Today: Wednesday, September, 26, 2018 Last Update: 10:01 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

متنازعہ تحویل ارا ضی بل کسی حال میں منظور نہیں:سچن پائلٹ


جے پور، 28؍مارچ(آئی این ایس انڈیا )کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش اور راجستھان ریا ستی کانگریس صدر سچن پائلٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو کسان مخالف بتاتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ کانگریس متنازعہ تحویل اراضی بل کو کسی بھی حال میں منظور نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کانگریس تحویل اراضی قانون 2013کواس کی اصلی شکل میں رکھنے کے لئے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔کانگریس لیڈروں نے کہا کہ 22؍مارچ کو ’من کی بات‘ پروگرام میں وزیر اعظم نریندرمودی نے تحویل اراضی قانون میں ترمیم کرنے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی تھی ۔جے رام رمیش اور پائلٹ نے آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں مشترکہ پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ بی جے پی نے انتخابی تشہیر میں لئے گئے چندے کے بدلے میں پانچ چھ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے اور ان چند لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے تحویل اراضی قانون 2013میں ترمیم لے کر آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم لوک سبھا میں تو منظور ہو گئی ہے لیکن راجیہ سبھا میں ان کامنظور ہوناناممکن ہے۔جے رام رمیش نے کہا کہ کانگریس سمیت 14 سیاسی پارٹیاں ان ترامیم کی کھلے طور پر مخالفت کر رہی ہیں۔بی جے پی کے بھی کئی لیڈران مجھ سے ملے ہیں اور انہوں نے اس متنازعہ بل کی مخالفت جاری رکھنے کی بات کہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے خیالات سے جڑے گووند آ چاریہ اور این ڈی اے میں شامل شیوسینا ترامیم کی مخالفت کر رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس نے بھی قانون میں ترامیم کی مخالفت کی ہے لیکن اب لگتا ہے کہ کچھ وقت کے لئے مودی حکومت اور آر ایس ایس میں سیز فائر کا معاہدہ ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا، لیکن یہ سمجھوتہ مختصر مدتی ہے دیرپا نہیں۔ جے رام رمیش نے کہاکہ آج صبح جب میں جے پور آنے کے لئے ہوائی اڈے پر تھا اس وقت مرکزی وزیر نتن گڈکری اور وینکیا نائیڈو ناگپور جا رہے تھے، ہو سکتا ہے کہ دونوں وزراء اس مسئلہ پر بات چیت کے لئے ناگپور جا رہے ہوں ۔سابق مرکزی وزیر پائلٹ اور جے رام رمیش نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کی طرف سے پارٹی صدر سونیا گاندھی کو لکھے خط جس میں انہوں نے ترامیم پر بحث کرنے کی پیشکش کی ہے،طفلانہ حرکت بتاتے ہوئے کہا کہ وہ بغیر بحث کئے ترمیم لے کر آ گئے اور انہیں لوک سبھا میں منظور کروا لیا اور اب بحث اور با ت چیت کی پیشکش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس نے تحویل اراضی قانون 2013کو سیاسی، غیر سیاسی کسان فورموں ، لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں لمبی بحث اور با ت چیت کے بعد منظور کروایا تھا۔جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ’من کی بات‘ میں ذکر کیا ہے کہ تحویل اراضی قانون کے تحت13ہ قانون کو لایا گیا ہے۔وہ اس کام کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہے حالانکہ یہ مکمل طورپر غلط ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں اس امید کا اظہار کیا کہ ہو سکتا ہے اس مسئلہ پر حکومت لوک سبھا اور راجیہ سبھا کا مشترکہ اجلاس بلائے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ تیسرا موقع ہوگا جب دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے سال 1962میں جہیز کے قانون میں ترمیم کے لئے، سال 2002میں پوٹا قانون کو لے کر اور ایک بار بینکنگ قانون میں ترمیم کے لئے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کا مشترکہ اجلاس بلایا جا چکا ہے۔پائلٹ نے کہا کہ ایسا 8 مہینوں میں کیا ہو گیا کہ بی جے پی کو تحویل اراضی قانون 2013میں ترمیم کرنے کی ضرورت پیش آگئی ، پہلے یہ قانون بنتے وقت انہیں لوگوں نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں تالیاں بجائی تھیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو بتانا چاہئے کہ8 مہینوں میں اپنانظریہ کیوں بدلا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس زمین مافیاؤں کو روکنے کے لئے یہ قانون لے کر آئی تھی تاکہ کسانوں کا حق باقی رہے۔انہوں راجستھان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں صنعت کاری کے لئے 72ہزار ایکڑ زمین کو ایکوائر کیا گیا تھا جس میں سے صرف 54 ہزار ایکڑ زمین ہی الاٹ کی گئی ہے اور اس میں سے صرف 12 ہزار ایکڑ زمین پر اکائیاں لگائی گئی ہیں باقی زمین ایسی ہی پڑی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس کافی مقدار میں زمینیں ہیں اور بہت سی بنجر زمین بھی ہے اس کے باوجود اس کی نظر کسانوں کی زمین پر ہے۔پائلٹ نے کہا کہ کانگریس اس متنازعہ بل کو لے کر اسمبلی کے سامنے بڑے پیمانے پر مظاہرہ کر چکی ہے اور یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک حکومت اس بل کو واپس نہیں لے لیتی۔جے رام رمیش نے متنازعہ تحویل اراضی بل میں سڑک، نقل و حمل اور جہاز رانی کے مرکزی وزیر نتن گڈکری کے کردارپر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بل کے بارے میں صدر کی طرف سے طلب کی گئی معلومات لے کر ان کے پاس گئے تین وزراء میں گڈکری بھی شامل تھے۔ انہوں نے ہی کانگریس صدر سونیا گاندھی کو ترمیم کے حوالے سے بحث اوربا ت چیت کرنے کا خط لکھا ہے آخر کیا بات ہے۔انہوں نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ جن کا اس بل سے تعلق ہے وہ وزیر کہیں نظر ہی نہیں آ رہے ہیں۔ آخر ماجرا کیا ہے؟انہوں نے جاننا چاہا کہ گڈکری جی اس میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہیں۔سینئر کانگریسی لیڈر نے کہا کہ تحویل اراضی قانون 2013میں کی گئی ترمیم کو ہم منظور نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ شہر کاری اور صنعت کاری کے حق میں ہم بھی ہے لیکن ایسا کسان کو برباد کر کے نہیں کیا جا سکتا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment