Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 05:27 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

معالجین مریضوں کو کم سے کم دوا دینے کا خصوصی خیال رکھیں

 

'' فارماکوتھیراپی اپڈیٹ ان کامن میڈیکل ڈس آڈرس اے ریشنل ایپروچ'' موضوع پر منعقدہ قومی سی ایم سی سے خطاب کے دوران مہمانِ خصوصی پرو وائس چانسلر کا اظہار خیال*غلط ادویات کے ا ستعمال سے ہر سال ملک میں تقریباً تین لاکھ لوگ ٹی بی کے مرض کا شکار ہوجاتے ہیں:ڈاکٹر راجندر پرساد*دواؤں کا غلط استعمال عالمی مسئلہ بن چکا ہے: پروفیسرفریدہ احمد

علی گڑھ ،یکم نومبر(ایس ٹی بیورو)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے فارما کولوجی شعبہ کے زیرِ اہتمام ’’فارماکوتھیراپی اپڈیٹ ان کامن میڈیکل ڈس آڈرس اے ریشنل ایپروچ ‘‘ موضوع پر منعقدہ قومی سی ایم سی سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی پرو وائس چانسلر برگیڈیئر ایس احمد علی ( ریٹائرڈ) نے معالجین سے اپیل کی کہ وہ مریضوں کو دوا لکھتے وقت اس بات کا خصوصی طور پر خیال رکھیں کہ انہیں کم سے کم دوا دی جائے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ سالوں میں زیادہ ادوایات لکھے جانے کا چلن بڑھا ہے۔ایسے میں معالجین کا فریضہ ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق مریض کی سماجی ومعاشی صورتِ حال کے پیشِ نظر کم قیمت کی مناسب دوا تجویز کریں۔ برگیڈیئر علی نے معالجین سے کہا کہ وہ اینٹی بایوٹک ا دویات کے ا ستعمال میں کمی لانے کے لئے کام کریں اور لوگوں میں اس پر کم انحصار کرنے کے لئے بیداری لائیں۔دہلی یونیورسٹی کے وی پی چیسٹ انسٹیٹیوٹ کے ڈائرکٹر پروفیسر راجندر پرساد نے کہا کہ غلط ادویات کے ا ستعمال سے ہر سال ہندوستان میں تقریباً تین لاکھ لوگ ٹی بی کے مرض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی سی ایم ای میں نوجوان معالجین کی سرگرم حصہ داری نہایت ضروری ہے کیونکہ یہی ملک کا مستقبل ہیں۔میڈیسن فیکلٹی کے ڈین پروفیسرا یم امان اللہ خاں نے کہا کہ اس قسم کی سی ایم ای میں تدریسی پہلو پر خصوصی توجہ دی جانی چاہئے۔میڈیکل کالج کے پرنسپل ا ور سی ایم ا یس پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ مناسب طریقے سے دوائیں لکھ کر فارماکووجیلینس کے رول کو محدود کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ کالج میں فارماکووجیلینس پرا یک قومی کانفرنس ہونے جا رہی ہے۔سی ا یم ای کی آرگنائزنگ سکریٹری اور فارماکولوجی شعبہ کی سربراہ پروفیسرفریدہ احمد نے کہا کہ دواؤں کا غلط استعمال عالمی مسئلہ بن چکا ہے اور ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق50فیصد سے زائد غلط طریقے سے دوائیں لکھی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ا س سمت میں طبی خدمات مہیا کرا رہے لوگوں کو مزید سرگرم کئے جانے کی ضرورت ہے تاکہ مریضوں کا بہتر طریقے سے علاج ہوسکے۔سی ایم ای کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر جمیل احمد نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض فائزہ احسان خاں اور ڈاکٹر سنگیتا پی بھٹ نے انجام دئے۔اس موقعہ پر پرو وائس چانسلر نے ایک یادگاری مجلہ کا بھی اجراء کیا جس کے مدیرڈاکٹر وسیم رضوی ہیں۔

...


Advertisment

Advertisment