Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 03:58 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اردو پاکستان کی نہیں ہندوستان کی زبان

 

سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس کی تیاریوں کی میڈیا کو کونسل کے ڈائرکٹر نے دی جانکاری ،اختتامی اجلا س میں اسمرتی ایرانی کریں گی شرکت ، سہ لسانی فارمولہ کی ذمہ داری سی آئی آئی ایل میسور کے ذمہ : خواجہ اکرام

محمداحمد

نئی دہلی ،28اکتوبر( ایس ٹی بیورو) قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام 30اکتوبر کو ہونے والی سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس سے متعلق آج فروغ اردو بھون میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔اس موقع پر کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کہا کہ’ کونسل کا مقصد صرف اردو زبان ہی نہیں بلکہ ہندوستانی ذہن وتہذیب کو بھی فروغ دینا ہے ، جس کےلئے کونسل کوشاں ہے ۔ جو لوگ آج یہ کہتے ہیں کہ اردو پاکستان کی زبان ہے میں انکو صاف لفظوں میں بتانا چاہتاہوں کہ اردو ہندوستان میں پلی بڑھی اور یہ یہیں کی زبان ہے جو اب سرحدوں کو چیرتی ہوئی دنیا کے گوشے گوشے میں پہونچ چکی ہے اور یہ ہندوستانی تہذیب و وراثت کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے ‘۔ موجودہ حکومت کی اردو دلچسپی سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے مسٹر اکرام نے کہا کہ حکومت نے نہ ہمارے بجٹ میں کوئی کٹوتی کی ہے اور نہ ہی کسی طرح کی ہم پر کوئی بندش ہے ، بلکہ حکومت کی جانب سے یہ صاف حکم ہے کہ اردو کو اسکل سے جوڑا جائے اورزیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار ملے ، نیز اردو کے فروغ کیلئے جوکام کیا جاسکتا ہے وہ کیا جائے ۔ انہو ں نے مزید کہا کہ’ موجودہ حکومت اس بات کو لے کر کافی متفکر ہے کہ آخر گذشتہ حکومت میں اردو کے فروغ سے متعلق جو پالیسیاں بنیں انکا نفاذ کیوں نہیں ہوسکا اور اس کے اثرات زمین پر کیوں نہیں مرتب ہوئے‘۔انہوں نے کونسل کے کارناموں سے میڈیا کو واقف کراتے ہوئے کہا کہ ہم نے ’اردو لرننگ سنٹر بنائے ہیں اور چونکہ موجودہ دور میں اسٹڈی ٹول بدل گئے ہیں اس لئے ہم نے آن لائن اردو لرننگ پروگرام شروع کئے ہیں جس سے 17ممالک کے طلبا و طالبات استفادہ کررہے ہیں ،جنکا پورا ڈاٹا ہمارے پاس موجودہے ۔کونسل نے کنڑ کیساتھ ساتھ 22شیڈیولڈ لنگویج میں اردو سیکھنے سکھانے کیلئے ڈکشنری مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی شروعات ہوچکی ہے ۔ اگر اردو کی ریڈرشپ کم ہوئی ہے تو بڑھی بھی ہے کیونکہ بچوں کا رسالہ جو کونسل چھاپتی ہے اسکی اشاعت 67ہزار ہوگئی تھی ، جس کے بعدہمیں اس بات پر غور کرنا پڑا کہ کیسے اس پر کنٹرول کیا جائے ،کیونکہ حکومت سبسڈی ریٹ پر اسے دستیاب کراتی ہے ۔

مسٹر خواجہ اکرام نے مزید کہا کہ اردو دنیا کا رسالہ 37,000 لوگوں تک پہونچ رہا ہے اور آج ہمارے ٹیبل پر کم و بیش 17 اخبار یومیہ آتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ اردو کا مستقبل حد تابناک ہے ، مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر اکرام نے کہا کہ کونسل کی کمیٹی کی مدت12جون کو ختم ہو چکی ہے ، صرف مالی معاملوں کے علاوہ ڈائرکٹر کو سارے اختیارات ہیں ۔ اس لئے ہمارا کام آسانی سے چل رہا ہے ۔مالی معاملوں سے متعلق معاملے اگلے ماہ تک آئیں گے تب تک ہمیں امید ہے کہ کمیٹی کی تشکیل ہوجائےگی ۔ سہ لسانی فارمولہ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ سی آئی آئی ایل ( سنٹر ل انسٹی ٹیوٹ فار انڈین لینگویجز) کاکام ہے ، اسمیں کیا پیش رفت ہوئی اس کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے ۔ کیونکہ موجودہ حکومت کی ابھی تشکیل ہوئی ہے اس لئے اب میٹنگ کے بعد ہی اس کی تفصیل سے ہم میڈیا کو باخبر کرائیں گے ۔ انہو ں نے کہا کہ ہم نے تقریباً12ممالک کے لوگوں کو دعوت دی ہے جسمیں سے بیشتر لوگ آچکے ہیں ۔ جہاں تک رہی بات ریسرچ اسکالرز کی پریشانیوں اور انکے معیار کی تو ا سکے بارے میں بھی کونسل بے حد متفکر ہے اور کونسل نے اس بین الاقوامی اردو کانفرنس میں انکو پوری پوری جگہ دی ہے ۔ بیرون ممالک سے آنے والے مہمانوں کے مقالات پہلے ہی ہم نے طلب کر لئے تھے اور ان پر نظر ثانی کے بعد انہیں دوبارہ ارسا ل کردیا گیا تاکہ کوئی بھی مقالہ ہماری پالیسی سے متصادم نہ ہو ۔ اور ہندوستان و سرکار کے کیخلاف نہ ہو ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اختتامی اجلاس میں وزیر موصوفہ اسمرتی ایرانی شرکت کریں گی ، جس سے حکومت کی دلچسپی کا اندازہ لگایا جاسکتاہے ۔

...


Advertisment

Advertisment