Today: Thursday, November, 22, 2018 Last Update: 01:44 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

خالی ہیں غریب خاندانوں کے بچوں کیلئے مخصوص نشستیں


رائٹ ٹوایجوکیشن کے نفاذکوپانچ سال گذرگئے،لیکن پرائیوٹ اسکولوں میں داخلہ نہیں
نئی دہلی28مارچ (آئی این ایس انڈیا)رائٹ ٹو ایجوکیشن قانون کو نافذ ہوئے 5سال ہو چکے ہیں۔اس قانون کے مطابق پرائیویٹ اسکولوں کو اپنے یہاں کل نشستوں کی ایک چوتھائی پر غریب خاندانوں کے بچوں کوا یڈمشن دینا ہوتا ہے، مگر آج تک یہ ممکن نہیں ہو پایا ہے۔2009 میں پاس ہونے کے اگلے سال ہی یہ قانون نافذ ہو گیا تھا، مگر ان مخصوص نشستوں میں ایک تہائی سے بھی کم نشستیں 2013-14میں بھری گئیں۔یہ معلومات سینٹر فار پالیسی ریسرچ اور طریقہ سینٹر فار لیگل پالیسی کے مرکزی اسکوائرفاؤنڈیشن اور آئی آئی ایم احمد آباد کی طرف سے کروائی گئی تحقیق سے ملی ہے۔ریسرچ سے واضح ہوا کہ اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کے لئے آر ٹی ای کے تحت محفوظ 2140287نشستوں میں سے صرف 29فیصد ہی پر ہوئی تھیں۔یہ معلومات فروغ انسانی وسائل کی وزارت اور ریاستوں سے ملی ہے۔اس میں صاف ہواہے کہ دہلی میں 92 فی صد ۔ مدھیہ پردیش88 فی صد۔اور راجستھان میں69 فی صد سیٹیں پر ہوتی ہی۔یہ ایسی ریاستیں ہیں جہاں حالات ملک کے دیگر ریاستوں کے مقابلے میں بہت اچھے ہیں۔مگر ملک کی نو ریاستوں میں تو 20فیصدسے بھی کم نشستیں پر ہوتی ہیں۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومتیں بھی اسے لے کر سنجیدہ نہیں ہیں اور پرائیویٹ اسکول بھی زیادہ دلچسپی نہیں دکھا رہے۔ان میں سے آندھرا پردیش ، اڑیسہ اور اترپردیش کی حالت بہت زیادہ خراب ہے۔تمل ناڈو اور مہاراشٹر جیسے نسبتا ترقی یافتہ ریاستوں میں بھی بالترتیب 11.25فیصد اور 19.35سیٹیں ہی بھری ہیں۔ ایک اخبار سے بات چیت کے دوران نیشنل یونیورسٹی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈا یڈمنسٹریشن میں پروفیسر نلنی جنیجا نے کہا کہ آرٹی ای کے سیکشن 1-C( 25 فیصد ریزرویشن کی فراہمی)کے تحت جو سوشل انجنیرنگ اور معاشرے کے طبقات میں تفریق مٹانے کا جو مقصد تھا، وہ مکمل طور پر حاصل نہیں ہو پایا ہے۔سروے میں 2013-14کے لئے ریسرچ کیا گیا،کیونکہ اسی سال تمام ریاستوں میں اس قانون کو نافذ کیا گیا تھا۔ آشیش دھون کا کا کہنا ہے آر ٹی آئی کے 5سالوں بعد بھی ریاستوں نے اس بارے میں صاف ضوبط نہیں بنائے ہیں۔اگر اس اصول کو صحیح طریقے سے نافذ کیا جائے تو پورے ملک میں 1.6کروڑ بچوں کو اچھی تعلیم کا موقع مل سکتا ہے۔یہ اعداد و شمار اتنے خراب اس لئے بھی ہے کیونکہ پرائیویٹ اسکول غریب بچوں کوا یڈمشن دینے سے بچ رہے ہیں۔بچوں کی تعلیم کے لئے ایک تنظیم چلانے والی این نمالا کہتی ہیں کہ دارالحکومت دہلی میں بھی اسکولوں کا رویہ ایسا ہی ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment