Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 11:33 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اقلیتوں کیلئے بی جے پی کا گمراہ کن بجٹ

 

مولانا آزاد مالیاتی کارپویشن کے فنڈ کوڈیڑھ سو کروڑ روپیہ مختص کرنے باوجود ایوا ن میں75کروڑ کا اعلان کیا گیا :محمد عارف نسیم خاں

ممبئی :26 مارچ(یو این آئی)مہاراشٹر کی بی جے پی قیادت والی حکومت نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے بجٹ اجلاس کے دوران جو اعلانات کیے تھے وہ گمراہ کن تھے اور حقیقت سے متضاد تھے یہ الزامات آج یہاں ریاست کے سابق اقلیتی بہبود وزیر و سینئر کانگریس رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان نے جاری ریاستی بجٹ اجلاس کے دوران یہاں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر مالیات نے اپنے بجٹ میں کی گئی تقریر کے دوران یہ کہا تھا کہ حکومت نے مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن کے فنڈ میں اضافہ کیا ہے اور اس کیلئے دیڑھ سو کروڑ روپیہ مختص کیئے گئے ہیں لیکن ایوان میں بجٹ کی جو رپورٹ پیش کی گئی وہ اس کے متضاد تھی اور اس میں مالیاتی کارپوریشن کیلئے جو رقم مختص کی گئی تھی وہ اعلان کی گئی رقوم سے نصف تھی یعنی کہ75کروڑ روپیہ تھی ۔ محکمہ اقلیتی بہبود ، محکمہ بجلی اور محکمہ خوراک و رسد پر منعقدہ بحث میں حصہ لیتے ہوئے نسیم خان نے مسلم ریزرویشن کا معاملہ اٹھایا اور سخت لفظوں میں بی جے پی حکومت کی مذمت کی اور کہا کہ سابقہ کانگریسی حکومت نے مختلف کمیشنوں کی سفارشات کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا تھا جسے ممبئی ہائی کورٹ نے منظور کیا تھا لیکن افسوس کہ موجودہ حکومت نے اسے ختم کر دیا اور مسلمانوں کو ریزرویشن سے محروم رکھا لہذا اسے فوری طور پر نافذ کیا جائے ۔انہوں نے پڑوس کی کرناٹک ، تمل ناڈو ریاستوں میں مسلم آبادی کے تناسب اور مسلمانوں کا سرکاری نوکریوں میں فیصد کا بھی ذکر کرتے ہوئے مہاراشٹر میں مسلم آبادی 13فیصد ہے جبکہ ان کا سرکاری نوکریوں میں تناسب محض 3 فیصد ہے نیز سابقہ حکومت نے انہیں جو پانچ فیصد ریزرویشن دیا تھا وہ ان کی پسماندگی کی بنیاد پر دیا گیا تھا اور وہ بھی ان کی آبادی کے تناسب میں کم تھا ۔ وزارت اقلیتی بہبود پر بھی احتجاج کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ سابقہ حکومت نے اقلیتوں اور مسلمانوں کیلئے جو اسکیمیں تیار کی تھیں موجودہ مالیاتی بجٹ میں اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی نئی اسکیم تیار کی گئی بلکہ پرانی اسکیموں کیلئے بھی جو رقم مختص کی گئی تھی اس میں بھی تخفیف کر دی گئی ۔ریاست کے اردو اسکولوں کا ذکر کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ مراٹھواڑہ ، ودربھ میں آج کئی اردو اسکولیں سرکاری منظوری کیلئے منتظر ہیں ان کی فائلیں دفتر شاہی میں دھول چاٹ رہی ہے لہذا اردو کی ترقی و ترویج کیلئے ان اسکولوں کو فوری منظوری دی جائے ساتھ ہی ساتھ ناندیڑ ، شولاپور اور دیگر اضلاع میں اردو شعر�أ و ادبا و دیگر کیلئے جس اردو گھر کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے اس کے تعمیری کاموں میں تیزی لائی جائے ۔محکمہ بجلی پر بھی انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ممبئی میں بجلی سپلائ کرنے والی دو بڑی کمپنیاں ریلائنس اور ٹاٹا نے بجلی کے داموں میں اضافہ کیے جانے کی حکومت کے روبرو درخواست دی ہے۔
نیز گزشتہ دو مرتبہ انہوں نے بجلی کے داموں میں اضافہ کیا ہے اور موجودہ جو بجلی کا کرایہ ہے وہ عام آدمی کی دست رس سے باہر ہے لہذا اس میں کمی کی جائے اور اضافہ کی تجویز کو فوری طور پر نامنظور کیا جائے ۔خط افلاس سے کم زندگی گزارنے والوں کیلئے سابقہ حکومت نے سستے اناج کی جو اسکیم تیار کی تھی اسے بھی فوری طور پر نافذ کرنے کا انہوں نے مطالبہ کیا ۔اسی درمیان کانگریس کی خاتون رکن اسمبلی یشومتی ٹھاکر نے بھی بجٹ میں منعقدہ بحث میں حصہ لیتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود کے فنڈ میں اضافہ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پیشہ وارانہ کورسیس کیلئے اقلیتی طلب�أ کو خصوصی مراعت دی جائے نیز مولانا آزاد مالیاتی فنڈ میں چھوٹی صنعت شروع کرنے کیلئے اقلیتی نوجوانوں کو آسان قرض دستیاب کرایا جائے ۔انہوں نے موجودہ حکومت کی جانب سے مسلم ریزرویشن ختم کیئے جانے پر بھی سخت لفظوں میں تنقید کی اور کہا کہ مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دیا گیا تھا لہذا کم از کم اسے تعلیمی معاملات میں تو اسے نافذ کیا جائے تا کہ مسلمانوں کی حالت بہتر ہو سکے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment