Today: Wednesday, September, 26, 2018 Last Update: 10:58 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

راجدھانی کی تین اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات کا اعلان

 

25نومبر کوووٹنگ اور 23دسمبر کو ہوگی گنتی*دہلی میں سرکار بنانے کو لے کر تذبذب برقرار*ضمنی انتخابات کے ذریعہ عوام کا مزاج پرکھنا چاہتی ہے بی جے پی

نثاراحمدخان

نئی دہلی، 25اکتوبر (ایس ٹی بیورو) الیکشن کمیشن نے جموں کشمیر اور جھارکھنڈاسمبلی انتخابات کے ساتھ ہی دہلی میں خالی تین سیٹوں کیلئے بھی انتخابات کا اعلان کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے آج پریس کانفرنس کے دوران دہلی کی تینوں اسمبلی سیٹوں پر 25 نومبر کو ضمنی انتخاب کرانے کا اعلان کیا جبکہ ووٹوں کی گنتی کیلئے 23دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس اعلان سے دہلی میں اسمبلی انتخابات کو لے کر ابھی بھی تذبذب برقرار ہے۔ اب ساری نظریں دہلی انتخابات کو لے کر 28 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ واضح رہے کہ کرشنا نگر، تغلق آباد اور مہرولی سے منتخب ایم ایل اے کے لوک سبھاانتخابات میں کامیابی کے بعد استعفیٰ دینے سے یہ نشستیں خالی ہوگئی ہیں۔ ڈاکٹر ہرش وردھن، رمیش بدھوڑی اور پرویش ورما لوک سبھا کیلئے منتخب جا چکے ہیں اور الیکشن کمیشن نے 30مئی کو ان کی نشستیں خالی قرار کر دی تھیں۔ اسمبلی سیٹ 6ماہ سے زیادہ خالی نہیں ہو سکتی ہیں۔ جبکہ ایسی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت ضمنی انتخابات کے ذریعہ عوام کا موڈ بھا نپنے کی کوشش کرے گی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 5اگست کو مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرکے کہا تھا کہ وہ 5 ہفتے میں ایک مثبت فیصلہ لے اور تمام امکانات کے بارے میں غور کرے۔ ان امکانات میں دہلی اسمبلی کو تحلیل کرنا یا پھر حکومت کی تشکیل کی کوشش بھی شامل ہے۔ مرکزی حکومت کو اب 28 اکتوبر کو سپریم کورٹ کو بتانا ہوگا کہ دہلی میں اسمبلی تحلیل کی جا رہی ہے یا نہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی کی مرکز ی حکومت ان ضمنی انتخابات کے ذریعہ عوام کا موڈ جاننے کی کوشش کرے گی۔ الیکشن کمیشن نے آئینی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ضمنی انتخابات کا اعلان کیاہے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے ساتھ ہی واضح کردیاہے کہ اگر اس دوران لیفٹیننٹ گورنر انتخابات کی سفارش کر دیتے ہیں، تو ان سیٹوں پر ضمنی انتخابات نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب ضمنی انتخابات کے بعد بھی حکومت بننے کاکوئی امکان نہیں ہے۔ بی جے پی کو اگر ضمنی انتخابات میں اپنی تینوں نشستیں واپس مل جاتی ہیں تو بھی وہ پہلے کی طرح 32 نشستوں کے ساتھ اکثریت سے پیچھے رہے گی۔ اگر عام آدمی پارٹی بی جے پی سے تینوں نشستیں چھین لیتی ہیں تو اس کی نشستیں 28 سے بڑھ کر31 ہو جائیں گی۔ پھر بھی بغیر کانگریس کی حمایت کے وہ حکومت نہیں بنا پائے گی۔ کیونکہ تین میں سے دو جماعتوں کے آپس میں ملے بغیر حکومت نہیں بن سکتی اور کوئی دو جماعتیں ملنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ دوسری جانب نہ تو کسی پارٹی کے ایم ایل اے ٹوٹ کر دوسری جماعت کو حمایت دینے کی پوزیشن میں ہیں۔

...


Advertisment

Advertisment