Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 01:32 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

طاق اور جفت فارمولا:کتنافائدہ مند

 
نئی دہلی، 13دسمبر (یو این آئی) آئندہ برس یکم جنوری سے دہلی میں پرائیویٹ گاڑیوں کے لئے نافذ ہونے والا طاق اور جفت فارمولہ آلودگی میں کمی اور ٹریفک سے متعلق پریشانیوں کو کم کرنے میں کتنا کامیاب رہے گا ۔ یہ جاننے کے لئے اس فارمولے کا اطلاق کرنے کے طریقوں اور اس سے متاثر ہونے والے فریقوں کی رائے پر نظر ڈالنا ضروری ہے ۔دہلی حکومت نے دارالحکومت میں خطرناک سطح پر پہنچ چکی آلودگی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ فارمولہ نافذ کرنے کی ٹھان لی ہے ۔ اس کے مطابق دارالحکومت میں ایک دن طاق نمبر والی اور ایک دن جفت نمبر والی گاڑیاں چل سکیں گی۔ یہ نظام صبح آٹھ بجے سے لے کر شام آٹھ بجے تک کے لئے ہوگا۔ پبلک ٹرانسپورٹ ، کاروباری گاڑیوں اور خواتین کو طاقت وار جفت فارمولے سے چھوٹ دی گئی ہے ۔حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی تجربہ ہے ، کامیاب رہا تو اسے مستقل طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔ اس کے لئے دہلی آٹوموٹو قوانین میں تبدیلی بھی کی جائے گی۔ نیا قاعدہ بنتے ہی طاق اور جفت فارمولے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دو ہزار روپے یا اس سے بھی زیادہ کا جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے ۔نئے نظام کو نافذ کرنے کی ذمہ داری ٹریفک پولیس کی ہوگی لیکن اس سے اس معاملے پر کوئی رائے نہیں لی گئی ہے ۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ فیصلے کو آخرعملی جامہ کیسے پہنایا جائے گا۔ اس معاملے پر عوام کے دل میں بھی کئی طرح کے خدشات ہیں۔اسے لگتا ہے کہ اس سے دارالحکومت میں آمدورفت مزید پریشان کن ہو سکتی ہے ۔ پر دہلی حکومت نے یہ کہتے ہوئے راحت پہنچانے کی کوشش کی ہے کہ طاق اور جفت فارمولہ نافذ ہوتے ہی حکومت دہلی میں چھ ہزار اضافی بسیں چلائے گی، آٹو رکشہ کی دستیابی بڑھائے گی اور میٹرو سے سب سے زیادہ صلاحیت کے ساتھ خدمات فراہم کرنے کی درخواست کی جائے گی۔
ادھر نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے اپنی الگ ہی رائے دی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ طاق اور جفت فارمولے سے دہلی میں آلودگی کی سطح میں کمی میں لانے میں مدد نہیں ملے گی۔ لوگ دو گاڑیاں خریدنی شروع کر دیں گے ۔ بات گھوم پھر کر وہیں آ جائے گی۔ این جی ٹی نے آلودگی روکنے کے لئے ڈیزل گاڑیوں پر روک لگانے کا مشورہ دیا ہے اور اپنے تازہ حکم میں کہا ہے کہ دہلی میں نئی ڈیزل کی گاڑیوں کا رجسٹریشن بند کیا جائے اور سرکاری دفاتر میں استعمال کے لئے ڈیزل والی گاڑیاں نہیں لی جائیں۔اس نے یہ بھی کہا ہے کہ دس برس پرانی ڈیزل کی گاڑیوں کے رجسٹریشن کی تجدید نہیں کی جائے ۔ اس معاملے پر این جی ٹی میں اگلی سماعت چھ جنوری کو ہونے والی ہے ۔
دوسری طرف ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دھول، ٹرک اور دوپہیا گاڑیاں دہلی کی ہوا کو کار کے مقابلے میں زیادہ نقصان پہنچا رہی ہیں۔ہوا میں موجود آلودگی میں سے سب سے زیادہ اہم کردار سڑک پر اڑنے والی دھول ہے جبکہ گاڑیوں سے ہونے والے آلودگی میں ٹرک کی حصہ داری سب سے زیادہ ہے ۔ دہلی میں 60فیصد آلودگی پاور پلانٹ، کھانا بنانے اور باقی وجوہات سے ہوتی ہے ، جبکہ گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کی وجہ سے صرف 40 فیصد آلودگی ہوتی ہے ۔حکومت اور عدالت کے فیصلوں کے برعکس گاڑی ساز کمپنیوں کی تنظیم سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررس( ایس آئی اے ایم)نے اپنی مختلف رائے دی ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ دہلی میں کاروں کی چلانے پر جزوی پابندی اور ڈیزل گاڑیوں پر روک سے دارالحکومت میں آلودگی کی سطح کم نہیں ہوگی۔ یہ غیر سائنسی سوچ ہے ۔ 
تنظیم کا کہنا ہے کہ دہلی میں بڑھتی آلودگی کے لئے ہمیشہ کاروں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے کیونکہ ایسا کرنا آسان ہے لیکن، حقیقت یہ ہے کہ ہم بھارت اسٹیج (بی ایس) ۔4 تک آ گئے اور ہر مرحلے میں گاڑیوں سے نکلنے والے دھویں کے معیار میں بہتری آئی ہے ، اس کے باوجود شہر میں آلودگی کی سطح تقریبا وہی ہے ۔ایس آئی اے ایم نے اس تناظر میں آئی آئی ٹی کانپور کے مطالعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہلی کے مجموعی آلودگی میں کاروں کی شراکت محض 2.5 فیصد ہے اور اگر آدھی کاروں کو روزانہ سڑکوں سے ہٹا بھی دیا جاتا ہے تو اس سے آلودگی میں محض 1.25 فیصد کی کمی آئے گی جو نہ ہونے کے برابر ہے ۔اس کی بجائے اس نے پہلے بنی گاڑیوں کو ہٹانے ، ٹرکوں اور دیگر پیشہ ورانہ گاڑیوں کے لئے بی ایس ۔4 معیارنافذ کئے جانے کا مشورہ دیا ہے ۔
 
 
...


Advertisment

Advertisment