Today: Tuesday, November, 20, 2018 Last Update: 09:26 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

بجلی پروجیکٹوں کی واپسی پر جموں وکشمیر کی اسمبلی میں زبردست ہنگامہ آرائی

 

جموں،27 مارچ (یو ا ین آئی) ریاست جموں وکشمیر کی اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں جمعہ کے روز این ایچ پی سی سے ریاست کو بجلی پروجیکٹوں کی واپسی کے معاملے پر زبردست شورشرابہ اور ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔ایوان زیریں میں اپوزیشن جماعتوں نے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں اس قدر ہنگامہ آرائی کی کہ رواں اسمبلی اجلاس کے دوران پہلی بار ایوان کی کاروائی تین مرتبہ ملتوی کرنا پڑی۔بعض میڈیا رپورٹوں کے مطابق مرکزی وزیر مملکت برائے بجلی نے کل پارلیمنٹ میں کہا کہ این ایچ پی سی کے زیر کنٹرول بجلی پروجیکٹ جموں وکشمیر کو واپس نہیں کئے جاسکتے ہیں کیونکہ اس راہ میں مالیاتی و قانونی دشواریاں حائل ہیں۔قابل ذکر ہے کہ پی ڈی پی اور بی جے پی نے ریاست میں چھ سال تک حکومت چلانے کیلئے جو کم از کم مشترکہ پروگرام مرتب کیا ہے اُس میں این ایچ پی سی سے ریاست کو بجلی پروجیکٹوں کی واپسی کی بات کہی گئی ہے ۔ جمعہ کی صبح حسب معمول جوں ہی ایوان زیریں کی کاروائی شروع ہوئی تو ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی وزارت بجلی کی جانب سے بجلی پروجیکٹوں کی واپسی سے انکار کا معاملہ اٹھایا۔انہوں نے ایوان میں کہا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی حکومت کم از کم مشترکہ پروگرام پر بھی عمل پیرا نہ ہوسکی۔ انہوں نے حکومت سے مخاطب ہوکر کہا کہ ‘‘آپ کا کم از کم مشترکہ پروگرام کہتا ہے کہ این ایچ پی کے زیر کنٹرول بجلی پروجیکٹ ریاست کو واپس دلائے جائیں گے ۔ گورنر نے بھی اپنے خطاب میں ایسا ہی کہا۔ آپ لوگوں کو بیوقوف بنا رہے ہو۔ ایسی دھوکہ دہی نہیں چلے گی۔’’کانگریس سے وابستہ ممبران اسمبلی نے بھی نیشنل کانفرنس کے اراکین کا ساتھ دیا جس کے نتیجے میں ایوان میں زبردست شورشرابہ اور ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھنے کو ملے جس کے بعد اسپیکر کویندر گپتا نے ایوان کی کاروائی دس منٹ کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ جب ایوان کی کاروائی دوبارہ شروع ہوئی تو ریاستی وزیر برائے باغبانی نے ایوان میں کہا کہ حکومت اپنی چھ سال کی مدت کے دوران کم ازکم مشترکہ پروگرام میں شامل تمام وعدؤں کو پورا کرے گی۔انہوں نے بھروسہ دلایا کہ ریاستی حکومت مرکزی سے بجلی پروجیکٹ واپس حاصل کرے گی۔ نائب وزیر اعلیٰ نرمل سنگھ جو محکمہ بجلی کی وزارت سنبھالے ہوئے ہیں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس بجلی پروجیکٹوں کی واپسی کو یقینی بنانے میں ناکام ہوئیں لیکن میں انہیں یقین دلاتا ہوں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار بجلی پروجیکٹوں کی واپسی کو ضرور یقینی بنائے گی۔تاہم نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے اراکین جوابات سے مطمئن نہیں ہوئے اور ویل میں آکر حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرنے لگے ۔ احتجاجی اراکین نے سوالوں کے کتابچے اور حکومت کے سرکاری جوابات پھاڑ دیئے ، جس کے بعد اسپیکر نے مارشلوں کو احتجاجی اراکین کو باہر نکالنے کی ہدایت دی۔ احتجاجی اراکین کو باہر نکالنے کے دوران نیشنل کانفرنس کے ایک رکن عبدالمجید لارم کو معمولی نوعیت کی چوٹ بھی آئی ۔ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کے لگاتار احتجاج کے بعد اسپیکر مسٹر گپتا نے ایوان کی کاروائی سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردی۔ دوسری جانب ایوان بالا میں بھی بجلی پروجیکٹوں کی ریاست کو واپسی کا معاملہ چھایا رہا۔ نیشنل کانفرنس کے قانون ساز کونسل اراکین نے معاملے پر ایوان میں زبردست ہنگامی آرائی اور نعرہ بازی کی جس دوران ایوان کی کاروائی دو مرتبہ ملتوی کرنا پڑی۔دریں اثنا اسمبلی کمپلیکس کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ بحیثیت اپوزیشن اُن کی جماعت پی ڈی پی اور بی جے پی کے کم از کم مشترکہ پروگرام میں عوام سے کئے گئے وعدؤں کو لے کر حکومت کو جوابدہ بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘ہمیں بحیثیت اپوزیشن ایک کلیدی رول نبھانا ہے ’’۔مسٹر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت ریاست کے لوگوں کو بیوقف بنارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے حکومت نے دعویٰ کیا کہ بجلی پروجیکٹ عنقریب ریاست کو واپس ملیں گے اور صرف حتمی اعلان لینا باقی ہے ۔ مسٹر عبداللہ نے کہا کہ کل ہی پی ڈی پی ممبر پارلیمنٹ طارق حمید قرہ نے بجلی پروجیکٹوں کی ریاست کو واپسی کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا ۔
اور مرکز نے اپنے جواب میں کہا کہ کچھ قانونی و مالیاتی دشواریوں کی وجہ سے بجلی پروجیکٹ ریاست کو واپس نہیں کئے جاسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت لوگوں کو کیونکر بیوقوف بنارہی ہے ؟ بجلی پروجیکٹوں کی واپسی کے معاملے پر گورنر سے جھوٹ کیونکر بلوایا گیا؟ قابل ذکر ہے کہ 25 مارچ کو نیشنل کانفرنس کے قانون ساز کونسل رکن بشیر احمد ویری کی جانب سے اُٹھائے گئے سوال کے جواب میں ریاستی وزیر برائے باغبانی عبدالرحمان ویری نے قانون ساز کونسل میں کہا تھا کہ ریاست میں بجلی کا بحران ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس کے حل کے لئے حکومت کوشاں ہے ۔انہوں نے ایوان کو بتایا تھا کہ ریاست کو ڈول ہستی،سلال اوراوڑی اول پن بجلی پروجیکٹوں کی منتقلی کے لئے کام جاری ہے ۔ جبکہ وزیر مملکت برائے بجلی محمد اشرف میر نے بنیادی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ سال 2010-11ء کے دوران این ایچ پی سی سے 2472.73کروڑ روپے ریاستی آبی وسائل کے استعمال کئے گئے حاصل کئے گئے ۔ وزیر موصوف نے کہا تھا کہ ریاست کو بجلی پروجیکٹوں کی منتقلی کے امور پر غوروخوض کیلئے کابینہ سب کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس نے 2007ء میں کی گئی ایک یاداشت کے تحت سلال،اوڑی۔اول،ڈول ہستی پن بجلی پروجیکٹ ریاست کو منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment