Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 05:50 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سماج کی ڈالی ہوئی زنجیر کو توڑ کر اپنے مستقبل پر نظر رکھیں طلباء

 

سرسید احمد خاں کے 197 ویں یومِ پیدائش پر تہنیتی جلسہ سے خطاب کے دوران مہمانِ خصوصی دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کی طلباء سے اپیل، طلباء کے مسائل اولین ترجیح لیکن اساتذہ کے مسائل کے تئیں بھی یونیورسٹی بے حد سنجیدہ :وائس چانسلرضمیر الدین شاہ

علی گڑھ، 17؍اکتوبر(ایس ٹی بیورو) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے 197 ویں یومِ پیدائش پر تہنیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے پروگرام کے مہمانِ خصوصی دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر مسٹر نجیب جنگ نے طلبأ سے کہا کہ آپ کے سامنے مستقبل کا سوال ہے اور آپ کو طے کرنا ہے کہ آپ خود کو، اپنی قوم کو اور اپنے ملک کو کہاں دیکھنا چاہتے ہیں، آپ کہاں تک پہنچ سکتے ہیں اس کا اندازہ آپ کو نہیں ہے۔انہوں نے طلبأ سے اپیل کی کہ وہ اپنے دماغ کی کھڑکیوں کو کھول دیں اور ایک نئے نظریہ اور نئی آنکھوں سے اپنے مستقبل کی طرف دیکھیں۔اپنے یا سماج کے ماحول نے آپ کے جو زنجیزیں ڈالی ہیں انہیں توڑ دیجئے۔گورنر جنگ نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سبھی بہترین سہولیات، شاندار عمارات، کلاس روم، لائبریری، اقامتی ہال، کھیل کے میدان، آپ کے باوقارا ساتذہ یہ سبھی ایک حد تک سود مند ہیں لیکن اصلی فارمولا تو آپ کے اندر ہے۔آپ کو ضرورت ہے ایک نئے جنون کی، ایک نئے انقلاب کی ، جو زندگی میں نیا موڑ لا سکے۔ یہ وہ جنون ہوگا جو ارجن کے تیر کی طرح مچھلی کی گھومتی ہوئی آنکھ کو دیکھے نہ کہ ادھر ادھر ہو رہی رکاوٹوں پر نگاہ رکھے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو اپنا مستقبل روشن بنانا ہے تو علامہ اقبال کے اس شعر سے ترغیب حاصل کریں:
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
چمن ا ور بھی آشیاں اور بھی ہیں
انہوں نے کہا کہ آپ کے سامنے جو بھی بیڑیاں ہیں انہیں توڑ ڈالئے، اپنے اوپر لادے ہوئے سماجی دباؤ کو ختم کردیں۔مسٹر نجیب جنگ نے کہا کہ آج ملک اورقوم کو ایک نئی آزاد خیالی کی ضرورت ہے اور اگر کہیں سے قیادت ابھر سکتی ہے تو وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ خود آپ کو اپنی طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔ آپ اپنے آپ کو کسی چھوٹے موٹے سیاسی کردار میں نہ دیکھیں،آپ کسی تحصیل یا منصف کورٹ کی وکالت کی جگہ سپریم کورٹ کی وکالت کریں۔ آپ آئی اے ایس، آئی پی ایس میں افسر بنیں۔ آپ چھوٹی موٹی جماعت کے بجائے پورے ہندوستان کی قیادت کرسکتے ہیں، اپنی قوم کی قیادت کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضرورت ہے کہ ایک نئی علی گڑھ تحریک کھڑی ہو۔ جدید تعلیم کے ساتھ جدید فکر کی بھی ضرورت ہے، ضرورت ہے ترقی پذیر سیاسی، سماجی اور مذہبی فکر کی۔ جدید فکر کے ساتھ علی گڑھ کے ایک ایک طالب علم کو انسانیت کا سچا سپاہی بن کر کھڑا ہونا ہوگا کیونکہ انسانیت سے بڑھ کر کوئی مذہب نہیں ہے، انسانیت سے بڑھ کر کوئی راستہ نہیں ہے اور انسانیت سے بڑھ کر کوئی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے طلبأ سے اپیل کی کہ اپنی یونیورسٹی کے ترانے کو ہی منتر کے طور پر سمجھ لیں۔سرسید احمد خاں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر مسٹر نجیب جنگ نے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے سرسید کو تعلیم کا پیغمبر کہا ہے لیکن تعلیم ہی نہیں سرسید کا تعاون ہر میدان میں رہا ہے اور ایک طرح سے سرسید مہاتما گاندھی کی طرح قوم کے رہنما رہے ہیں۔وہ ہندو مسلم اتحاد کی علامت تھے۔ آج علی گڑھ کے طلبأ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ سابق طلبأ اپنی ایسو سی ایشن کی شکل میں آسٹریلیا سے لے کر امریکہ تک نام پیدا کر رہے ہیں۔انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لئے دہلی میں علی گڑھ ہاؤس بنانے کے مطالبے پر کہا کہ وہ وقف بورڈ اور ڈی ڈی اے سے بات کرکے زمین مہیا کرانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیرا لدین شاہ ( ریٹائرڈ)نے کہا کہ حالانکہ یونیورسٹی کے طلبأ ان کی اولین ترجیح ہیں لیکن اساتذہ کے مسائل کے تئیں بھی وہ بے حد سنجیدہ ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ یونیورسٹی میں خالی پڑی اساتذہ کی سبھی اسامیوں کو اسی سال کے آخر تک جنرل سلیکشن کمیٹی کے توسط سے پُر کرلیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ان کی یہ کوشش ہے کہ طلبأ کو نہ صرف معیاری تعلیم مہیا کرائی جائے بلکہ ان کو روزگار کے بہتر سے بہتر مواقع بھی مہیا کرائے جائیں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ اس سمت میں جامعہ ملیہ ا سلامیہ میں اے ایم یو کا ایک پلیسمنٹ سیل قائم کیا جائے گا تاکہ علی گڑھ آنے سے معذور قومی و عالمی سطح کی کمپنیوں کے نمائندے اس پلیسمنٹ سیل میں اے ایم یو کے طلبأ کا انتخاب کر سکیں۔جنرل شاہ نے طلباأ سے اپیل کی کہ وہ2017تک اس یونیورسٹی کو ملک کی نمبر ایک یونیورسٹی بنانے کے لئے اپنا مکمل تعاون پیش کریں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی کی رینکنگ بڑھنے سے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ذریعہ دی جانے والی گرانٹ میں بھی اضافہ ہوگا۔ وائس چانسلر نے کہا کہ وہ اس بات سے واقف ہیں کہ مرکزی حکومت ملک کی تمام مرکزی یونیورسٹیوں میں یکساں داخلہ امتحان کے لئے کام کر رہی ہے ساتھ ہی انہوں نے یقین دلایاکہ یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر کسی قسم کی کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ جنرل شاہ نے کہا کہ اس سال منعقد ہونے والے سرسید ڈے ڈنر کی رقم کو طلبأ کی اپیل پر جموں کشمیر میں سیلاب کے متاثرین کی مدد کے لئے بھیجا جا رہا ہے۔پروگرام کے اعزازی مہمان مسٹر ندیم اے ترین نے کہا کہ ہر سابق طالب علم کا دل اپنے ادارے کے لئے دھڑکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل شاہ کے دور میں اس ادارہ کا ایک نیا آغاز ہو رہا ہے۔ نئی نئی عمارات بن رہی ہیں۔ ادارے کے فروغ کا کام ترقی پر ہے۔ ہم سب کو وائس چانسلر کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے اور یونیورسٹی کے فلاحی کاموں میں تعاون دینا چاہئے۔مراکش سے تشریف لائے ڈاکٹر عبدالعزیز عثمان التویجری نے کہا کہ انہوں نے ا س ملک کا لباس زیب تن کرلیا ہے اور شیروانی پہن کر آپ سے مخاطب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ا س ادارے کے تعاون کا ذکر تمام عرب دنیا میں ہے اورا س ادارے کے طلبأ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے پھوٹ ڈالو اور حکومت کرنے کی پالیسی کو نہ صرف ہندوستان میں اپنایا بلکہ پوری دنیا میں پھیلایا۔ اب ہم سب کو مل جل کر کام کرنا چاہئے اور آپسی اتحاد اور آپسی تعاون کا ماحول قائم کرنا چاہئے۔پرو وائس چانسلر برگیڈیئر ایس احمد علی ( ریٹائرڈ) نے کہا کہ 08؍اکتوبر کو مظفر نگر ضلع میں سرسید پبلک اسکول کا سنگِ بنیاد طلبأ کے ڈنر کے پیسے سے رکھاگیا ہے اور وائس چانسلر کی کوشش ہے کہ ہر علاقے میں دہلی پبلک اسکول کی طرز پر اسکول قائم کرکے علی گڑھ تحریک کا احیأ کریں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار سرسید انّوویشن ایوارڈ دئے جانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔اس موقعہ پر انٹرڈسپلنری بایو ٹیکنالوجی یونٹ کے پروفیسرا سعد اللہ خاں اورشعبۂ ریاضی کے پروفیسر مرسلین کو ان کے بے مثال تحقیقی عمل کے لئے ایوارڈ سے سرفراز کیاگیا جبکہ ایک لاکھ روپیہ کا نقد انعام نینو ٹیکنالوجی پروگرام کے تحت پروفیسر عالم ایچ نقوی اور ان کی ٹیم کو دیاگیا۔ملک بھر سے آئے طلبأ و طالبات کو کل ہند سرسید مضمون نویسی مقابلے کے انعامات سے سرفراز کیاگیا۔ اول انعام کے فاتح شاہ منیب رضا نے انعام کی پچیس ہزار روپیہ کی رقم اے ایم یو الیومنائی فنڈ میں عطیہ کردی۔ڈی ایس ڈبلیو پروفیسرا نیس اسماعیل نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر فائزہ عباسی اور ڈاکٹر شارق عقیل نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔یومِ سرسید کے موقعہ پر مہمانِ خصوصی مسٹر نجیب جنگ نے اپنے دادا حمیداللہ خاں کے نام پر بنے کمرے کے کتبہ کی رونمائی کی اور تاریخی عمارت پر کندہ ان کے پردادا کے کارناموں کو بھی دیکھا۔ سرسید اکادمی نے انہیں ان کے پردادا کا جوانی کا فوٹو اور دستاویزات پیش کئے۔ ساتھ ہی انہوں نے سرسید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔وائس چانسلر جنرل شاہ نے سرسید ہاؤس میں سرسید نمائش کا افتتاح کیا۔ ساتھ ہی سرسید کے دو دوستوں کے فوٹو کا بھی اجراء کیا۔ یونیورسٹی کی جامع مسجد میں قرآن خوانی کا اہتمام کیاگیا اور وائس چانسلر و پرو وائس چانسلر نے سرسید کے مزار پر گلہائے عقیدت پیش کئے۔

...


Advertisment

Advertisment