Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 09:25 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

ہندی میڈیا مسلمانوں کو ہر محاذ پر بدنام کرنے سے باز نہیں آرہی ہے

 

سدرشن چینل پر اتحاد المسلمین پر پا پندی کی وکالت ،مدارس دہشت گردی کے اڈ ے ،غیر ممالک سے آنے والے مسلمانوں کو القاعدہ کا ایجنٹ بتا کر مقامی لوگوں کا عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے،جید عالم دین پر ہندی روزنامہ نے لگائی تہمت

محمد شاہزر خان

کیرانہ،28اکتوبر(ایس ٹی بیورو) ملک کی خفیہ ایجنسیاں اور ہندی الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا مسلمانوں کو ہر محاذ پر بدنام کرنے سے باز نہیں آرہی ہیں ۔کبھی ہندی چینل سدرشن پر اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم)پر پا پندی کی وکالت کی جاتی ہے،تو کبھی مدارس کو دہشت گردی کے اڈہ بتایا جاتا ہے ،تو کبھی غیر ممالک سے آنے والے مسلمانوں کو القاعدہ کا ایجنٹ بتا کر مقامی لوگوں کا عرصہ حیات تنگ کیا جاتا ہے۔حال ہی میں ایک تازہ واقعہ پیش آیا جسے گھنونی حرکت کے ساتھ دہشت گردی میں بدلنے کی ایک ہندی روزنامہ نے ناکام کوشش کی۔بتایا گیا ہے کہ علاقہ کے گاو


¿ں بھورا میں پاکستان سے چل کر ایک مہمان یہاں پہنچا تھا،جس وقت وہ شاملی کے ایل آئی یو دفتر میں پہنچا تو اسے میرٹھ سے شائع ایک ہندی روزنامہ کا صحافی ٹکراگیا، مذکورہ صحافی نے اس مہمان کو القاعدہ سے جوڑنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی،بتایا گیا ہے کہ 55سالہ اختر نامی پاکستانی ،جس آدمی ،سینا کی شناخت پر یہاں آیا تھا،اختر کے ہندوستان میں داخل ہونے سے قبل اس کا انتقال ہوگیا،جس پر سینا کے بیٹے اکرام نے ایل آئی یو دفتر میں اپنی جانب سے بیان حلفی (ایفے ڈیوٹ)پیش کرکے مہمان کی آمد کرائی،اسی دوران مذکورہ مہمان اختر کو اخبارات میں بے بنیاد خبریں شائع ہونے پر کئی بار اٹیک کے جھٹکے پڑے۔اگلے ہی روز میرٹھ سے شائع ایک دیگر ہندی روز نامہ نے مہمان کے ساتھ ہوئے معاملہ کی تردیدشائع کی ۔ اب مذکورہ مہمان معمر اخترولد مانگا خان ہندوستان چھوڑنے کے لئے بضد ہے۔دوسرا واقعہ علاقہ کے جھنجھانہ قصبہ میں آج میرٹھ سے شائع ایک معروف ہندی روزنامہ نے مدرسہ کے مہتمم پرگھناونی تہمت لگانے کا کام کیا ہے۔ قصبہ کے معروف صحافی خورشید عالم جھنجھانوی نے بتایا کہ مظفرنگر اور میرٹھ کے کچھ ہندی روزناموں میں جھوٹ پر مبنی خبر شائع کی گئی،جس میں مدارس اور علما کو بدنام کرنے کی سازش رچی گئی۔انہوں نے بتایا کہ مولانا سلیم مظاہری جھنجھانہ میں ایک دینی ادارہ چلاتے ہیں جو نہایت ہی منکسر المزاج اور جید عالم ہیں،مذکورہ اخبارات نے مولانا پر ایسی الزام تراشی اور بہتان لگایا جو ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جس لڑکی کا معاملہ اخبارات میں اچھالاگیا،در اصل مذکورہ لڑکی کا باپ منشیات کا عادی ہے اور مذکورہ لڑکی کا باپ سلیم احمد مدرسہ میںچوری کرتے رنگے ہاتوں پکڑا جاچکا ہے،معافی مانگنے پر اسے چھوڑ بھی دیاگیا تھا۔مولانا پر تہمت لگانے کے لئے شہر کے کچھ شرپسندوں نے لڑکی کہکشاں کے چچا کو روپے دےکر مولانا کے خلاف تھانے میں تحریر دلائی ۔انہوں نے بتایا کہ کہکشاں10روز پہلے سے ہی مدرسہ میں نہیں آرہی ہے،جس کی وجہ ادارہ کہ مہتمم نے بتاتے ہوئے کہاکہ کہکشاں سے ماہانہ فیس10روپے طلب کی گئی تھی مگر اس کے بعد وہ مدرسہ میں نہیں آئی،اس کی تصدیق ادارہ کے دیگر اساتذہ نے بھی کی اور طلبا و طالبات نے بھی۔طلبہ نے بتایا کہ ایسا کوئی واقعہ یہاں پیش نہیں آیا۔ادھر نمائندہ نے پیر اخوند میں واقع مدرسہ ارشدیہ میں مہتمم مولانا سلیم مظاہری سے اس بابت بات کی اور اہل محلہ سے بھی پوچھ تاچھ کی مگر مولانا پر لگائے گئے الزامات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ مولانا نے بتایا کہ کچھ غنڈہ عناصرنے ان سے رقم کا بھی مطالبہ کیا تھا اور نہ دینے پر انہیں کسی بھی فرضی معاملہ میں پھنسانے کی دھمکی دی تھی۔

...


Advertisment

Advertisment