Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 11:53 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

جموں وکشمیر میںپہلے مرحلے کے الیکشن کی نوٹیفکیشن جاری، انتخابی سرگرمیاں تیز

 

سیاسی جماعتیں رائے دہندگان کو لبھانے کی کوششوں میں مصروف

سری نگر،28اکتوبر(یو این آئی) جموں کشمیر کی 87 رکنی اسمبلی کی 15 نشستوں پر ہونے والے پہلے مرحلے کی پولنگ کے لئے آج نوٹیفکیشن جاری ہو گئی۔ اسی کے ساتھ ریاست میں انتخابی سرگرمیاں تیز ہوگئیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا عمل شروع کردیا ہے ۔مرکزی الیکشن کمیشن کی ریاست میں حال ہی میں انتخابات کرانے کے اعلان کے بعد کل شام گورنر این این ووہرا نے اسمبلی انتخابات کرانے کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی منظوری دے دی تھی ۔ریاست کی 87 رکنی اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں 15 سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہو گا۔ الیکشن کمیشن نے حال ہی میں جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا اعلان کیا تھا، جس کابرسر اقتدار نیشنل کانفرنس کو چھوڑ کر تمام سیاسی جماعتوں نے حمایت کیا ہے۔پہلے مرحلے کے لیے پرچ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ سات نومبر ہے۔ اور امیدوار 10 نومبر تک نام واپس لے سکتے ہیں ۔پہلے مرحلے کے لیے پولنگ 25 نومبر کو ہو گا۔ریاست کی گریج، باندیی پورا، سوناواڑی، کنگن، گندیربل ،نوبرا، لیہہ کارگل، جنسکار، کشتواڑ، اندروال، ڈوڈا، بھدیرواہ، رام بن (محفوظ) اور بنیہال اسمبلی سیٹوں پر پہلے مرحلے میں ووٹنگ ہونا ہے۔

دوسری جانب ریاست جموں وکشمیر میں سیاسی جماعتوں نے اسمبلی انتخابات کیلئے شیڈول اور پہلے مرحلے کی پولنگ کیلئے نوٹی فکیشن جاری ہونے کے ساتھ ہی رائے دہندگان کو لبھانے کیلئے حکمت عملیاں ترتیب دینے کا عمل بھی شروع کردیا ہے۔ ریاست میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کیلئے جن 15 اسمبلی حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے ا


±ن میں وادی کشمیر کے گریز، بانڈی پورہ، سونہ واری، کنگن، گاندربل، لداخ خطے کے نوبرا، لیہہ، کرگل ، زنسکر اور جموں خطے کے کشتواڑ، اندروال، ڈوڈہ، بھدرواہ، رام بن (ایس سی) ، بانہال حلقے شامل ہیں۔ ان حلقوں کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرنے کی آخری تاریخ 5 نومبر مقرر کی گئی ہے جبکہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 7 نومبر کو ہوگی۔ کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 10 نومبر مقرر کی گئی ہے جبکہ پولنگ 25 نومبر کو ہوگی۔نوٹی فکیشن جاری ہونے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں نے رائے دہندگان کو لبھانے کیلئے بڑے پیمانے پر انتخابی مہموں کا آغاز کردیا ہے جبکہ انتخابی منشور ترتیب دینا شروع کردیے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتیں سیلاب کی تباہ کاریوں پر سیاست چمکائیں گیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ موجودہ حکومت فنڈس کی کمی کی وجہ سے سیلاب متاثرین جن کے مکانات اور دکانات حالیہ تباہ کن سیلاب کی نذر ہوگئے، کی بازآبادکاری جنگی بنیادوں پر ممکن بنانے میں ناکام ہوئی اور اب اپوزیشن جماعتیں اس کو انتخابی مہم کے اہم ایشو کے طور پر اچھالیں گی۔ سیاسی مبصرین نے مزید کہا کہ اب چونکہ ریاست میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذالعمل ہوچکاہے تو اس ماحول میں سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کا عمل بھی متاثر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اب امداد اور بازآبادکاری کوششوں کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیں گی۔ذرائع کے مطابق سیاسی جماعتوں نے امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دینا شروع کردیا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے پہلے ہی تمام نشستوں کیلئے پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے جبکہ کانگریس اور بی جے پی کی طرف سے پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس پارٹی اگلے چند روز میں اپنے پارٹی امیدواروں کے ناموں کی فہرست جاری کرے گی۔کانگریس پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ وادی کشمیر کی تین نشستوں کو چھوڑ کر پارٹی تمام اسمبلی حلقوں سے امیدوار کھڑا کرے گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی ریاست کی تمام اسمبلی حلقوں کیلئے پارٹی امیدوار کھڑا کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔ نیشنل کانفرنس کی بات کرے تو پارٹی پہلے ہی امیدواروں کی تین فہرستیں جاری کرچکی ہے تاہم کچھ اہم اسمبلی حلقوں کیلئے امیدواروں کے ناموں کا اعلان ہونا باقی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے کارگزار صدر اور ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ حلقہ انتخاب گاندربل سے انتخاب لڑیں گے جس حلقہ کی وہ نمائندگی کررہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ خبریں بھی گشت کررہی ہیں کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ گاندربل کے ساتھ ساتھ حلقہ انتخابات سونا وار سے بھی انتخابی میدان میں اتریں گے۔ تاہم اگلے کچھ دنوں میں اس حوالے سے پارٹی کی جانب سے حتمی اعلان کیا جانا متوقع ہے۔قابل ذکر ہے کہ نیشنل کانفرنس پارٹی پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ پارٹی صدر و سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ انتخابی میدان میں نہیں آئیں گے۔ فاروق عبداللہ 2008 میں منعقد کئے گئے اسمبلی انتخابات میں سری نگر کے دوحلقوں (حضرت بل اور سونہ وار) کیلئے میدان میں اترے تھے اور دونوں حلقوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب بھی ہوگئے تھے۔ تاہم 2009 میں پارلیمنٹ کیلئے منتخب ہونے کے بعد دونوں حلقوں سے مستعفی ہوئے تھے۔ نیشنل کانفرنس چاہے گی کہ سری نگر میں اس کی کامیابی کا سلسلہ جاری رہے۔ ضلع سری نگر دہائیوں سے نیشنل کانفرنس کا گڈھ رہا ہے اور اس وقت بھی ضلع کی آٹھوں اسمبلی حلقوں کی نمائندگی اسی جماعت کے لیڈران کررہے ہیں۔ حالیہ سیلاب میں ریاست کے دوسرے اضلاع کے مقابلے میں سری نگرسب سے زیادہ متاثر رہا جہاں ہزاروں مکانات زمین بوس ہوئے، ہزاروں تاجرمتاثر ہوئے اور دیگر تعمیری ڈھانچوں کو زبردست نقصان پہنچا ۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سیلاب کو آئے 50 دن کا عرصہ گذریا گیا لیکن ابھی بھی سری نگر میں معمولات زندگی بحال نہیں ہوئے ہیں۔ اس کو دیکھتے ہوئے نیشنل کانفرنس کی حریف جماعتیں خاص طور پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سیلاب کو ایشو بناکر سری نگر کے ووٹروں کو لبھانے کی کوششیں کرے گی۔ کوشش کے طور پر پہلے ہی پی ڈی پی نے کچھ ہفتے پہلے ہی وزیر اعظم نریندر مودی سے سری نگر کو سمارٹ سٹیز پروجیکٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا اور ہوسکتا ہے کہ پی ڈی پی اس مطالبے کو اپنے انتخابی منشور میں بھی شامل کرے گی۔

...


Advertisment

Advertisment