Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 02:16 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

ملک میں صحت خدمات کی حالت نہایت خراب : امرتیہ سین

 

نئی دہلی ۔ 17 اکتوبر (یو این آئی) نوبل انعام یافتہ معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر امرتیہ سین کا کہنا ہے کہ ملک میں صحت خدمات کی حالت نہایت خراب ہے کیونکہ اس شعبہ کو بہت زیادہ نظرانداز کیا گیا ہے اور حکومت بھی اس پر بہت کم پیسے خرچ کرتی ہے۔بھارت رتن اعزازسے نوازے گئے ڈاکٹر سین نے گزشتہ شام یہاں نالندہ بین الاقوامی یونیورسٹی کی اہمیت پر منعقدہ اپنے لیکچر میں یہ بات کہی۔ وہ اس یونیورسٹی کے چانسلر ہیں۔ یونیورسٹی نے نالندہ لیکچر کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے تحت ڈاکٹر سین نے کل پہلا لیکچر دیا۔ڈاکٹر سین نے کہاکہ ہندوستان صحت خدمات پر مجموعی گھریلو پیداوار کا محض ایک فیصد خرچ کرتا ہے جبکہ چین تین فیصد خرچ کرتا ہے اور دنیا کا اوسط اس سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی معیشت صحت خدمات سے جڑی ہوتی ہے اور ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی ترقی پذیر ممالک میں صحت خدمات پر توجہ نہ دیکر صرف ترقی پر توجہ مرکوز رکھی۔مسٹر امرتیہ سین نے قدیم دور میں نالندہ یونیورسٹی میں صحت سے متعلق تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس زمانے میں ایک چینی طالب علم نے ہندوستان اور چین کے طبی نظام کی تقابلی تحقیق بھی کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی میں پھوٹ ڈالنے والی طاقتوں کے خلاف مربوط طریقے سے بتایا جاتا ہے نئی نالندہ یونیورسٹی بھی اس پر زور دے گی۔ انہوں نے کہاکہ آج کے اخبارات تشدد کی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں ہمیں ملک کی سرحدوں سے پریجا کر امن اور خوشحالی کی ضرورت ہے ۔ یہ یونیورسٹی اس سمت میں بھی کام کرے گی۔یہ دریافت کئے جانے پر کہ ہندوستان کی یونیورسٹیاں عالمی رینکنگ میں نہیں آتیں تو ڈاکٹر سین نے کہاکہ تعلیم میں معیار تو ضروری ہے پر رینکنگ کا طے کرنا ایک تکنیکی مسئلہ ہے ۔انہوں نے اس یونیورسٹی کے قیام میں سابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈروں کے تعاون کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت بھی ہماری کافی مدد کررہی ہے اور وزیر خارجہ سشما سوراج تو خود نالندہ یونیورسٹی آئی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ برس سے یہاں پبلک ہیلتھ کیئر اور اکونومکس منیجمنٹ کی تعلیم بھی شروع کی جائے گی۔یونیورسٹی کے چانسلر گوپال سبھروال نے کہاکہ یہ ملک کی ایسی یونیورسٹی ہے جہاں زیرزمین پانی کی جگہ بارش کے پانی کا استعمال کیا جاتا ہے اور یونیورسٹی کی تعمیر کے لئے اینٹیں بھی نزدیک کی مٹی سے خود بنائی جارہی ہیں۔ اتنا ہی نہیں ہم مقامی کسانوں کیمسائل حل کرنے کیلئے ان سے رابطہ قائم کئے ہوئے ہیں۔تقریب کی صدارت کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے اس یونیورسٹی کی تعمیر کے لئے پیش کئے گئے بل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح یہ بل راجیہ سبھا میں اتفاق رائے سے پاس ہوا ۔

...


Advertisment

Advertisment