Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 01:29 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

تمباکو پیدا کرنے والے کسانوں نے باتصویر وارننگ واپس لینے کا مطالبہ کیا

نئی دہلی، 8 دسمبر (یو این آئی) تمباکو پیدا کرنے والے سیکڑوں کسانوں نے سگریٹ کے پیکٹوں پر مجوزہ باتصویر وارننگ کے نوٹیفکیشن کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے آج مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا۔ اس نوٹس میں پیکٹ کے دونوں طرف باتصویر وارننگ کو 40 فیصد سے 85 فیصد بڑھانے کی بات کہی گئی ہے ۔احتجاج کرنے والے کسانوں نے جو کہ نعرے بازی کررہے تھے اور ہاتھوں میں تختیاں لئے ہوئے تھے ، مرکزی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ تمباکو مخالف گروپ کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ غیر ملکی عناصر جنکے اپنے مفادات ہیں، ہندوستان کو تمباکو برآمد کرنے والے ملک سے تمباکو درآمد کرنے والے ملک میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ تمباکو استعمال کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے ۔احتجاج مظاہرین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 2009 میں جب سے تصویری وارننگ متعارف کرائی گئی ہے غیر قانونی سگریٹ کی فروخت میں پانچ ارب سگریٹ کا اضافہ ہوگیا جس سے سرکاری خزانے کو سالانہ 9 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ کا نقصان ہورہا ہے ۔مظاہرین نے کہا کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد غیر قانونی غیر ملکی سگریٹ کو یہ سوچ کر ترجیح دیتے ہیں کہ یہ استعمال کے لئے محفوظ ہے کیونکہ اس پر کوئی تصویری وارننگ نہیں ہوتی۔فیڈریشن آف انڈیا فارمر ایسوسی ایشن کے صدر بی وی جوارے گوڑا نے کہا کہ “ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ صحت سے متعلق 85 فیصد گرافیکل وارننگ کی تجویز پر ازسر نو غور کرے جسے غیر قانونی تنظیمیں اپنے اغراض کے لئے آگے بڑھا رہی ہیں۔مسٹر گوڑا نے متنبہ کیا کہ اگر انکا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا تو وہ اپنا احتجاج تیز کریں گے ۔کسانوں کے ایک وفد نے وزیر موصوف اور تمباکو سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ دلیپ گاندھی کو میمورینڈم بھی پیش کیا۔
 
...


Advertisment

Advertisment