Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 09:30 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

وادی میں ہڑتال سے معمولات زندگی درہم برہم

 

کرفیو جیسی پابندیاں عائد ، سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ، علیحد گی پسند لیڈران نظر بند

سری نگر ، 27 اکتوبر (یو این آئی) سری نگر اور وادی کے دوسرے بڑے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹرس میں پیر کے روز ہڑتال سے زندگی کے معمولات درہم برہم ہوکر رہ گئے۔ ہڑتال کی کال تمام علیحدگی پسند جماعتوں نے دی تھی ۔ انتظامیہ نے امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے شہر خاص میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کردی تھیں۔ علیحدگی پسند لیڈران کی جانب سے کسی بھی ریلی کو نکالنے کی کوشش کو ناکام بنانے کے طور پر شہر کے چپے چپے پر سیکورٹی فورسز تعینات کردی گئی تھیں جبکہ علیحدگی پسند لیڈران کو اپنی اپنی رہائش گاہوں میں نظر بند کردیا گیا تھا۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ 67 برس قبل آج ہی کے دن 27 اکتوبر کو ہندوستانی فوج ہوائی جہازوں کے ذریعے سری نگر ائرپورٹ پر اتری تھی اور قبائلی حملہ آوروں جنہیں پاکستان کی پشت پنائی حاصل تھی، کے خلاف لڑی تھی۔ جموں وکشمیر کے اْس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے قبائلی حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کیلئے حکومت ہند سے فوجی امداد کی باضابطہ درخواست کی تھی جو حکومت ہند نے دستاویز الحاق کی منظوری کے ساتھ ہی پوری کی تھی۔ کشمیری علیحدگی پسند لیڈران اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اوروہ ہر سال 27 اکتوبر کو سری نگر میں ہندوستانی فوج اتارنے کے خلاف ہڑتال کی کادل دیتے ہیں۔ ہڑتال کی وجہ سے وادی بھر میں بالعموم اور سری نگر میں بالخصوص دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل وحمل بھی معطل رہی۔ تاہم سری نگر کے جن علاقوں کو پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا اْن میں اکادکا گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ ہڑتال کی وجہ سے سرکاری دفاتر، بینکوں اور نجی دفاتر میں بھی کام کاج متاثر رہا۔ وادی بھر کے اکثر اسکولوں میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ حالیہ سیلاب کے بعد جہاں وادی کشمیر میں بیشتر نجی تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوگئی ہیں وہیں حکومت کے ذریعے چلائے جارہے اکثر تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں ہنوز معطل ہیں۔ بعض مقامات پر پتھراؤ کے واقعات بھی پیش آئے۔ سری نگر میں مائسمہ جہاں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کا صدر دفتر واقع ہیں، میں بھی پتھراؤ کا ایک واقعہ پیش آیا۔ سیکورٹی فورسز کو مائسمہ میں اْس وقت لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا جب مظاہرین جو آزادی حامی نعرے لگارہے تھے نے بڈشاہ چوک اور تاریخی لال چوک کی جانب پیش قدمی شروع کی۔ آگے بڑھنے کی اجازت نہ ملنے پر مظاہرین نے گاؤ کدل کے پاس سڑک بلاک کرکے ٹائر جلائیں۔ اگرچہ سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ایک بار پھر لاٹھی چارج کیا تاہم اس کا مظاہرین پر کوئی اثر نہیں پڑا اور مظاہرین تنگ گلیوں سے سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کرتے رہے۔ بعدمیں سیکورٹی فورسز نے حالات کو معمول پر لانے کیلئے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغے۔اس دوران پولیس ایک نوجوان کو اْس وقت گرفتار کرکے لے گئی جب وہ پریس کالونی میں اکیلے دھرنے میں بیٹھا تھا۔ چھتہ بل سری نگر کا رہنے والا سمیع اللہ اپنے ہاتھ میں بینر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کیا جائے۔ تاہم پولیس نے پریس کالونی پہنچ کر نوجوان کو حراست میں لے لیا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق سری نگر سٹی کے امن وقانون اور شانتی کو برقرار رکھنے کیلئے خانیار، نوہٹہ، رعناواری ، صفاکدل اور ایم آر گنج پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 کے تحت عوام اور ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل پر پابندیاں عائد رہیں۔ ان پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں اکثر سڑکوں کو خار دار تار سے سیل کردیا گیا تھا۔ نالہ مار روڑکو خانیار سے لے کر نورباغ تک ٹریفک کی نقل وحرکت کیلئے مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ خانیار چوک، کاوڈارہ، رانگر اسٹاف، نواح کدل اور سکہ ڈافر کے راستوں کو بھی خاردار تار سے سیل کردیا گیا تھا اور ان راستوں سے کسی کو گذرنے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ اِن علاقوں کے لوگوں نے شکایت کی کہ انہیں اپنے گھروں سے باہر نہ نکلنے کیلئے کہا جارہا تھا۔ تاہم کچھ علاقوں میں راہگیروں کے شناختی کارڈ چیک کرکے انہیں آگے جانے کی اجازت دی جارہی تھی۔ سری نگر کے تمام حساس علاقوں میں کسی بھی ناخوشگوار واقع سے نمٹنے کیلئے سیکورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو بڑے پیمانے پرتعینات کیا گیا تھا۔ جنوبی کشمیر سے موصولہ رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے سبھی قصبوں میں ہڑتال سے معمولات زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئے۔اِن قصبوں میں تجارتی مراکز بند رہے اور سڑکوں پر ٹریفک کی نقل وحمل معطل رہی۔تاہم ایک رپورٹ کے مطابق سری نگر جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک کی نقل وحمل معمول کے مطابق چلتی رہی۔ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے موصولہ اطلاع کے مطابق سوپور قصبہ میں ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی متاثر رہی۔ جہاں سڑکوں پر ٹریفک کی نقل وحمل معطل رہی وہیں دْکانیں اور تجارتی ادارے بند رہے۔ شمالی کشمیر کے اس قصبے میں سیکورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا تھا۔تاہم ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے قصبہ بارہمولہ اور ضلع کپوارہ میں ہڑتال کی کال کا جزوی اثر دیکھا گیا ۔ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام اور گاندربل میں بھی ہڑتال کا خاصا اثر دیکھا گیا۔ پولیس نے احتیاطی اقدامات کے طور پر تقریباً سبھی علیحدگی پسند لیڈران کو اپنے اپنے گھروں میں نظر بند کردیا تھا۔ حریت کانفرنس (گ) ترجمان ایاز اکبر نے بتایا کہ چیرمین سید علی شاہ گیلانی کل رات سے اپنی رہائش گاہ میں نظر بند ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسٹر گیلانی کی رہائش گاہ کے باہر ریاستی پولیس اور سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مجھ سمیت محمد اشرف صحرائی اور دو دیگر لیڈران کو اپنی اپنی رہائش گاہوں میں نظر بند کیا گیا ہے۔ حریت کانفرنس (ع) کے ترجمان نے بتایا کہ چیرمین میر واعظ مولوی عمر فاروق کو کل رات اپنی رہائش گاہ واقع نگین میں نظر بند کیا گیا۔ پیپل پولٹیکل پارٹی کے لیڈر حلال احمد وار کو گذشتہ رات اْن کی رہائش گاہ واقع مائسمہ سے گرفتار کیا گیا ۔ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ ترجمان نے بتایا کہ چیرمین محمد یاسین ملک کو کل رات پولیس نے اپنی رہائش گاہ میں نظر بند کردیا۔ اس کے علاوہ دو سینئر علیحدگی پسند لیڈران شبیر احمد شاہ اور نعیم احمد خان کو بھی اپنے گھروں میں نظر بند رکھا گیا ہے۔

...


Advertisment

Advertisment