ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’میک ان انڈیا‘کے تحت سرمایہ کاروں کے مطا بق کی جا رہی پہل سے ملک کی معیشت کم قیمت اور اعلی معیار کی مصنوعات کے بڑے مینوفیکچرنگ میدان کی شکل میں آگے بڑھے گی۔
صدر نے کہا کہ مہارت کی ترقی کی صدرکی پالیسی کے مطابق 2020تک ملک میں 50کروڑ لوگوں کی مہارت کی ترقی کی ضرورت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں جدید مہارت کی تربیت کے لئے دلچسپی پیدا کرنے کے واسطے مانیٹری محرکات کی بھی ضرورت ہے۔حکومت کے حالیہ پروگراموں جیسے ’سا نسد آدرش گرام یو جنا ‘ ’مالیاتی شمولیت‘ اور’ ڈیجیٹل انڈیا ‘کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے یقین کا اظہار کیا کہ ان پروگراموں سے ذریعہ معاش کے وسیع مواقع کے ساتھ ساتھ سماجی اقتصادی فوائد بھی دستیاب ہوں گے۔پرنب نے کہا کہ ہندوستان کے روزگار کے تحفظ سے جڑے کئی چیلنجز ہیں اور وقت کم ہے اس لئے صنعتی دنیا کو صلاحیت کے فروغ اور رو زگا ر کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک نظام تیار کرنا چاہئے ۔یہ نظام کمپنی ایکٹ 2013کے تحت کیے گئے کاپریریٹ سماجی ذمہ داری پہلو ں کے ذریعے بنا یا جا سکتا ہے ۔

...


Advertisment

Advertisment