Today: Thursday, September, 20, 2018 Last Update: 02:32 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

’’واضح اکثریت نہیں پھر بھی لوگ پیٹ رہے جیت کا ڈھنڈورا ‘‘

 

شیوسینا کے ترجمان اخبار’سامنا ‘میں بی جے پی پر حملہ،کہا،مر کز کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنے کے لئے اکیلے جدوجہد کی، ووٹ کی تقسیم کا فائدہ بی جے پی، کانگریس اور این سی پی کوملا

ممبئی20؍اکتو بر (آئی این ایس انڈیا )شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار’سامناکے اداریہ میں بی جے پی پر تنقید کی ہے۔’سامنا‘میں بی جے پی کا نام لئے بغیر لکھا ہے کہ مہاراشٹر میں اس بار بھی کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملی ہے۔باوجود اس کے جو لوگ جیت کا جشن منا رہے ہیں وہ خو ش فہمی میں جیت کا بگل بجا رہے ہیں ۔ متحدہ مہاراشٹر کے خواب کی جیت نہیں ہوئی ہے ۔آگے لکھا گیا ہے کہ شیوسینا نے مہاراشٹر کے مفاد اور سا لمیت کے لئے اور دہلی کے سامنے نہ جھکنے کے لئے اکیلے انتخابی میدان میں اتر نے کا فیصلہ کیا تھا ۔شیوسینا چاہتی ہے کہ ممبئی کی اہمیت بنی رہے۔ساتھ ہی مہاراشٹر دہلی کے سامنے بھیک ما نگنے پر مجبور نہ ہو، لیکن ایک طرف بی جے پی کی جانب سے وزیر اعظم مودی سمیت تقریبا مرکز ی وزراء کی پوری ٹیم اور دوسری طرف کانگریس اور راشٹروادی کے اقتدار کے نشہ میں مد ہو ش رہنما تھے۔دو مد ہو ش حکمراں ٹو لے سے دو دو ہا تھ کرتے ہوئے شیوسینا نے جو ہدف حاصل کیا ہے وہ اہم ہے۔’سامنا‘میں لکھا ہے کہ پنچ رخی مقابلے کی وجہ سے ووٹوں کا بٹوارہ ہوا اور اس ووٹ کی تقسیم کا فائدہ بی جے پی، کانگریس، این سی پی کو ہوا ہے تاہم شیوسینا نے اداریہ میں اپنے نظریہ سے اس انتخابی نتائج کا تجزیہ کرنے سے ابھی انکار کیا ہے اور اسے عوام پر ہی چھوڑ دیا ہے۔مہاراشٹر میں بی جے پی کے سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آنے کے ایک دن بعد شیوسینا نے آج نریندر مودی پر طنزکرتے ہوئے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران نظر آئی مو دی لہر کا طا قت سا حل پر پہنچنے سے پہلے ہی دم تو ڑ گئی۔پارٹی نے ک معلق اسمبلی اسمبلی کے درمیان مہاراشٹر کے آگے بڑھنے کے حوالے سے بھی شک کا اظہار کیا ۔شیوسینا نے کہا کہ بی جے پی، کانگریس اور این سی پی کو انتخابات میں کثیر رخی مقابلے کی وجہ سے فائدہ ملا۔اس نے رائے دہند گا ن سے سوال کیا کہ کیا وہ اس منتشر مینڈیٹ سے خوش ہیں؟پارٹی کے ترجمان اخبار’سامنا‘کے آج اداریہ میں کہا گیا ہے کہ شیو سینا بی جے پی اتحاد کے ٹوٹنے اور تمام سیٹوں پر چار پانچ رخی مقابلے کی وجہ سے بی جے پی اور یہاں تک کہ کانگریس این سی پی کو بھی فائدہ ملا۔شوسینابھاجپا اتحاد کے ٹوٹنے سے کانگریس کو فائدہ ملا۔لوک سبھا انتخابات کے نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ دونوں جماعتیں مل کر 25سے زیادہ نشستیں بھی نہیں جیت سکتی تھیں ۔اس میں کہا گیا ہے کہ شیوسینا اس پر تبصرہ نہیں کرے گی کہ وہ موجودہ نتائج کو کس طرح دیکھتی ہے، کیونکہ رائے دہندگان کی رائے اہم ہے جنہوں نے منتشر مینڈیٹ دیا ہے۔اداریہ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ کسی پارٹی کو اکثریت نہیں ملی ہے، اس لئے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ عدم استحکام کی وجہ سے ریاست کیسے آگے بڑھے گی ۔شیوسینا نے طنز کرتے ہو ئے کہا کہ لہر میں کچھ مقامات پر جھاگ زیادہ تھی اور پانی کم۔اداریہ میں مزید کہا گیا ہے کہ لوگوں نے کسی جماعت کو واضح مینڈیٹ نہیں دیا ہے۔پھر بھی اگر لوگ اپنی جیت کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں تو ہم انہیں مبارک باد دیتے ہیں۔ہم مہاراشٹر کو آگے بڑھانے کے لئے مسلسل کام کرتے رہیں گے کیونکہ شیوسینا کا قیا م ہی اسی لئے ہوا ہے۔انتخابات کے بعد کے منظر نامے پر اپنی رائے سے آگے ہم لوگوں سے پوچھنا چاہیں گے کہ کیا وہ منتشر مینڈیٹ سے خوش ہیں؟اس میں کہا گیا ہے کہ ریا ست مہارا شٹر ایک بار پھر عدم استحکام اور افراتفری کی طر ف گامزن ہورہی ہے۔ترجمان میں کہا گیا ہے کہ شیو سینا نے مضبوط اور متحدہ مہاراشٹر کی جنگ لڑا ہے۔اداریہ میں آگے کہا گیاہے کہ بی جے پی اپنے وزیر اعظم، پوری کابینہ اور یہاں تک کہ وہ اپنی زیر قیا دت دیگر ریاستوں کی حکومت سے بھی پارٹی مشینری کو مہاراشٹر میں لے آئی۔ان سب کے باوجود، شیوسینا کو ملی کامیابی کا فی اہم ہے۔انتخابی مہم کے دوران ملے ردعمل کی بنیاد پر ہم نے سوچا تھا کہ شیوسینا کو واضح اکثریت مل جائے گی ۔

...


Advertisment

Advertisment