Today: Thursday, November, 22, 2018 Last Update: 01:20 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

نرسمہا راؤ کو انعام دینا چاہتی ہے مودی حکومت


سابق وزیراعظم کا مجسمہ بنانے کے منصوبہ پر اعظم خاں نے کیاتیکھاوار
لکھنؤ31مارچ(آئی این ایس انڈیا)مودی حکومت کے دہلی میں سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کی یادگار بنانے کی خبروں پر اترپردیش کے پارلیمانی امور کے وزیر اعظم خاں نے بی جے پی پر حملہ بولا ہے۔اعظم نے کہا کہ یہ راؤ کو اجودھیا میں بابری مسجد کو شہید کراکر وہاں چبوترا بنوا نے کے لئے انعام حاصل کرنا جیسا ہوگا۔خبریں ہیں کہ حکومت راؤ کی اقتصادی بہتری کے میدان میں اہم کردار کے پیش نظر انہیں یہ اعزاز دینا چاہتی ہے۔آج نے منگل کو کہا کہ میری معلومات میں آیا ہے کہ مرکزی حکومت نرسمہا راؤ کے نام پر ایک یادگار بنوانے جا رہی ہے۔یہ 1992میں آر ایس ایس کے ساتھ خفیہ معاہدہ کرکے 6دسمبر کو بابری مسجد شہید کراکے آٹھ دسمبر کو وہاں چبوترا بنوانے کا انعام ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کی کوشش یہ ہے کہ 1992میں وزیر اعظم رہے نرسمہا راؤ اور آر ایس ایس کے درمیان خفیہ معاہدے کے بعد ایودھیا میں جو ہوا، وہ تاریخ کا حصہ بن جائے اور دنیا بھر سے دہلی آنے والے سیاحوں کو اس اشتعال انگیز مسمار کا پیغام دیا جا سکے۔اعظم نے کہا کہ اس قسم کا کام معاشرے میں باہمی رشتوں کو خراب کرنے کا کام تو کر سکتے ہیں، رشتے بنانے والے نہیں ہو سکتے۔اعظم کا رد عمل میڈیا کے ایک طبقے میں آئی اس خبر پر ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت اقتصادی اصلاحات کے میدان میں راؤ کے اہم کردار کے پیش نظر دہلی میں ان کی ایک یادگار بنانا چاہتی ہے۔ دریں اثنا ان خبروں کے درمیان کہ مرکزی حکومت اقتصادی اصلاحات کے میدان میں سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کے اہم کردار کے پیش نظر دہلی میں ان کی ایک یادگار بنانا چاہتی ہے، اتر پردیش کے پارلیمانی امور کے وزیر اعظم خاں نے کہا ہے کہ یہ راؤکواجودھیا میں بابری مسجد کو شہید کرواکروہاں مندر کا ڈھانچہ بنوا دینے کے لئے ’ اعزاز سے نوازنا ہوگا۔خاں نے آج یہاں جاری بیان میں کہا، ’میرے علم میں آیا ہے کہ مرکزی حکومت نرسمہا راؤ کے نام پر ایک یادگار بنوانے جا رہی ہے۔یہ سال 1992میں آر ایس ایس کے ساتھ خفیہ معاہدہ کرکے 6دسمبر کو بابری مسجد کو شہید کر وا کرآٹھ دسمبر کو وہاں چبوترا بنوا دینے کاانعام ہے۔‘انہوں نے مزید کہا، ’مرکزی حکومت کی کوشش یہ ہے کہ 1992میں وزیر اعظم رہے نرسمہا راؤ اور آر ایس ایس کے درمیان خفیہ معاہدے کے بعد ایودھیا میں جو ہوا، وہ تاریخ کا حصہ بن جائے اور دنیا بھر سے دہلی آنے والے سیاحوں کو اس شرمناک مسماری کا پیغام دیا جا سکے۔‘خاں نے کہا کہ اس قسم کے کام سماج میں آپسی رشتوں کو خراب کرنے کاکام تو کر سکتے ہیں، رشتے بنانے والے نہیں ہو سکتے۔خاں کا ردعمل میڈیا کے ایک طبقے میں آئی اس خبر پر ہے جس میں کہاگیا ہے کہ مرکزی حکومت اقتصادی اصلاحات کے میدان میں راؤ کے اہم کردار کے پیش نظر دہلی میں ان کی ایک یادگاربنانا چاہتی ہے۔خبروں کے مطابق، مرکزی شہری ترقی کی وزارت نے ’ایکتا استھل سمادھی‘ احاطے میں راؤ کی یادگاربنانے کے لئے ایک تجویز گزشتہ ہفتے مرکزی کابینہ کے سامنے اس کی منظوری کے لئے بھیجی ہے۔

...


Advertisment

Advertisment