Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 04:58 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت کے واقعہ پر جمہور مفسرین پر شدید تنقید

 

مولانا سلمان حسینی ندوی نے کیا ’’آخری وحی‘‘ سے انکار ، مولانا اشرف علی تھانوی جیسے اکابر نے یہ کہا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جنّات سے بیت المقدس کی تعمیر کرارہے تھے،اسی دوران اُن کی موت ہوگئی،اس حال میں کہ آپ اپنے عصا کے سہارے کھڑے تھے اور یہ قیام پورے ایک برس تک رہا،جنّات آپ کو زندہ سمجھ کر تعمیر کے کام میں لگے رہے،مذکورہ مدت کا مولانا سلمان حسنی نے کیا انکار

محمدشاہزر خان

کیرنہ،25اکتوبر(ایس ٹی بیورو) ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاد مولانا سلمان حسینی ندوی کی حال ہی میں منظر عام پر آئی’’آخری وحی‘‘نامی کتاب کے اُس حصّہ کوعلماء نے گمراہ کن قراردیاہے جس میں مولانا نے عہد قدیم سے لیکر آج تک کے تمام مفسرین کے قول سے تجاوز کیا ہے اور نقل(روایت)کی موجودگی میں عقل کااستعمال کرتے ہوئے سیدنا حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت کے واقعہ پر جمہور مفسرین پر شدید تنقید کی ہے۔پریس کو جاری بیان میںآل انڈیا وفاق المساجد کے ضلع صدر مولانا محمد عارف قاسمی نے کہاقرآن پارہ22کی آیت فلمّا قضیناالآیہ کے تحت صحابی رسول حضرت عبد اللہ ابن عباس،حضرت ابن مسعود،جلیل القدر تابعی حضرت قتادہ،ابن تیمیہ کے شاگرد حافظ ابن کثیروغیرہ اور امام الحدیث شاہ ولی اللہ محدث دہلوی،شاہ رفیع الدین،مولانا اشرف علی تھانوی جیسے اکابر نے یہ کہا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جنّات سے بیت المقدس کی تعمیر کرارہے تھے،اسی دوران اُن کی موت ہوگئی،اس حال میں کہ آپ اپنے عصا کے سہارے کھڑے تھے اور یہ قیام پورے ایک برس تک رہا،جنّات آپ کو زندہ سمجھ کر تعمیر کے کام میں لگے رہے۔مولانا سلمان نے اس ایک سال کی مدّت پر بلا کسی حوالہ کے سخت تنقید کی ہے اور کتاب کے صفحہ61پر لکھا ہے کہ یہ لاٹھی کے سہارے قیام تھوڑی دیر ہی رہا ہے اور مفسرین نے غضب کردیا ہے(العیاذ باللہ) پریس نوٹ میں ابن کثیر جلد نمبر 3صفحہ 693،امام قرطبی الجامع لاحکام القرآن صفحہ 180اور امام سیوطی کی درمنثور صفحہ433جلد5 کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ ان مفسرین نے واقعہ کی اس تفسیر کی سند کو حد درجہ مستند قراردیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ بخاری ومسلم کی سند کا جو درجہ سے وہی اس واقعہ کی سند کا مرتبہ ہے۔مولانا عارف نے مزید کہا کہ ام المدارس دار العلوم دیوبند میں تقریباً ڈیڑھ صدی سے تفسیر کی مشہور کتاب بیضاوی اور جلالین شریف پڑھائی جاتی ہے،دونوں تفسیروں میں یہی موقف منقول ہے ،اسی طرح دار العلوم کے بعد کے تمام دینی مدارس مظاہر علوم سہارنپور،مفتاح العلوم جلال آباد ،ہردوئی اور دوسری ریاستوں میں یہی کتاب پڑھائی جاتی ہے تو کیا سب ہی مولانا سلمان حسینی ندوی کی بات کو نہیں سمجھ پا رہے ہیں،یا اس بلا دلیل کے تفرد کے سبب وہ خود ہی گمراہ ہوتے جارہے ہیں۔

 

...


Advertisment

Advertisment