Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 03:55 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اپنے گھروں و دوکانوں پر اردو میں بورڈ لگانے سے ہمیں کس نے روکا؟

 

محبان اردو سے دانشوران اردو کا سوال ، این سی پی یو ایل کی سہ روزہ عالمی کانفرنس میں اردو کو جدید ٹکنالوجی سے جوڑے اور نئی نسل کو تہذیب کی زبان سکھانے پر زور، اردو والوں سے احساس کمتری کا شکار نہ ہونے کی اپیل

محمداحمد

نئی دہلی ،30اکتوبر ( ایس ٹی بیورو) قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام آج راجدھانی دہلی کے انڈیا ہیبیٹیٹ سنٹر میں سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس کا آغاز ہوا۔ مذکورہ کانفرنس میں ملک و بیرون ملک کے اردو اسکالرز، ادیب ، دانشور اور بڑی تعداد میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی ،دہلی یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کیساتھ ساتھ کئی مدارس و مکاتب کے طلبا و طالبات نے شرکت کی ۔کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں اپنا خطبہ استقبا لیہ پیش کرتے ہوئے اردو کونسل کے ڈائریکٹر خواجہ اکرام الدین نے عالمی اردو کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہاکہ ’اردو نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ یہ مکمل تہذیب ہے جو برصغیرہند کی تہذیبی وراثت کی علمبردار ہے اور اپنے اندر پور ی تہذیب کو سموئے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر تجارت کی زبان انگریزی ہے تو تہذیب کی زبان ارود ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اردو کی بقا اور اس کے فروغ میں حکومت ہند نے ہر دور میں اسکی حوصلہ افزائی اور مدد کی ہے ۔
اردو کے ممتاز ادیب اور دانشور پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ انسانوں کی طرح زبانیں بھی سفر کرتی ہیں۔ 20 ویں صدی کے خاتمے کے بعد اردو زبان نے بھی اپنے اس سفر میں بہت نشیب و فراز دیکھے ہیں اور مشکل دور سے گزرنے کے باوجود اردو نے خود کو زندہ رکھا۔ تقسیم ہند کے بعد بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے، جسکا اسے کافی نقصان بھی اٹھانا پڑا، لیکن محبان اردو کی مسلسل جدوجہد اور حکومت کے ہر دور میں ان کی مدد کی بدولت اردو اپنے رسم الخط کے ساتھ خود کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہی۔
کناڈا سے آئے ڈاکٹر سید تقی عابدی نے خود کو صحت کا طبیب ، ادب کا مریض اور اردو کا وکیل بتاتے ہوئے کہا کہ 100برس قبل اردو ترقی بورڈ قائم کیا گیا تھا مگراب اردو تحفظ بورڈ بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس وقت اس بات کا جائزہ نہیں لیا گیا کہ نئے اور برق رفتار زمانے کے تقاضوں کے مطابق اردو کے مسائل اور تحفظ کیلئے جامع احاطہ کیا جاسکے۔ ہندی اور اردو کو دو سگی بہنیں بتاتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ ’انکے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے اور دونوں ایک دوسرے کا فروغ چاہتی ہیں۔ پروفیسر عبدالستار دلوی نے کہا کہ اردو ہندستان کی انتہائی شیریں زبان ہے ۔ اردو زبان ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ تہذیب کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔مصر سے آئے مندوب ڈاکٹر محمد احمد نے اردو کو تعلیم اور روزگار سے ہم آہنگ کرنے کی وکالت کی۔ پروفیسر عتیق اللہ نے کہا کہ صرف شاعری اور ادب کے ذریعہ کسی زبان کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کیلئے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔اپنے بچوں کی اردو تعلیم اور دیگر محاذ پر ہم اردو کے ساتھ کتنا انصاف کررہے ہیں؟یہ ایک اہم سوال ہے ۔ہم کو اردو کی بستیاں بسانے اور اپنی دوکانوں پر اردو کا بورڈ لگانے سے کس نے منع کیا ہے ۔روزنامہ انقلاب کے معروف صحافی شاہد لطیف نے کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے انفارمیشن ٹکنالوجی کے اس جدید دور میں روزمرہ کے استعمال میں آنے والے آلات کے نام اردو میں ایجاد کرنے کی وکالت کی۔کناڈا کے محمد نعمان وحید بخاری نے الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے توسط سے نئی نسل کو اردو سے جوڑنے پر زو ردیا۔جرمنی سے آئے سید اقبال حیدر نے کہا کہ رسم الخط اردو کی روح ہے اس لئے اردو رسم الخط کو زندہ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔اردو کونسل کے ریسرچ افسر ڈاکٹر کلیم اللہ نے حاضرین کا نفرنس اور مندوبین کا شکریہ ادا کیاجبکہ شگفتہ یاسمین نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ اس موقع پر کمال فاروقی ، این سی پی یو ایل کے قاسم انصاری ، راشٹریہ سہارا اردو کے ہیڈ سید فیصل علی ، کانگریس کے انیس درانی ، علیم الدین اسعدی ، معروف صحافی سہیل انجم اور آبگینہ نظر سمیت متعدد لوگوں نے شرکت کی ۔
 

...


Advertisment

Advertisment