Today: Wednesday, September, 19, 2018 Last Update: 09:48 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سرسید کا سب سے بڑا کارنامہ قوم کو صحیح راستہ دکھانا اور صحیح رہنمائی کرنا تھا

 

الیومنائی ایسوسی ایشن اے بی کے ہائی اسکول اے ایم یو کے ذریعہ منعقدہ سرسید ڈے تقریب میں ڈاکٹر شکیل صمدانی کا اظہار خیال

علی گڑھ،20اکتوبر(ایس ٹی بیورو) سرسید کا سب سے بڑا کارنامہ قوم کو صحیح راستہ دکھانا اور صحیح رہنمائی کرنا تھا، سرسید نے انیسویں صدی میں تعلیم کی جو شمع روشن کی تھی اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں بڑی مشکل سے مل سکے گی، ان خیالات کا اظہار مسلم یونیورسٹی، شعبہ قانون کے معروف استاد ڈاکٹر شکیل صمدانی نے الیومنائی ایسوسی ایشن اے۔بی۔کے۔ ہائی اسکول اے۔ ایم۔یو۔ کے ذریعہ منعقدہ سرسید ڈے تقاریب میں اپنے صدارتی کلمات میں کہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اسباب بغاوت ہند ‘‘لکھ کر سرسید نے ہندوستانیوں کو بالخصوص مسلمانوں پر بغاوت کے سلسلے میں لگے الزام کو مٹانے کا کام کیا اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب رہے۔ اس وقت ایسی کتاب لکھنا اپنے موت کے پروانے پر دستخط کرنے جیسا تھا لیکن سرسید نے وہ کام کیا اور اسی لیے انہیں ہندوستان کی تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کرلیا گیا۔ڈاکٹر صمدانی نے تعلیم کے پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرسید تعلیم کو علی گڑھ تک محدود رکھنے کے قائل نہیں تھے اور ان کی خواہش تھی کہ یہاں سے فارغ ہونے والے طلبہ علی گڑھ تحریک کو ملک کے کونے کونے تک پہنچائیں اور پورے ملک میں تعلیمی اداروں کا جال بچھائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کا جال بچھانے کے مشن کو موجودہ و ائس چانسلر لفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ضمیر الدین شاہ بڑی خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں۔کھچاکھچ بھرے کینڈی آڈیٹوریم میں طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سخت محنت کا کوئی بھی متبادل نہیں ہے اس لیے سرسید کو سچا خراج عقیدت یہی ہے کہ طلبہ اور طالبات اپنا قیمتی وقت اپنے ا ور ملک و قوم کے مستقبل کو روشن بنانے میں لگاویں۔ والدین کی قربانی کے بغیر بچوں کی ترقی بہت مشکل ہے۔ والدین اپنے بچوں کا روشن مستقبل چاہتے ہیں تو انہیں ہر حال میں ایسا کرنا ہوگا۔انہوں نے والدین بالخصوص خواتین سے گزارش کی کہ وہ اپنے کو فضولیات اور اصراف سے بچانے کی کوشش کریں اور اپنے وقت اور مالی وسائل کو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خرچ کریں۔ مہمان خصوصی عباس نیازی پرنسپل نے کہا کہ مسلم یونیورسٹی کی پہچان یہاں کی میٹھی زبان اور تہذیب ہوا کرتی تھی۔ ہمیں نہ صرف اس کو بچانے کی ضرورت ہے بلکہ دوبارہ لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے طلبہ اور طالبات سے زیادہ سے زیادہ مقابلوں میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ ڈاکٹر حشمت علی نے کہا کہ طلبہ اور طالبات کو مقابلہ جاتی امتحانوں میں حصہ لینا چاہیے۔مہمانوں کا استقبال پروگرام کے کنوینر تنویر احمد نے کیا اس موقع پر تنظیم کے نائب صدر دانش اعزاز، سکریٹری مشیر خان، شاہ رُخ شمیم و دیگر عہدے داران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر کوئز مقابلوں کے فاتحین کو نقد انعامات، یادگاری نشانات اور سرٹیفیکیٹ مہمانان کے ذریعے دیے گئے۔اس پروگرام میں بڑی تعداد میں والدین اور خواتین نے حصہ لیا اور جلسہ کو کامیاب بنایا۔

 

...


Advertisment

Advertisment