Today: Monday, November, 20, 2017 Last Update: 12:58 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

دہشت گردی اور سازشوں کا مقابلہ اتحاد و یکجہتی کے ساتھ ضروری : اصغر علی

 
دہلی،15دسمبر(پریس ریلیز)اسلام دین امن و سلامتی ہے یہ انسانیت اور اخوت و بھائی چارہ کا پیغام دیتا ہے اس میں ظلم و نابرابری ، تشدد، عدم رواداری اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص یا گروہ ناحق کسی کی عزت و آبرو اور جان و مال پر دست درازی کرتا ہے ، حکومتوں اور عوام کے خلاف ہتھیار اٹھاتا ہے اور معصوم مردوں وعورتوں اور بچوں پر جان لیوا حملہ کرتا ہے تو یہ سراسر حرام اور غیر انسانی عمل ہے۔ اس کا مذہب اسلام سے کوئی لےنادےنانہےں ہے، خواہ وہ اسلام کا نام لے رہاہو اور مسلمانوں جےسا نام رکھتا ہو، جیسا کہ داعش وغیرہ کے سلسلے میں مشہور ہے ۔یہ سب سراسرغیر اسلامی اور اسلام کو بدنام کرنے والی ، مسلمانوں، مسلم ملکوں اور انسانیت کوتہہ وبالا کرنے والی دہشت گردانہ سازشیں ہیں ۔ نفرت انگیزی سے بچتے ہوئے متحد ہوکر اس سے مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ امن وشانتی کا دور دورہ ہو ۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کیا۔ موصوف مورخہ ۳۱دسمبر ۵۱۰۲ءکو صوبائی جمعیت اہل حدیث تلنگانہ کے زیر نگرانی اور شہری جمعیت اہل حدیث سکندر آباد و حیدر آباد کے زیر اہتمام لنگر حوض حید رآباد میں منعقد ایک سمپوزیم میںکیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ داعش جیسی تنظیمیں جو انسانیت سوز حرکتیں کررہی ہیں اور جسے خلافت کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے نام پر کیا جارہا ہے جو یقینا اسلام دشمن طاقتوں اور انسانیت کے قاتلوں کی گہری سازش کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔
 ایسی تمام تنظیمیں دہشت گرد ہیں اور لائق مذمت ہیں ان کی حمایت کرنا اور کسی حیثیت سے تعاون کرنا شرعا حرام ہے۔ امت مسلمہ کے باشعور افراد کا دینی واخلاقی فریضہ ہے کہ وہ ان خطرات سے دنیا کو آگاہ کریں اور ان کی تائید و تشجیع اور مادی و معنوی حمایت سے بچانے کی کوشش کریں۔ ناظم عمومی نے کہا کہ حالیہ دنوں پیرس میں اور وطن عزیز سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں متعدددہشت گردانہ حملے ہوئے ، جن میں معصوم انسانوں کی جانیں گئیں اور املاک تباہ ہوئے ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ بلا شبہ یہ سب مذموم عمل اور انسانیت کے ماتھے پر کلنک ہیں۔ ان کا ا ستیصال اور خاتمہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ان طاقتوں کو طشت ازبام کرنا بھی از حد ضروری ہے جو داعش جےسی تنظیموں کی پشت پناہی کررہی ہیں اور ان کوخطرناک قسم کے ہتھیار ومال فراہم کررہی ہےں۔ اس موقع پر منعقد پریس کانفرنس میں ناظم عمومی نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند دہشت گردی کے سلسلہ میں واضح موقف رکھتی ہے اور شروع ہی سے ملک و معاشرہ میں امن وشانتی کے قیام کی کوشش اور دہشت گردی کی مذمت کرتی آرہی ہے ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو اس بات کی اولیت حاصل ہے کہ اس نے سب سے پہلے ۶۰۰۲ءمیں دہشت گردی کے خلاف زبر دست آواز بلند کی اور اسے عصر حاضر کا سب سے بڑا ناسور قرار دیا۔ اسی طرح جب داعش نے اپنا دہشت گردانہ بال و پر پھیلانا شروع کیا تھا مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے انسانیت کے لیے اس کی خطرناکی کو محسوس کرتے ہوئے سب سے پہلے سمپوزیم کا انعقاد کر کے داعش و غیرہ کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی اور ان کے خلاف پچاس علماءکے دستخط سے اجتماعی فتویٰ جاری کیا ۔ تب سے داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور اس کی ذیلی اکائیوں کے ذریعہ مہم جاری ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت ملک وملت اور انسانیت کے بہی خواہوں کو بدنام کرنے اور مسلمانوں کو بانٹنے اور لڑانے کی ناپاک اور مذموم کوشش کی جارہی ہے ۔ دہشت گردی کا الزام خواہ کسی کی طرف سے ہو ہم اس کی پر زور تردید اور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستا ن میں داعش کا وجود نہیں ہے، جیسا کہ وزیر داخلہ نے کہا ہے حقیقت ہے مگر مسلمانوں کے درمیان نفرت و تفریق کا ماحول پیدا کرنا سازشی عمل ہے۔ بہت سے مورخین کہتے ہیں کہ بر صغیر میں اسلام صوفیا کے مرہون منت ہے پھر ان کو ختم کرنے کی اتنی گہری سازش کیوں ہورہی ہے۔ مسلمانوں اور تمام انصاف پسندوں کو چاہئے کہ اس تضاد کو سمجھے اور لڑانے کی سازش کو ناکام بنادیں ۔واضح رہے کہ دہشت گردی مخالف یہ سمپوزیم پورے صوبہ سے آئے ہوئے ضلعی و شہری ذمہ داروں کے اہم تربیتی و تنظیمی اجتماع کی مناسبت سے منعقد کیا گیا تھا جس میں صوبائی جمعیت اہل حدیث تلنگانہ اور شہری جمعیت اہل حدیث سکندرآباد و حیدر آباد کے ذمہ داران خصوصا مولانا عبدالرحیم مکی امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث تلنگانہ ، حافظ محمد عبدالقیوم ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث تلنگانہ ، شیخ محمدیمانی نائب امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث تلنگانہ، عبدالوحید خازن صوبائی جمعیت اہل حدیث تلنگانہ، مولانا عبدالرحمن فاروقی امیر شہری جمعیت اہل حدیث سکندرآباد و حیدرآباد، مولانا شفیق احمد خان عمری ناظم شہری جمعیت اہل حدیث سکندرآباد و حیدرآباد، مولانا صفی احمد مدنی سابق امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھرا پردیش، سلطان احمد وغیرہ کے علاوہ تلنگانہ و آندھرا پردیش کی ضلعی جمعیتوں کے ذمہ داران ووابستگان بھی موجود تھے۔ 
 
...


Advertisment

Advertisment