Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 04:53 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اردو، عربی و فارسی زبانوں کی لازمیت ختم کرنے کا معاملہ گورنرہاؤس پہنچا

 

مارک شیٹ میں ان زبانوں کے پوائنٹس شامل کئے جانے سے انہیں فائدہ ہوتا تھا،یہ سینکڑوں طلباء کے ساتھ دھوکہ ہے:سلیم بیگ

لکھنو30مارچ (آئی این ایس انڈیا)اردو عربی اور فارسی زبانوں میں پڑھنے والے مدرسہ کے طلبا کو اعلی تعلیم دلانے کے مقصد سے اترپردیش کی راجدھانی لکھنومیں قائم کی گئی خواجہ معین الدین چشتی اردو عربی، فارسی یونیورسٹی میں اردو، عربی اور فارسی کی لازمیت ختم کئے جانے کامعاملہ اب گورنرہاؤس پہنچ گیا ہے۔یونیورسٹی کی سپریم ایگزیکٹو کونسل کی21ستمبر 2012کو ہوئی میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں کو پلٹتے ہوئے اردو، عربی اور فارسی کی لازمیت ختم کرنے اور ان میں حاصل پوائنٹس کو خط میں نہ شامل کرنے کابندوبست بنائے جانے کی شکایت گزشتہ دنوں گورنر رام نایک سے کی گئی۔گورنر نے معاملے پر غور کرکے مناسب کارروائی کی بات کہی ہے۔انہوں نے گزشتہ دنوں راجبھون میں منعقد پروگرام میں کہاکہ اس معاملے پر غور کیا جائے گا اور رکاوٹ ملنے پر کارروائی کی جائے گی۔آر ٹی آئی کارکن سلیم بیگ نے ریاست کی یونیورسٹیوں کے حوالے سے گورنر نایک سے گزشتہ 10مارچ کو کی گئی شکایت میں کہا ہے کہ یونیورسٹی کی مجلس عاملہ کونسل کی 21ستمبر 2012کو ہوئی پچھلی میٹنگ میں طالب علم اور طالبات کے داخلے کے وقت اردو، عربی یا فارسی کی معلومات کے امتحان لینے اور ان زبانوں کو لازمی موضوع کے طور پر شامل کر کے حاصل کئے گئے نمبروں کو مارک شیٹ میں دوسرے موضوعات کی طرح شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن یونیورسٹی کے موجودہ انتظامیہ نے سپریم کونسل کے ان فیصلوں کو غیر قانونی طریقے سے پلٹ دیا۔انہوں نے شکایت میں کہا کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر خان مسعود احمد نے گزشتہ سال 10جولائی کو ایک پریس کانفرنس کرکے اردو، عربی اور فارسی موضوع کو ضروری موضوع کے طور پر لینے کی لازمیت ختم کرکے ہندی اور انگریزی میں بھی تدریسی کام شروع کرنے اور اردو، عربی یا فارسی موضوع کے پوائنٹس کو مارک شیٹ میں نہ شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔احمدنے کہا کہ انہوں نے یونیورسٹی کی بھلائی کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے اور ان کا ارادہ یہ ادارے کو جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طرز پر آگے بڑھانا ہے۔بیگ نے کہا کہ اردو، عربی، فارسی یونیورسٹی کھولنے کا مقصد مدرسوں سے پڑھ کرنکلنے والے طالب علم وطالبات کو ان زبانوں کے ذریعے اعلی تعلیم حاصل کرنے کا موقع دینا تھا۔مارک شیٹ میں ان زبانوں کے پوائنٹس شامل کئے جانے سے انہیں فائدہ ہوتا تھا، لیکن اس نظام کو ختم کر دیا گیا۔یہ سینکڑوں طلباء کے ساتھ دھوکہ ہے۔ادھر یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر انیس انصاری نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اردو، عربی اور فارسی کی لازمیت ختم کی ہے، جو اس کے قیام کے اصل مقصد کے مطابق نہیں ہے۔بہرحال گورنر رام نایک نے اس شکایت پر یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ غور کریں گے ۔

...


Advertisment

Advertisment