Today: Thursday, September, 20, 2018 Last Update: 02:53 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

قیادت اور نمائندگی میں اضافہ کے بغیر مسلمانوں کی ترقی ناممکن: شاہد علی ایڈووکیٹ

 

خاندان کے ایک فرد کی نمائندگی اگر کسی ایوان میں ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف خاندان بلکہ معاشرہ بھی اس سے مستفید ہوتا * آبادی کے حساب سے اگر نمائندگی نہیں دی گئی تو ملک میں انارکی پھیل جائے گی

نئی دہلی، 20اکتوبر (یو این آئی) ملک میں مسلمانوں میں قیادت کا فقدان اور کم ہوتی نمائندگی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کے سینئر وکیل اور یونائٹیڈ مسلم فرنٹ کے چیرمین ایڈووکیٹ شاہد علی کہا کہ کسی ملک کی اس سے زیادہ بدنصیبی نہیں ہوسکتی کہ اس ملک میں اقلیتوں کو حکومت چلانے اور اس کے انتظام و انصرام میں تناسب کے لحاظ سے شراکت دار نہ بنایا جائے۔یو این آئی سے خصوصی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہندوستان سمیت تمام دنیا میں آبادی کے تناسب کے حساب سے اقلیتوں کو نمائندگی دینے کا التزام ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ ہند کو انہوں نے اس سلسلے میں ایک پٹیش ارسال کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 1939 کے اس ضابطے کو نافذ کیا جائے جس میں آبادی کے لحاظ سے اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ایوان میں ان کی باتوں کو اٹھانے والا کوئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کے ایک فرد کی نمائندگی اگر کسی ایوان میں ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف خاندان اور بلکہ معاشرہ بھی اس سے مستفید ہوتا ہے۔ انہوں نے چار نومبر 1948کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر آبادی کے حساب سے اگر نمائندگی نہیں دی گئی تو ملک میں انارکی پھیل جائے گی کیوں کہ 85فیصد ووٹ 15 فیصد ووٹ کی اہمیت کو ختم کردیں گے۔ یونائٹیڈ مسلم فرنٹ کے صدر نے کہاکہ سکھ کی آبادی 194فیصد ہے اور 9 اضلاع میں اس کی آبادی پچاس فیصد سے زائد اور عیسائی 234 آبادی ہے اور 21اضلاع میں ان کی آبادی 53فیصد سے زائد ہے اور مسلمانوں کی آبادی پندرہ فیصد ہے اور صرف آٹھ اضلاع ایسے ہیں جہاں ان کی آبادی پچاس سے زائد ہے لیکن اتنی بڑی آبادی کے باوجود ان کی نمائندگی بہت ہی کم ہے۔ انہوں نے کہاکہ یو پی مسلمانوں کی آبادی اٹھارہ فیصد سے زائد ہے لیکن پارلیمنٹ میں اس کی نمائندگی صفر ہے، جھارکھنڈ میں آبادی 14 فیصد آبادی ہے،اسی طرح راجستھان میں مسلمانوں کی آبادی دس فیصد ہے لیکن وہاں سے پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی صفر ہے۔ آسام میں مسلمانوں کی نمائندگی 30فیصد سے زائد ہے لوک سھا سیٹ 14 ہے لیکن صرف دو ایم پی ہیں۔ کیرالہ میں مسلمان 25فیصد ہیں اور لوک سبھا کی نشست 20ہے لیکن صرف تین رکن پارلیمنٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1984 میں پارلیمنٹ مسلمانوں کی نمائندگی 49تھی جب کہ اس وقت پارلیمنٹ میں محض 24 مسلمان ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس بار کا انتخاب الیکشن نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کے ووٹ کو ناکارہ کرنے کا ریفرینڈم تھا ۔یہ جمہوریت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کوویننٹ آن سول اینڈ پولٹیکل رائٹس (آئی سی سی پی آر) کے تحت کسی بھی حکومت کے لئے اقلیتوں کی حفاظت کرنا، روزگار فراہم کرنا، سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں برابر شراکت دار بنانا ہے۔ مذہبی ، لسانی اور علاقائی اقلیت کے ساتھ تعلیمی، سیاسی، سماجی، تعلیمی اور معاشرتی امتیاز نہیں کرے گی اور آبادی کے حساب سے نمائندگی دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ڈکلیریشن 2 میں کہا گیا ہے کہ اقلیتی طبقہ کو یہ مساوی حق حاصل ہے کہ وہ تذیبی، سیاسی، اقتصادی، معاشرتی اور عوامی زندگی میں برار کا شراکت حقدار ہے۔ مسٹر شاہد علی نے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 1947میں مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ ان کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جائے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسلمانوں کا قصور یہی ہے کہ انہوں نے جواہر لال نہرو کی بات پر یقین کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 1949میں بھی مسلمانوں کو تمام مساویانہ حقوق اور نمائندگی کی یقین دہانی کرائی تھی۔اس کے علاوہ پوری دنیا میں اقلیتوں کو آبادی کے لحاظ سے نمائندگی حاصل ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کو دس فیصد ریزرویشن حاصل ہے، سنگاپور یہاں تک کہ اسرائیل میں بھی عرب کے لئے سیٹ ریزرو ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے نشست مختص کرنے کے بجائے مسلم آبادی والی نشستوں کو ایس سی ایس ٹی کے لئے محفوظ کرکے مسلمانوں کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب مسلمانوں کے ہاتھ میں قیادت نہیں آئے گی اس وقت مسلمانوں کی حالت نہیں سدھرے گی۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں تمام سیاسی پارٹیوں پر مسلمانوں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی ہونے کے باوجود 2009میں کانگریس نے صرف 31امیدوار کو ٹکٹ دیا تھا جب کہ بی جے پی صرف چار مسلم امیدوار میدان میں اتارے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتوں کا استحصال اسی وقت بند ہوسکتا ہے جب انہیں تمام جگہوں پر آبادی کے لحاظ سے مناسب نمائندگی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں جمہوریت عوامی جمہوریت میں اسی وقت تبدیل ہوگی جب یہاں تمام طبقوں کو یکساں اور مساویانہ استفادہ کا موقع ملے گا اور ان کی آبادی کے لحاظ سے انہیں تمام شعبے میں نمائندگی دی جائے۔انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے ووٹ کو ناکارہ ہونے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے ووٹ کوطاقت عطا کی جائے اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب انتخابی نظام میں اصلاحات کی جائیں گی۔

...


Advertisment

Advertisment