Today: Saturday, September, 22, 2018 Last Update: 11:54 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

مودی حکومت میں مسلمانوں کی تعلیم ، ترقی اور تحفظ کی گارنٹی ہوگی

 

زیادتیوں اور نا انصافیوں کے شکار مسلمانوں کے تئیں مودی کی تعمیری اور بہبودی سوچ وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی مسلم چہرہ سمجھے جانے والے ظفر سریش والا کا دعوی

نئی دہلی، 31 اکتوبر (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی مسلم چہرہ سمجھے جانے والے ظفر سریش والا نے مودی کے تعلق سے مسلمانوں کی تشویش دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ مودی حکومت میں مسلمانوں کی تعلیم ، ترقی اور تحفظ کی گارنٹی ہوگی۔ دیوبندی مکتب فکر اور تبلیغی جماعت سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کے ساتھ مسٹر سریش والا نے کل شام یہاں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں سرکردہ مسلمانوں اور ملی دانشوروں سے ملاقات کے دوران بتایا کہ 2002 کے فرقہ وارانہ تشدد کے دوران ان کے کنبے کے تاجروں کو سب سے زیادہ مالی نقصان ہوا تھا اور اس وقت وہ مسٹر مودی کے کٹر مخالف تھے۔ مسٹرسریش والا نے دعوی کیا کہ فسادات کے دوران وہ لندن میں تھے لیکن ان کے کنبے کے اراکین گجرات میں تھے۔ اس وقت انہوں نے لندن اور امریکہ میں مودی کے خلاف مقدمے بھی دائر کئے تھے اور انٹرنیشل کورٹ آف جسٹس میں ان کی پٹیشن کی وجہ سے ہی مودی کا امریکہ کا ویزا منسوخ ہوا تھا۔ مسٹر ظفرسریش والا نے مسلم دانشوروں کے سوال و جواب کے دوران بتایا کہ مودی سے تمام تر اختلافات کے باوجود کئی علما سے مشورے کے بعد انہوں نے اس وقت کے مسلم مخالف سیاست کرنے والے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی سے ملاقات کا ذہن بنایا اور پھر سال 2003 میں لندن میں ہی ان کی مسٹر مودی سے ملاقات ہوئی جس کے دوران انہوں نے مسلمانوں کے مسائل پیش کئے۔ فلم ساز مہیش بھٹ نے اس ملاقات میں ان کی مدد کی تھی۔ ملاقات کے دوران مسٹر مودی نے گجرات فسادزدہ مسلمانوں کو انصاف دلانے کے ساتھ یہ وعدہ بھی کیا کہ ان کی کوششس ہوگی کہ آئندہ گجرات میں کبھی اس طرح کے فسادات نہ ہوں۔ مودی کا قلب بدلنے کا دعوی ٰ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ایک طرف جہاں مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی کرنے والے پروین توگڑیا کو کنارے لگا دیا، وہیں 147لو جہاد148 کی تحریک چلانے والے یو گی آدتیہ ناتھ جیسے لوگوں کی انہوں نے کافی سرزنش کی ہے۔مسٹر سریش والا نے بتایا کہ شیخ الہند مولانا حسین احمد مدنی کی مالٹا جیل سے واپسی کے بعد لکھی ہوئی اس کتاب کو پڑھ کر مودی سے بات کرنے کا میرا ذہن بنا، جس میں مولانا نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کی عسکری طاقت ختم ہوچکی ہے اب انہیں ٹکراو اور مزاحمت کا راستہ ترک کرکے مذاکرات کی راہ پر چلنا چاہئے تبھی انہیں کامیابی مل سکتی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے صلح حدیبیہ کا بھی حوالہ دیا۔ مسٹر ظفر والا نے دعوی کیا کہ وزیراعظم مودی کو اس بات کا پورا احساس ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ زیادتیاں اور ناانصافیاں ہوئی ہیں اور وہ ایسے مظلوم ہیں جنہیں مدد کی ضرورت ہے اور یہ کہ 20 کروڑ مسلمانوں کی ترقی کے بغیر یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ بہر حال مودی حکومت کی بہبودی اسکیموں سے استفادہ کرنے کے لئے مسلم نوجوانوں کو سیاست میں قدم رکھنا ہوگا اور پھر صحیح پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی بہبود اور ترقی کے لئے راہیں تلاش کرنی ہوں گی تبھی ہم آگے بڑھ سکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ 2002 کے گجرات فسادات کے بعد ہم مودی کے خلاف جتنی زیادہ مہم چلا رہے تھے، انھیں اتنی ہی مقبولیت حاصل ہو رہی تھی۔ اس لئے ہم نے اپنی حکمت عملی تبدیلی کرکے مذاکرات اور خیرسگالی کی راہ اپنائی۔ اس لئے انہوں نے مسلمانوں کو حکومت کے تئیں مثبت اور تعمیری نظریہ اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے مرکزی حکومت کے سامنے اپنے مسائل اور حل پیش کرنے کی وکالت کی ۔ مسٹر سریش والا سے سوال کرنے والوں میں صحافی معصوم مراد آبادی، صہیب الیاسی، حاجی پرویز میاں ، نوید حامد، سپریم کورٹ کے وکیل مشتاق احمد وغیرہ شامل تھے جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر پروفیسر سید شاہد مہدی نے آر ایس ایس کی طرف سیتاریخ کی نصابی کتابوں میں تبدیلی اور تحریف کی کوششوں پر مسلمانوں کی تشویش سے ظفر سریش والا کو آگاہ کیا، جسے انہوں نے سنجیدگی سے سنا۔اس میٹنگ کے اہم شرکا میں انڈیا اسلامک کلچرک سینٹر کے صدر سراج الدین قریشی، آر این آئی کے ڈائرکٹر ایس ایم خان، دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین قمراحمد، ابرار احمد، ایم اے حق، احمد رشید شیروانی، ایڈووکیٹ وصی نعمانی وغیرہ شامل تھے۔ صنعت کار احمد رضا نے اس میٹنگ کا اہتمام کیا تھا۔

...


Advertisment

Advertisment