Today: Wednesday, September, 26, 2018 Last Update: 11:05 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

تر لوک پور ی میں کشیدگی جاری،حکم امتناعی برقرار

 

سست کاروائی کے الزام پرمرکزی حکومت نے دہلی پولیس سے طلب کی تفصیلی رپورٹ*وزارت داخلہ نے کشیدگی ختم کرنے کی دی ہدایت

نثاراحمدخان

نئی دہلی، 27اکتوبر(ایس ٹی بیورو) مرکزی وزارت داخلہ نے پولیس کی طرف سے مبینہ کاروائی کے الزامات کے پیش نظر مجموعی رپورٹ مانگی ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دہلی پولیس نے ہفتہ کو ایک رپورٹ بھیجی تھی، لیکن وزارت داخلہ نے اس سے کہا کہ وہ جھڑپوں کی وجوہات اور کشیدگی ختم کرنے کیلئے کئے جا رہے اقدامات وغیرہ پر ایک تفصیلی رپورٹ بھیجے اور یہ بتائے کہ کیا تہوار کے دوران تشدد بھڑکانے کی کوئی سازش تھی۔وزارت داخلہ نے دہلی پولیس کو ہدایت دی کہ وہ تشدد کو روکنے کیلئے تمام ممکن اقدامات کرے اور قصورواروں کو گرفتار کرے۔ فرقہ وارانہ تشدد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مرکز نے آج وہاں کے حالات پر ایک تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے اور دہلی پولیس کو کشیدگی ختم کرنے کیلئے تمام ہر ممکن قدم اٹھانے کی ہدایات دی۔پولیس کے مطابق جمعہ کی رات کے تشدد میں 13پولیس اہلکار سمیت 14افراد زخمی ہوئے تھے۔ہفتہ کو فرقہ وارانہ جھڑپوں کے دوران فائرنگ میں 5افراد زخمی ہوئے تھے۔تین دن کے تشددمیں 13پولیس اہلکار سمیت کل 35افراد مبینہ طور پر زخمی ہوئے تھے۔فرقہ وارانہ تشدد کے سلسلے میں 70سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس نے باہری لوگوں کو متاثر علاقے میں نہیں جانے کی ہدایت دی ہے۔آمدورفت کی پابندیوں کے چلتے علاقے کے لوگوں کو ضروری چیزوں کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اسے دیکھتے ہوئے پولیس اب ان کیلئے دودھ اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء کا انتظام کر رہی ہے۔اس پورے معاملے میں بی جے پی کے ایک سابق رکن اسمبلی کے کردار پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ کہاجارہا ہے کہ سابق ممبراسمبلی نے عوام کے جذبات کو بھڑکانے اور فسادیوں کی قیادت کی ہے جس کی بناء پر ہی یہ معاملہ اتنا طول پکڑ گیا۔ پولس کے ذریعہ یکطرفہ کارروائی کئے جانے سے ابھی بھی اقلیتی طبقے کے لوگوں میں خوف وہراس کا ماحول ہے اور لوگ اپنے گھروں سے ابھی بھی نکلنے سے کترارہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق رام سینا، آرایس ایس، وشو ہندوپریشد کے لیڈران کی پشت پناہی اورفرقہ پرستوں کو بھڑکانے کے سبب ہی فساد نے بھیانک شکل اختیار کرلی۔ ترلوک پوری فساد پر اب سیاست بھی شروع ہوگئی ہے اور سبھی سیاسی پارٹیاں اس کے ذریعہ اپنی سیاست چمکانا چاہتی ہیں۔

...


Advertisment

Advertisment