Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 09:26 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

حالیہ دہائیوں میں ترقی کے باوجود اسکولوں میں داخلے کا اوسط عالمی اوسط سے کم :نائب صدر

 

نئی دہلی،31مارچ(یو این آئی) نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے آج کہا ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام مجموعی طورپر اور تمام سطحوں پر تین طرح کے مسائل سے دوچار ہے اور ان مسائل کا تعلق رسائی، مساوات اور معیار سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دہائیوں میں ترقی کے باوجود اسکولوں میں داخلے کا اوسط عالمی اوسط سے کم ہے اور سماجی ، مذہبی، جماعتوں، صنف اور جغرافیائی سطح پر درسگاہوں میں داخلے کے فی صد میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے ۔پرائمری اور ثانوی درجات میں ڈراپ آؤٹ کی شرحیں مسلسل بڑھی ہوئی ہیں۔ یہاں جامعہ ہمدرد کے گیارہویں جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر حامد انصاری نے کہا کہ تعلیمی شعبہ کو بہترین تربیت، فیکلٹی کی کمی، کمزور بنیادی ڈھانچہ اور فرسودہ نصاب کا سامنا ہے ۔اسی کے ساتھ تعلیم اور ملازمت اور بااختیار ہونے کی صلاحیت کے درمیان چوں کہ براہ راست ربط ہے ، اس لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اعلی تعلیمی اداروں سے فارغ گریجویٹ طلبا کے اندر ملازمت کی صلاحیت کم پائی جاتی ہے ۔ نائب صدر نے کہا کہ جامعہ ہمدرد کے سالانہ گیارہویں کنووکیشن میں شرکت کرکے بہت خوش ہوں۔ یونیورسٹی کلینڈر میں یہ ایک اہم تاریخ ہے اورایک پرمسرت موقع ہے جس میں ہم گریجویٹ طلبا کی تعلیمی کارکردگی اور ان کی حصولیابیوں کا جشن مناتے ہیں۔ اس موقع پر آج میں بالخصوص ان طلبا کو مبارک باد دیتا ہوں جنہیں ان کی مثالی کارکردگی کے لئے اعزاز سے نوازا جارہا ہے ۔ ان کی حصولیابیوں اورخدمات ان کے اہل خانہ، ان کی یونیورسٹی اور قوم کے لئے خوشی اور فخر کا باعث ہیں۔ آج جب کہ ہم اس ان طلبا کو اعزاز دے رہے ہیں، ہم اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی کامیابی میں ان کے والدین نے کتنی سخت محنت کی ہے اور ان کے اندر کس طرح کے اقدار کی تربیت دی ہے ۔ مسٹر حامد انصاری نے کہا کہ حکیم عبدالحمید صاحب نے ایک مثالی سوچ کے ساتھ جامعہ ہمدرد کی تکمیل کے ذرائع کے طور پر ڈالی تھی۔ اسی وقت سے یہ اعلی تعلیم کے ایک اہم ادارہ کے طورپرسامنے آیا ہے ۔اس کا سہرا ان تمام حصہ داروں کی اجتماعی کوششوں کے سرجاتا ہے جنہوں نے ادارے کی ترقی میں اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ میں سید حامد صاحب کو اس ادارے کے لئے ان کی مخلصانہ خدمات کے لئے خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔نائب صدر نے کہا کہ ہندوستان چین کے بعد دنیا بھر میں کام کرنے والی آبادی کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے ۔ ایک اندازہ کے مطابق2022 تک ہماری آبادی کا 63فی صد کام کرنے والے کی عمر میں ہوجائے گا۔ نائب صدر نے کہا کہ دو باتیں انتہائی اہم ہیں ، پہلا یہ کہ تعلیمی سطحوں اور ہنرمندی کے فروغ کو حاصل کیا جا ئے ۔ دوسرا ایک ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس میں معیشت نہ صرف یہ کہ تیزی سے ترقی کرے بلکہ اچھے معیار کی ملازمت میں اضافہ بھی کرے ، روزگار کے مواقع بڑھائے تاکہ نوجوانوں اورسماج میں حاشیہ پر پڑے اور محروم طبقات کے عزئم کی تکمیل ہوسکے ۔ نائب صدر نے کہا کہ چوں کہ کاعلی تعلیم مرکزاعلی تعلیم مرکز اور ریاستوں دونوں کے دائرہ اختیار میں آتی ہے ، لہٰذا معیار کو بہتر بنانے کے مسئلے کو مستقل بنیادپر حل کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ اسی کے ساتھ ایک دوسرا پیچیدہ معاملہ نجی شعبہ میں اعلی تعلیمی اداروں کی ایک اچھی خاصی تعداد کا ظہور ہے ۔ آج ان کے یہاں طلبا کا تقریبا59فی صد داخلہ ہوتا ہے ۔ تاہم بڑے پیمانے پر وہ حکومت کے کوالٹی کنٹرول میکانزم سے باہر بنے رہتے ہیں۔ اس وقت جو ضرورتہے ، وہ یہ کہ تعلیم تک رسائی میں توسیع لائی جائے اور تعلیم کے معیار کو بہتر کیا جائے اور اس کا خرچ قابل برداشت ہو تاکہ سماج کے سبھی طبقے تعلیم حاصل کرسکیں۔ نائب صدر نے طلبا سے اپیل کی کہ وہ اپنے اندر مہارت پیدا کریں۔ انہوں نے یونیورسٹی ڈگری حاصل کرلینا علم کے تئیں ان کی جستجو کا خاتمہ نہیں ہے ۔ جیسا کہ کسی نے کہا ہے کہ مہارت کوئی منزل نہیں ہے ۔ یہ ایک مسلسل سفر ہے جوکبھی ختم نہیں ہوتا، لہٰذا اپنی بہتری اور خود اپنے سماج کی بہتری کے لئے مسلسل جد و جہد کرتے رہیں۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment