Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 03:41 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

شادی سے پہلے کے معاہدے کو قانونی شکل دینے کی تیاری

نئی دہلی، 22نومبر (یو این آئی) معاشرہ میں طلاق کے واقعات میں اضافہ اور عورتوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لئے حکومت’شادی سے پہلے کے معاہدے ‘کو قانونی شکل دینے کے امکانات تلاش کر رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق خواتین و اطفال کی فلاح و بہہود کی وزارت جلد ہی اس سلسلے میں قومی سطح پر غور و خوض کا عمل شروع کر سکتی ہے ۔ شادی سے پہلے معاہدے پر ماہرین قانون کی سفارشات پر اتفاق رائے ہونے کے بعد اس سے متعلق التزامات طلاق قوانین میں شامل کئے جائیں گے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 'شادی سے پہلے سمجھوتہ' سے عورت اور مرد دونوں کو فائدہ اور سہولت ہوگی۔ ازدواجی تعلقات خراب ہونے کے بعد عورت اگر طلاق لینے کے بارے میں سوچتی ہے تو آگے کی زندگی کے تعلق سے اس میں غیر یقینی رہتی ہے اور مرد اگر طلاق لینا چاہتا ہے تو اسے غیرمناسب مطالبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس وجہ سے دونوں اپنی زندگی گھٹ گھٹ کر جیتے ہیں۔شادی سے پہلے دونوں فریقوں کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہوگا جس میں دونوں طرف کے مختلف طور طریقوں کے علاوہ جائیداد، قرض، ذمہ داری اور فرائض کی تفصیل ہوگی۔ اس کو متعلقہ افسر کے پاس رجسٹرڈ کرانا ہوگا اور اس کی قانونی حیثیت ہوگی۔ معاہدے میں طلاق ہونے کی صورت میں جائیداد کے مالکانہ حق کی بھی تفصیل ہوگی ۔'شادی سے پہلے معاہدے ' کا نظام مغربی ممالک میں اثرانگیز طریقے سے جاری ہے ۔ ہندوستان میں طلاق کا عمل نہایت پیچیدہ، طویل اور تکلیف دہ ہے جو دونوں فریقوں کے مابین کوئی معاہدہ نہیں ہونے کی وجہ سے کئی برسوں تک چلتا ہے ۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر برے اورسخت الزام لگاتے ہیں جس سے ونوں فریقوں کو ذہنی صدمہ جھیلنا پڑتا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر 'شادی سے پہلے معاہدے ' کا نظام ہندوستان میں بھی نافذ ہو جائے تو طلاق ہونے پرکئی غیرمناسب حالات کا سامنا کرنے سے بچا جا سکتا ہے ۔موجودہ حالات میں عدالتیں ایسے کسی بھی معاہدے کو مسترد کر دیتی ہیں کیونکہ ہندوستانی قوانین میں انہیں تسلیم شدہ حیثیت حاصل نہیں ہے ۔ہندوستان میں طلاق کے معاملات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں طلاق کی شرح فی ہزار پر 13 ہو گئی ہے ۔ بڑے شہروں میں طلاق کے معاملات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ سال 2010 میں ممبئی میں 5245 معاملے سامنے آئے تھے جو گزشتہ سال تک 11 ہزار 667 تک پہنچ گئے ۔ذرائع کے مطابق خواتین واطفال کی فلاح وبہود کی مرکزی وزیر مینکا گاندھی نے حال ہی میں وزیر قانون سدانند گوڈسے 'شادی سے پہلے کے معاہدہ ' کو قانونی شکل دینے کے سلسلے میں بات چیت کی تھی۔ اس سلسلے میں قانونی ماہرین، سماجی کارکنوں اور خواتین کے حقوق کے کارکنوں سے مشورے طلب کئے جا رہے ہیں۔ وزارت کی تجویز ہے کہ شادی رجسٹریشن کے وقت 'شادی سے پہلے معاہدے ' کا خاکہ جوڑے کو دیا جائے ۔
 
...


Advertisment

Advertisment